تازہ ترین

بستہ ،کتابیں اور ہوم ورک نہیں، تو پھر کیا؟

اصلاحات مستحسن،متبادل کی بھی وضاحت کریں

تاریخ    2 جون 2020 (00 : 03 AM)   


ہلال احمد تانترے
کورونا وائرس لاک ڈائون کے بے شمار فائدے سامنے آرہے ہیں۔ ہمارا شعبہ تعلیم بھی اس لاک ڈائون کے چلتے زیادہ سے زیادہ فائدے حاصل کرنے کی جستجو میں ہے ۔ چنانچہ دفاتر عوامی خدمات اور نجی مسئلوںکے نپٹانے کے لئے بند ہیں اور صرف انتظامی یا ایمرجنسی کام کاج ہورہا ہے ، جس کے چلتے محکمہ تعلیم بھی اپنے اندر بہت ساری اصلاحات لانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ محکمہ کے اعلی آفسران اس کے لئے مبارک بادی کے مستحق ہیں۔ 
کئی سارے اسکولوں کے ہیڈماسٹرس کی اسامیاں کافی عرصے سے خالی تھیں، محکمہ تعلیم اُن خالی پڑی اسامیوں کو بھی اسی دوران پُر کر رہا ہے ۔ زونل ایجوکیشن افسران کی کئی ساری کرسیاں عرصہ سے خالی تھیں، ان کو بھی حتی المقدور طریقے سے پُر کر دیا جارہا ہے ۔ محکمہ کے اندر رشورت ستانی کی بدعت کا قلع قمع کرنے کے لیے انتظامی اسٹاف کا بھی ردو بدل کیا جارہا ہے ۔ ایسے ہی مزید اقدامات اٹھانے کی خبریں ابھی بھی اعلیٰ حکام کی طرف سے موصول ہو رہی ہیں۔ 
انہی اصلاحات کے چلتے محکمہ اسکولی تعلیم نے ایک زبردست فیصلہ لیا ہے۔ چنانچہ عرصہ دراز سے بچوں کے بستوں کے ا وزان کو لے کر کافی شور شرابہ اور ہنگامہ ہو رہا تھا، جس پر عدالت عالیہ میں بھی کئی بار سماعتیں ہوئی، لیکن کوئی سنجیدہ فیصلہ سامنے آہی نہیں رہا تھا۔ پرائمری درجے کے بچے کے جس بستے کا وزن ۱۵؍ یا ۲۰ ؍کلو ہوتا ہو، اس کا مطلب یہی لیا جائے گا کہ اسکول کے اندر کم سن بچے پر حد سے زیادہ جسمانی و ذہنی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ انہی مسائل کو حل کر نے کی خاطر اور اسکولی تعلیم کو بین الاقوامی معیار تک لے جانے کے لیے محکمہ اسکولی تعلیم نے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے ایک نوٹیفکیشن بتاریخ15؍ اپریل 2020 ء اجرا کی۔ اس میںکہا گیا ہے کہ؛
۱۔ دوسری جماعت تک کے بچوں کے لیے کوئی ہوم ورک نہیں رکھا جائے گا۔
۲۔ نرسری سے لے کر کر کنڈر گارڈن تک کے بچوںکے لیے کوئی باضابطہ نصاب مختص نہیں کیا جائے گا۔ اُن کے لیے دو (۲) دستی لکھائی کی کتابیںبہم کی جائیں گی جو کہ استاد کے پاس ہی رہیں گیں۔
۳۔ پری پرائمری ، یعنی کہ اول سے ایک جماعت پہلے تک کے بچو ںکے لیے کوئی بستہ نہیںہوگا۔ اول سے دوم تک کے بچوں کے بستے کا وزن زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ کلو ، تیسری سے پانچویں تک کے بچوں کے بستے تک کا وزن زیادہ سے زیادہ ۳؍ کلو، چھٹی سے ساتویں تک کے بچوں کے بستے کا وزن زیادہ سے زیادہ ۴؍ کلو ، آٹھویں سے نویں تک کے بچوں کے بستے کا وزن زیادہ سے زیادہ۵ ؍کلو اور آخر میں دسویں جماعت کے بچوں کے بستے کا وزن ساڑھے پانچ کلو سے زیادہ نہیں ہوگا۔ 
۴۔ نوٹیفکیشن میں اول جماعت سے لے کر ساتویں تک نصاب کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جس کے مطابق اول اور دوم کلاسز کے لیے لنگویج اور ارتھ میٹکس ، تیسری سے لے کر پانچویں تک لنگویج اور ارتھ میٹکس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی سائینس کا اضافہ ہوگا اور چھٹی اور ساتویں کے لیے لینگویج، سوشل سائینس، ریاضی اور سائینس کی کتابیں پڑھائی جائیں گی۔
