تازہ ترین

جموں وکشمیر میں اُردو زبان

نصابی کتابیں اور تدریسی مسائل

تاریخ    2 جون 2020 (00 : 03 AM)   


سہیل سالمؔ
موجودہ حالات میں جموں وکشمیر میں کئی طرح کی بے چینیاں پائی جاتی ہیں۔جن میں ایک بے چینی یہ بھی ہے کہ  جموں و کشمیر میں اُردو زبان کے تئیں سرکار کی عدم دلچسپی کی شکایت کا برملا اظہار ہوتا رہتا ہے۔اس کے پیچھے سرکار کی غیر واضح اور غیر منظم لسانی پالیسی ہے۔اُردو زبان کے فروغ کی کیا صورتیں ہوں گی۔تعلیم اور دوسرے معاملوں میں اُردو زبان کا کیا رول ہوگا اور ریوٹی میںلسانی فارمولے کے اطلاق کی کیا صورت ہوگی ،یہ اور اس طرح کے معاملات پر سرکار یکسر خاموش ہے۔ اُردو کو سرکاری منصب پر تو بٹھایا گیا ہے لیکن اس کے status planning کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ہماری وادی میں ابتدائی درجات کے طلبا کو اردو کی تعلیم حاصل کرنے میں جو مسائل درپیش ہیں ،ان کی فہرست خاصی طویل ہے۔ایک طرفہ اچھے تجربہ کار،ہمدرد ،بے لوث اور پر خلوض اساتذہ کا فقدان ہے تو دوسری طرف سب سے بڑی پریشانی نصابی کتابوں کی عدم فر اہمی اور عدم دستیابی ہے۔
عام طور سے ارود کی سرکاری نصابی کتابیں گھٹیا ،ردی اور بیکار قسم کے اخباری کاغذ پر شائع کی جاتی ہیں۔ایسی کتابوں کو طلباء صحیح ڈھنگ سے پڑھنے سے بھی قاصر رہتے ہیں کیونکہ ان میں کتابت و طباعت کا بھی کوئی معیار نہیں ہوتا جب کہ انگریزی کی کتابیں انتہائی نفیس ،دیدہ زیب ،بہترین ،سفید ،دبیز اور اجلے کاغذ پر شائع کی جاتی ہیں اور ان میں موجودہ تصاویر بھی بہت خوبصورت اور ملٹی کلر ہوتی ہیں جب کہ اردو کی کتابوں میں تصاویر انتہائی بھدی،گندی اور غیر واضح ہوتی ہے۔اردو کی کتابوں میں کتابت اور انگریزی کی کتابوں میں کمپیوٹر کمپوزنگ کی نفاست اور ان کے معیار میں بھی زمین اور آسمان کا فرق پایا جاتا ہے۔زمانے ،وقت ،سماجی ضرورت اور عصری حالات و تقاصوں کے تحت اردو نصاب میں کئی برسوں سے کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملتی۔یہ رویہ خاص کرجموں وکشمیر سٹیٹ بوڑ آف اسکول ایجوکیشن کی نویں ،دسویں،گیارھویں اور بارھویں کلاس کی کتابوں کے ساتھ اختیار کیا گیا ہے۔چنانچہ جونثر نگا اور شعراء نویں میں شامل کتاب ہیں، ان کو بارھویں کلاس کی کتاب میں پھر سے دہرایا گیا ہے۔اسی طرح جونثر نگاروں اور شعراء دسویں میں شامل کتاب ہیں، ان کو گیارھویں کلاس کی کتاب میں پھر سے دہرایا گیا ہے۔کیا اردو ادب کا دائرہ انتا سمٹ گیاہے؟تخلیقی ادب میں آے دن کچھ نہ کچھ تبدیلی ضرور آجاتی ہیںلیکن ان کتابوں کو ادب کے عصری تقاضوں اور وقتی ضرورتوں سے دور ہی نہیں بلکہ محروم رکھا گیا ہے۔کیا آج کے افسانے کا مزاج وہی ہے جو ساٹھ کی دہائی میں تھا ؟کیا آج کے طلب علم کو سرسیدتحریک اور ترقی پسند تحریک کے بعد ادب میںجدیدیت ،مابعدجدیدیت اور نظریات ،تجرید ،جدید افسانہ ،روایتی افسانہ اور موجود ہ دور میں لکھے جانے والے افسانے کے معیا رومزاج کو سمجھنے کا کوئی حق نہیں ؟کیا شاعری کا معیار ومزاج اور قارئین کا شعری رجحان وہی ہے جو آج سے تیس سال تھا؟کیا ہماری آج کی غزل ماضی کی روایتی غزل کے مقابلے ہمارے زندگی سے زیادہ قریب نہیں آگئی؟کیا آج کی غزل نے وسیع کینوس کے ساتھ زندگی کے ہر رنگ سے اپنے دامن کو نہیں سجالیا ہے؟