اپنا مرے توزبان گنگ ،امریکی مرے تو واویلا

مقامی ہلاکتوں کے انسانی المیہ پر اشرافیہ دوغلے پن کا شکار کیوں؟

تاریخ    2 جون 2020 (00 : 03 AM)   


اعجاز میر
امریکہ کی ریاست مینے سوٹا میں 25مئی کو گرفتاری کے دوران افریقی نژاد امریکی سیاہ فام شہری جارج فلائڈ کی موت واقع ہونے سے پورے ملک میں بھوال مچ گیا ہے اور مظاہروں کا سلسلہ 25سے زائد ریاستوں تک پھیل گیا ہے۔ 46 سالہ جارج فلائڈدھوکہ دہی کے الزام میں حراست میں لئے جانے کے دوران ایک پولیس اہلکار کی طرف سے طویل وقت تک گھٹنے سے گردن دبائے رکھنے کے نتیجے میں ہلاک ہو گیا تھا۔فلائڈ کئی منٹ تک فریاد کرتا رہا تھا کہ ’اس کا دم گھٹ رہا ہے، اس کے سینے میں تکلیف ہورہی اور ایسی صورت میں وہ مرسکتا ہے‘ تاہم پولیس اہلکار اُس کی فریاد ماننے کو تیار نہیں ہے۔کئی شہریوں نے موبائل فونوں کے ذریعے اس واقعہ کو عکس بندی کیا اور واقعہ سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ سوشل میڈیا پر سخت ردعمل کے ساتھ ساتھ لوگ سڑکوں پر آگئے اور ابھی تک پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا جارہا ہے۔واقعہ میں ملوث 4پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرنے کے علاوہ نوکریوں سے برطرف کرنے اور امریکی صدر کی طرف سے انصاف کی یقین دہانی کے باوجود بھی احتجاجی مظاہرے تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔
جارج فلائڈ کی موت نے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کی توجہ اپنی طرف مرکوز کردی اور پوری دنیا میں انصاف اور سیاہ فام افراد کیخلاف جاری نسل پرستی کے خاتمے کی مانگ ہورہی ہے ۔ اس دوڑ میں بھارت کی نامی گرامی شخصیات، بالی ووڈ اداکار، کھیل اور دوسرے شعبوں کی بڑی بڑی ہستیاں بھی شامل ہوگئی ہیں اور وہ بھی جارج فلائڈ کی ہلاکت کیلئے انصاف مانگ رہے ہیں اور نسل پرستی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ہمارے یہاں نجی ٹیلی ویژن چینل جارج فلائڈ کی ہلاکت کے بارے میں خصوصی پروگرام چلا رہے ہیں اور امریکہ میں سیاہ فاموں کیخلاف نسل پرستی کے واقعات کے اعداد وشمار اپنے ناظرین تک پہنچا رہے ہیں ۔ وہیں سوشل میڈیا پربھی اس معاملے کو لیکر گرما گرم بحث جاری ہے لیکن افسوس اس بات ہے کہ جارج فلائڈ کیلئے انصاف اور سیاہ فاموں کیخلاف نسل پرستی کے خاتمے مانگنے والے ہمارے ملک کی ان نامور شخصیات اور میڈیا اداروں میں سے بیشتر وہ ہیںجنہوں نے اپنے ملک کی موجودہ بحرانی صورتحال پر ایک بار بھی لب کشائی نہیں کی ہے۔ 