اس نوٹیفکیشن ، جسے ہم نے چار نقطوں میں پیش کیا ہے، کو مختلف جہات میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جامعہ کشمیر میں اسکولی بچوں پر تحقیق کر رہی محققہ افنان طارق خان کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں کسی بھی ایسی پالیسی کا خیر مقدم کرنا چاہیے جس سے ہمارے بچوں کے اوپر غیر ضروری بوجھ ہلکاہوجائے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم ایسی پالیسی کو روبہ عمل لانے کے لیے تیار ہیں‘‘۔ افنان کا مزید کہا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ آیااس کے پیچھے کوئی ٹھوس تحقیق کی گئی ہے ۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ’’ ایک عام آدمی کی حیثیت سے میں سمجھتی ہوں کہ جہاں پر آپ کے اسکولوں میں بنیادی سطح کی سہولیات میسر نہیں ہیں، جہاں پر بیٹھنے کے لیے ڈھنگ کی جگہ نہیں ہے ،وہاں ایسی پالیسیاں ناکام ہوجانا یقینی سی بات ہوتی ہے‘‘ ۔ مزید سوال کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ’’ ہم جس نظام کو خیر آباد کہہ دینا چاہتے ہیں ،کیا ہمارے پاس اس کا کوئی متباد ل انتظام ہے؟۔آپ نے تو کہہ دیا کہ بچہ بستہ ساتھ نہیں لائے گا یا آپ نے پڑھائی کا بوجھ اُس پر کم کر دیا، لیکن اتنا کہہ دینے سے ہی بات نہیں بن سکتی۔ ایسے نظام میں اسکول انتظامیہ کے ساتھ ساتھ استاتذہ پر زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ لیکن ہمارے سرکاری اسکولوں کے استاد جب Lesson Plan تک ہی نہیں بناتے تو وہ کیا اس تعلیمی نظام میں بچوں کو پڑھا سکتے ہیں اور بچے کیا پڑھیں گے؟‘‘۔
 فن لینڈ کی مثال پیش کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ وہاں کے نظام تعلیم سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے اوربچوں پر بستے یا تعلیم کے بوجھ کو ہلکا کرنے کے لیے وہاں سے کچھ اچھے نتائج بر آمد کیے جا سکتے ہیں ۔ نہایت ہی اہم چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے افنان مزید کہتی ہیں کہ’’ اس نو ٹیفکیشن میں آپ تو صرف ’’نہ کرنے ‘‘(Donts)  والے کام سے متعلق کہتے ہیں، لیکن اس کے مقابلے میں کیا کیا جائے ،اس حوالے سے کوئی راہنمائی نہیں کی گئی ہے۔ اگر بچے کو کوئی کتاب ساتھ نہیں لانی ہے، تو بچے کی تعلیم کیسے عمل میں آئے، اس بار ے میں بھی ’’کرنے کو‘‘(Dos) کیا کیا جائے،اس پر زیادہ زور دینا چاہیے تھا‘‘۔ مزید کہتی ہیں کہ’’ میری انفارمیشن کی حد تک اس پر ایک قانون کے طالب علم نے عدالت میں فائل دائر کی تھی ۔ عدالت نے احکامات دئے ہوں گے، یوں الل ٹپ یہ پالیسی بنائی گئی۔ اس بارے میں یہاں کے سماج کے کئی سارے خدو خال مد نظر رکھنے چاہیے تھے، شاید اس پر کوئی کام نہیں ہوا ہے ۔ میں یہ تنقید نہیں کر رہی ہوں، واقعی میں یہ ایک زبردست قدم ہے ، لیکن کیا ہی بہتر ہوتا ،اگر اس میں ماہرین تعلیم، ماہر ین سماجیات، اساتذہ، والدین اور بچوں کی آرا کاخیال رکھا گیا ہوتا۔ ہم جن کے لیے پالیسی بنا رہے ہیں ان کی ہاں یا نا کا ہمیں کوئی خیال ہی نہیں ہے۔ آخر یہ پالیسی کس طرح کامیاب ہو سکتی ہے۔ میں بس اتنا ہی کہنا چاہوں گی کہ کوئی بھی پالیسی مرتب کرنے سے پہلے آپ کو کئی سارے پہلو مد نظر رکھنے پڑتے ہیں،اگر آپ پالیسی سے متعلق تمام عناصر کو خاطر میں لاتے ہیں، تو اس کے بعد جو بھی قدم آپ اٹھائیں گے وہ کامیاب ہی کامیاب ہوگا ‘‘۔