کیا ان دس برسوںمیں کئی نئی شعری اصناف وجود میں نہیں آگئی ہیں؟ان سارے سوالات کا جواب یقینا اثناب میں ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ 2010 میں ترتیب دی گئی کتابوں کی آج 2020میں یعنی دس سال گرزنے کے باوجودبھی تجدید نہیں کی گئی ہے۔ہمارے ایک سابق وزیر تعلیم پروفیسر خواجہ غلام السدین رقمطراز ہیں:’’جہاں تک اسکولی نصاب کا تعلق ہے ،دانشوروں کی رائے میں ہر پانچ سال کے بعد نصاب تبدیل ہوتے رہنا چاہئے۔اس کا سبب تو یہ ہے کہ پانچ سال میں نہ صرف بچوں کے ادب کی قدروقیمت میں ترقی ہوجاتی ہے بلکہ جو نئی نسل پانچ سال بعد اسکولوںمیں آتی ہے ان کی ذہنی اور اکتسابی صلاحیتوں میں بھی تبدیلی آجاتی ہے‘‘۔(اصول تعلیم… پروفیسر خواجہ غلام السدین…ص۲۱)
اردو کی جو سرکاری نصابی کتابیں جونیئر کلاسوں کے لئے شائع کی گئی ہیں، ان میں کمپوزنگ کی غلطیاں پائی جاتی ہیں۔ان کتابوں کو شاید پروف ریڈنگ اور تصحیح جسے عمل سے کوسوں دور رکھا گیا ہے۔ان کتابوں کے صفحات کی طباعت اور تصوریں دیکھ کر کئی باریوں لگتا ہے کہ یہ سب ایک منصوبہ کے تحت کیا جاتا ہے کہ بچے یا تو اردو سیکھ ہی نہ سکیں اور اگر سیکھ بھی لیں تو اس کا معیار اتنا پست اور اس قدر گھٹیا ہو کہ اس کی کوئی عزت وقعت ہی نہ ہو۔چند اداروں کو چھوڑ کر اردو کی نصابی کتابوں کے مرتبین اور ناشرین کے پاس کتابوں کی ترتیب وتدوین کے لئے کوئی ایسا بورڑ یا پینل نہیں ہے جو بچوں کی عمر کو زمرے میں بانٹ کر اور ان کے مزاج ،رجحانات یا سماجی ضروورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک منظم طریقے سے کتابوں کی ترتیب کا کام انجام تک پہنچائے ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ نصابی کتابوں کی پانچ چھ برسوں میں جدید کاری کی جائے۔نئے موضوعات پر مضامین اور دل چسپ وبامقصد کہانیاں شامل کی جائیں۔آج کے بچے کو جدید ٹیکنالوجی اور سائنس سے متعلق مواد چاہئے۔دیکھا جاتاہے کہ برسوں پہلے جن موضوعات پر مضامین شامل نصاب تھے، و ہ تین چار دہائی بعد بھی آج کی کتابوں میں بھی موجود ہیں، بھلے ہی وہ اپنی افادیت واہمیت کھوچکے ہوں اور آج ان کی قطعی ضرورت نہ ہیں۔اکثر مر تبین بیشتر کہانیوں اور نظموں کے تخلیق کا رکے نام ،ان کی تخلیقات کے ساتھ لکھنے کے بجائے’’ماخوذ‘‘لفظ لکھ کر اپنی خود ساختہ ذمہ داری سے دست بردار ہوجاتے ہیں۔یہ بددیانتی سے زیادہ کچھ نہیں کیونکہ ہر تخلیق کے ساتھ اس کے خالق کا نام درج کرنا مرتب کارکی ذمہ داری اور اس کا فرض ہے۔سائنس اور انگریزی کی نصابی کتابوں میں یہی طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے ۔سائنس کی درسی کتابوں میں جونیئر کلاسوںسے ہی اہتمام کیا جاتا ہے کہ ہر مضمون ،کہانی،ڈرامہ،یا نظم کے مصنف کا چار یا چھ سطروں میں مختصر لیکن جامع تعارف بھی پیش کیا جائے کیونکہ اس سے بچوں کی معلومات بڑھتی ہیں اور ان کے اندر تحقیق کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔لیکن اردو کی جونیئر کلاسزکی بیشتر کتابوں کے مرتبین اس طریقہ کار سے گویا نابلداور ناواقف ہیں۔حسن اتفاق سے کسی کتاب میں مذکورہ طرز کا تعارف مل بھی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ مرتب کرنے والے نے اس کا معیار طلباکے تعلیمی معیار کے بجائے اپنی ڈگریوں کے حساب سے رکھا ہے۔اس لئے طلبا اس سے مستفید نہیں ہوپاتے۔ 