ملک کے مہاجر مزدوروں کو اس وقت جن پہاڑ جیسے مشکلات کا سامنا ہے ،تاریخ میں شائد ہی انہیں ایسے مصائب کبھی جھیلنے نہیں پڑے ہونگے۔ کچھ گھروں کی طرف پیدل سفر کے دوران چلتے چلتے مر رہے ہیں، کچھ پیدل سفر مکمل کرکے گھر کی دہلیز تک پہنچ کر دم توڑ رہے ہیں، کچھ سڑک حادثوں میں لقمہ اجل بن رہے ہیں، کچھ ٹرینوں کے انتظار میں پٹریوں پر کچلے جارہے ہیں، کچھ پہاڑیوں سے پھسل کر اپنی جانیں گنوا رہے ہیں، کچھ دریائوں میں غرقآب ہورہے ہیں،کچھ شدید گرمی اور کچھ بھکمری کا شکار ہورہے ہیں اور ایسے بھی درجنوں بدنصیب ہیں جو ٹرینوں میں جگہ ملنے کے باوجود اپنے گھروں تک نہیں پہنچ پائے۔ ریلوے پروٹیکشن فورس کے اعداد و شمار کے مطابق 7مئی سے 27مئی تک 80مہاجر مزدور شرمک خصوصی ٹرینوں میں دم توڑ بیٹھے۔یہ تو صرف ٹرین میں سفر کرنے والوں کے اعداد وشمار ہیں۔ پیدل اور دوسرے ذرائع سے سفر کرنے والوں کی اموات کے اعداد وشمار کا کسی کو پتہ نہیں اور نہ سرکار اس بارے میں کوئی معلومات دینے کے موڑ میں دکھائی دے رہی ہے۔ بس ٹرینوں کے اندر مرنے والوں کی تعداد سے ہی باقی ہلاکتوں کی تعداد کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
اگرچہ مہاجر مزدوروں کو درپیش مصائب اور مشکلات کے دل جھنجوڑ دینے والے درجنوں ویڈیو اور تصاویر گذشتہ ایام کے دوران وائرل ہوئے لیکن گذشتہ دنوں ایک ایسا ویڈیو منظر عام پر آیا جس نے ہر ذی حس انسان کا دل چھلنی کرکے ر کھ دیا اور انسانیت خون کے آنسو رونے لگی۔ اس ویڈیو میں ایک کمسن بچہ اپنی مردہ ماں کے اوپر رکھی گئی چادر کو سرکا کر اُسے جگانے کی کوشش کررہا تھا، جیسے کہہ رہا ہو ’’ماں اُٹھو مجھے بھوک لگی ہے… ماں مجھے کچھ کھانے کیلئے دو… ماں میرے ساتھ بات کرو… ماں تم کیوں نہیں اُٹھ رہی ہو؟‘‘۔
ویڈیو کی تفصیلات جونہی اُبھرنے لگیں تو پتہ چلا کہ اس بدنصیب بچے کی ماں بھی مہاجر مزدوروں کے بحران کاشکار ہوکر اس دنیا سے چل بسی تھی۔ احمد آباد سے بہار شرمک ’سپیشل ٹرین‘ میں سفر شروع کرنے والی 35سالہ اروینہ بیچ رستے میں ہی دم توڑ بیٹھی اور ریلوے پولیس نے مظفر پور کے جنکشن پر اُس کی لاش ٹرین سے اتار کر پلیٹ فارم پر رکھ دی اور اسے ایک چادر سے ڈھک دیا۔ اروینہ کے ساتھ سفر کرنے والے اُس کے رشتہ داروں نے کے مطابق کھانا پانی نہ ملنے کی وجہ سے اُس کی طبیعت خراب ہوئی اور وہ ٹرین میں ہی دم توڑ بیٹھی۔افسوس صد افسوس اروینہ کی بھکمری سے موت اور اس جیسے معاملات کہیں زیر بحث نہیں۔ بیشتر نامور شخصیات سے لیکر بڑے بڑے میڈیا ادارے اس بحران کی طرف اپنی آنکھیں موند کربیٹھے ہیں۔
امریکہ میں مہلوک جارج فلائڈ کیلئے انصاف اور سیاہ فاموں کیخلاف نسل پرستی کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والوں کو اپنے ملک کے اندر ہر روز مرتے درجنوں جارج فلائڈ نظر نہیں آتے۔اسے بز دلی کہیں( کہ کہیں حکمران ناراض نہ ہوں)، اسے دکھائوا کہیں( کہ ہم بھی بین الاقوامی معاملات کی جانکاری رکھنے والوں میں مانے جائیں گے) ، اسے اصل معاملات سے توجہ ہٹانے کی ایک مذموم کوشش کہیں یا پھر کچھ اور…؟ یہ جو کچھ بھی ہے، بہت ہی خطرناک رجحان ہے۔ نامور طبقہ اور میڈیا مہاجر مزدوروں کی آواز بلند کرکے حکمرانوں کو جوابدہ بنا سکتا تھا لیکن بدقسمتی سے ملک کا بیشتر نامور طبقہ غریبوں کیلئے کچھ نہیں کررہا ہے بلکہ وہ ان حالات کیخلاف نہ بول کر حکمرانوں کی نظر میں وفاداری اور دوستی جتلا کر اس میں بھی اپنے فوائد ڈھونڈرہا ہے۔ ٹویٹر ، فیس بُک و باقی سوشل میڈیا اور ٹی وی مباحثوں میں غیر موزوں اور غیر ضروری موضوعات زیر بحث ہیں۔ مہاجر مزدوروں کو درپیش مسائل اور دیگر حقیقی معاملات میںسسٹم کی ناکامی اور نااہلی کے بارے میں کوئی بات کرنے کیلئے تیار نہیں۔ 
بھار ت میں 4سے 5کروڑ مہاجر مزدور ہیں،چین میں 28سے 30کروڑ ،پاکستان میں80سے 90لاکھ مہاجر مزدور ہیں جبکہ دیگر چھوٹے بڑے ممالک میں لاکھوں کروڑوں مہاجر مزدور کام کرتے ہیں اور کورونا وائرس کے دوران لاک ڈائون سے ان ممالک میں بھی مہاجریں کو لیکر مسائل کھڑے ہوئے لیکن ان ممالک نے مائیگرنٹ مزدوروں کی نقل و حرکت کو بہت ہی عمدہ طریقے سے سنبھالا اور اس کیلئے منظم منصوبہ بند ی کے ذریعے بسوں، ٹرینوں یہاں تک کہ ہوائی جہازوں کا استعمال کیا گیا اور موثر طریقہ کار سے مزدوروں کو بھکمری کا شکار ہونے سے بچایا۔ بھارت کو چھوڑ کر کسی بھی ملک سے مہاجر مزدوروں کے بحران اور گھر جانے کی کوششوںکے دوران بھکمری سے مرنے کی خبریں سامنے نہیں آئیں جبکہ ہمارے ملک میں 3ماہ گزرجانے کے باوجود بھی 60فیصد سے زائد مہاجر کامگار ابھی بھی گھروں کو نہیں پہنچے ہیں اور آج بھی یہاں بھوک ، تھکن اور حادثوں میں مزدوروں کا مرنا برابر جاری ہے۔ لیکن اعلیٰ سطح پران معاملات کو اُبھارنے کی کوئی زہمت گوارا نہیں کررہا ہے۔ 
سینکڑو ں لوگ حکومتی بے حسی کا شکار ہورہے ہیں، معیشت گوتے کھا رہی ہے، صنعتیں بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں، انتظامی ناکامی دیکھ کر شہری غریبوں کی مدد کررہے ہیں، لاکھوں ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، بے روزگاری کا گراف گذشتہ45سال میں سب سے اوپر ہے، صرف اپریل کے ماہ میں ایک کروڑ22لاکھ لوگ ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔لاک ڈائون کے باوجود بھارت کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک میں 7ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔جب ملک میں کل500کورونا مثبت معاملے تھے تو ملک میں مکمل لاک ڈائون کا اعلان کیا اور جب ملک میں 2لاکھ کے قریب کورونا معاملے سامنے آئے ہیں اور ہر روز 9ہزار کے قریب مثبت معاملے سامنے آرہے ہیں تو لاک ڈائون کو لگ بھگ ختم کرنے کا اعلان کیا جارہاہے۔ ایسے معاملات پر حکومت سے کوئی سوال پوچھنے کو تیار نہیں۔ اگر سوالات نہیں پوچھے جائیں گے تو حکومت کیسے جوابدہ بنے گی اور اگر ملک میں جوابدہی کا فقدان عام ہوجائے تو عام آدمی کو راحت کی اُمید کیسے دلائی جاسکتی ہے؟ ۔

تازہ ترین