اس ضمن میں اگر اسکول انتظامیہ کی بات کی جائے تو ضلع کپواڑہ کے ایک پرائیویٹ اسکول کے ایڈمنسٹریٹر آصف اقبال شاہ اس سلسلے میںکہتے ہیں کہ ’’موجودہ حالات کو دیکھ کر یہ ایک خوش آئند قدم ہے اور عوامی حلقوں میں اس کی خوب پذیرائی کی گئی۔ معصوم کاندھوں پر بھاری بھر کم کتابی بستوں کی وجہ سے ہماری نو خیز نسل کے صحت پر برا اثر پڑ رہا ہے، لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں فی الوقت مطلوبہ سہولیات بالکل دستیاب نہیںہیں، جن کا سہارا لیتے ہوئے بچوں کو بہتر انداز میں پڑھایا جاسکے‘‘۔ آصف اقبال مزید کہتے ہیں کہ’’ یہ فیصلہ لینے سے قبل اسکولوں میںمطلوبہ انفراسٹریکچر بہم رکھنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی درکار تھی۔ بنیادی کلاسوں میں پڑھانے والے تدریسی عملہ کی با ضابطہ ٹریننگ، نصابی کتابوں کی از سر نو ترتیب و تدوین اور والدین کی آگاہی قابل ذکر ہے۔ ان چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل میں اس کے بہتر نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں، لیکن ابھی کے لیے اس کے لیے وقت تھوڑا غیر موزون دکھائی دے رہا ہے۔‘‘
اس نوٹیفکیشن کے تناظر میں جب والدین سے بات کی گئی تو انہوں نے بھی اس اقدام کی سراہنا کی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی کئی سارے خدشات ان کے ذہنوں میں دکھائی دے رہے ہیں ۔ مثلاً ایک والد جو کہ پیشے سے سرکاری ملازم بھی ہیں کہتے ہیں کہ’’ محکمہ اس حکم نامے میں موجود شقوں کو کیسے روبہ عمل لائے گا، جب کہ ان کے پاس ابھی تک بنیادی سطح کی سہولیات بچوںکو بہم نہیں پہنچارہی ہیں‘‘۔ایک اور والد اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ’’ میرے لیے تو یہ ایک نئی سی بات ہوگی۔ ہم اپنے بچوں کو کندھوں پر بستہ لٹکائے ہی اسکول بھیجتے ہیں اور ان کے کندھوں پر بستہ ان کے طالب علمی کی نشانی ہوتی ہے۔ لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ اعلیٰ حکام نے اس قدم کو سوچھ سمجھ کر اٹھایا ہوگا، لیکن میں یہ ضرور جاننا چاہوں گا کہ بستے کے بدلے سرکار نے اس کا کونسا نعم البد ل رکھا ہے ‘‘۔ ایک اور والد کا کہنا ہے کہ ’ ’ہم جانتے ہیں کہ سرکاری اسکولوں کا کیا حال ہے، اس کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ اسکولوں میں بھی یہاںکوئی خاص انتظام نہیں ہوتا ہے ۔ استاتذہ کو وقت کے ساتھ ساتھ بنیادی سطح کی ٹریننگ تک نہیں دی جاتی ہے۔ وہ ان شقوں کو کیسے عملا سکتے ہیں؟‘‘ایک اور والد کو جب اس حکم نامے کی خوب پرکھ کی گئی تو انہوں نے ایک اہم مدعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ’’ ہماری سوسائیٹی میں اخلاقی بگاڑ کس طرح سرایت کر چکا ہے۔ ہر کوئی بلا لحاظ مذہب اسکولوں میں اخلاقی تعلیم کی ضرورت محسوس کر رہا ہے۔ کہا ہی بہتر ہوتا اگر سرکار بچوں کے لیے اخلاقی تعلیم پر کوئی پالیسی مرتب کرتا‘‘۔ 
 اس طرح سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ متعلقہ حکم نامے کے تناظر میں تمام فریقین تقریباً تقریباً ایک ہی موقف رکھتے ہیں۔ اگر محکمے کے پاس تمام تر تیاریاں مکمل ہیں اور باقی ماندہ مد و جزر کا خوب خیال رکھا گیا ہے تو ایسے فیصلے کی تائید ہر کوئی کرے گا۔ لیکن اس کے برعکس اگر سرکار کے روایتی رویہ کو دیکھا جائے تو یہ کہنا شاید غیر مناسب نہیں ہوگا کہ عجلت پسندی کی وجہ سے اسکولوں میں رہے سہے نظم کو بگاڑنے کی فی الوقت کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
(مضمون نگار کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ سوشل ورک کے ریسرچ سکالر ہیںاور ان سے برقی پتہ hilal.nzm@gmail.comپررابطہ کیاجاسکتا ہے)