آج ضرورت ہے کہ نصابی کتابوں میں اخلاقیات ،صحت وتندرستی ،کھیل کود،جدید سائنسی ترقی اور ایجادات ،دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کے سماجی اور جغرافیائی حالات،الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی اہمیت و افادیت ،جنرل نالج ،جذبہ خیر سگالی اور ہمدردی ،آپسی میل جول،ملک کے تاریخی حالات وواقعات اورتاریخی نوعیت کی عمارات والے مضامین شائع کرنے کی طرف زیادہ توجہ دی جائے۔وہ تعلیمی ادارے، جو بچوں کے لئے درسی کتابیں ترتیب دے کر شائع کرتے ہیں، انھیں اپنے نصاب میں مذکورہ اموار کا خیال رکھنا چاہیے۔طلباء کے لئے سائنس اور انگریزی میں ہر طرح کی بہترین ریفرنس بکس اور جنرل نالج کی کتابیں ملتی ہیں لیکن اردو میں اس طرف یا تو سرے سے توجہ ہی نہیں دی گئی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ بہت پرائیوٹ ادارے عام معلومات یا جنرل نالج اور کوئزکے مقابلے کراتے ہیں جن میں ہر عمر کے طلبا بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں لیکن اسکولوں میں اردو کے تعلق سے اس طرح کے مقابلوں کا کوئی اہتمام نہیں کیا جاتا۔برسوں پہلے ،بیشتر اسکولوںو کالجوں میں بیت بازی،تمثیلی مشاعروں اور ڈراموں کا اہتمام کیا جاتا تھا،ان ذرائع سے بھی بچوں میں اردو کے تئیں دلچسپی بڑھتی تھی اور وہ اپنے اس شوق کو پورا کرنے کے لئے بچوں کے رسالے بھی کھنگا لتے تھے۔اردو کی تدریس کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ والدین کی لاپرواہی اور عدم دلچسپی کا بھی ہے جو اپنے بچوں کی انگریزی،حساب،سائنس یا دیگر مضامین کی ٹیوشن پر سینکڑوں یا ہزاروں روپے خرچ کرتے ہیں لیکن اردو کے معاملے میں ان کی یہ سوچ ہوتی ہے کہ اردو پڑھ کر کیا کریں گے۔اس طرح بہت سے بچے فطری صلاحیت ہونے کے باوجود اردو کی اچھی تعلیم حاصل نہیں کرپاتے۔اردو کی تدریس کے مسائل میں اساتذہ کا انتخاب ایک اہم مسئلہ ہے۔ایسے ماحول میں جب کہ تعلیم کا مقصد صرف روپے کماناہو،یہ مسئلہ اور بھی زیادہ سنگین اور دشورار ہوجاتا ہے۔اگر چہ دنیا کے مشکل،اہم اور قابل احترام پیشوں کا جائزہ لیا جائے تو اس میں سب سے زیادہ اہم پیشہ استاد کا ہے لیکن موجودہ دور میں اس پیشے کی جو حالت ہوچکی ہے وہ کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔استاد کا کام قوم کی تعمیر حیات اور قوم کی زندگی کو بناناسنوارانا ہے۔بچوں کی شکل میں قوم کا بیش قیمیت سرمایہ استاد کے سپرد کیا جاتا ہے، اس لیے استاد کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ ضروری اور اہم ہی نہیں بلکہ ایک مقدس کام کو اپنے ہاتھ میں لے رہا ہے۔اس پیسے کا مقصد صرف روپیہ کمانانہیں ہونا چاہیے اور ایک ایسے بڑے مقصد اور مشن کے تحت اپنی خدمات انجام دینی چاہئیں۔دنیاوی دھن دولت اور عیش وآرام اس کے مقدس کام کا معاوضہ نہیں ہوسکتے۔بہرحال استادوں،اردو اداروں ،سماجی اور ادبی تنظیموں اور خود طالب علموں کی کوشش سے اردو کی راہ میں حائل ساری دشواریوں کو رفع کیا جاسکتا ہے۔شرط صرف یہ عزم کرنے کی ہے کہ ہمیں اردو خواندگی کا دائرہ وسیع کرنا ہے۔ بقول سردار جعفری    ؎
ہماری پیاری زبان اردو
ہماری  نغموں کی جان اردو
حسین  دلکش  جوان  اردو
رابطہ : رعناواری سرینگر،موبائل نمبر:9103654553
   salimsuhail@gmail.com