سکو ل کھولنے کی تیاریاں

سرکار کا منصوبہ خطرات سے خالی نہیں

تاریخ    2 جون 2020 (00 : 03 AM)   


محکمہ تعلیم کی جانب جموں اور کشمیر کے ناظم تعلیمات کے نا م جو تازہ فرمان جاری کیاگیا ہے ،اُس سے تو یہی لگتا ہے کہ حکومت نے سکول کھولنے کا من بنالیاہے اور عین ممکن ہے کہ جون کے وسط سے سکول کھولے جائیں۔سرکاری حکم نامہ میںسکولوں کے جن انتظامات کا ذکر کیاگیا ہے ،ان میں دوبارہ قابل استعمال دو فیس ماسک ،دستانے طالب علموں میں تقسیم کرنے کے علاوہ سینیٹائزر اور رقیق صابن دستیاب رکھنے کا کہاگیا ہے تاہم سکولوں سے کہاجائے گا کہ وہ ان چیزوں کا انتظام سمگرا کے مد میں دستیاب رقوم سے کریں ۔حکومتی فیصلہ قابل تحسین ہے تاہم اس کے تمام پہلوئوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔مرکزی حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ جون میں سکول کھولنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔اگر مرکزی حکومت ایسا من بناچکی ہے تو یقینی طور پر اس کے پیچھے کوئی منطق ہوگی ۔ایک ایسے وقت جب کورونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں روزانہ تشویشناک حد تک اضافہ ہور ہا ہے اور ہر روز نئے نئے علاقے اس کی لپیٹ میں آرہے ہیں،سکول کھولنے کا منصوبہ خطرے سے خالی نہیں ہے ۔جوں جوں لوگوں کی نقل و حمل بڑھ رہی ہے ،کورونا پوری شدت کے ساتھ پھیلتا ہی چلا جارہا ہے ۔وائرولوجی کے ماہرین کے مطابق جون کے اختتام تک یہ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہوگا اور ملک میں کورونا متاثرین کی کئی گنااضافہ ہوا ہوگاجبکہ ہلاکتوںکی تعداد بھی بڑھ چکی ہوگی ۔ایک بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب اعلیٰ تعلیم کے ادار ے ،جن میںکالج اور یونیورسٹیاں شامل ہیں ،کے منتظمین فی الوقت ان اداروںکو دوبارہ کھولنے کے بار ے میں خاموش ہیںتو سکولی تعلیم سے جڑ ے حکام کو کونسی ایسی جلدی درپیش ہے کہ وہ سکول کھولنے پر بضد نظر آرہے ہیں۔ظاہر ہے جب نوجوانوں کا تدریسی عمل بحال کرنے پر بھی پریشانی ہے تو چھوٹے چھوٹے بچوں کو کیوں خطرات سے دوچار کیاجارہا ہے ۔ظاہر ہے کہ بچے انفیکشن کیلئے انتہائی حساس ہوتے ہیں اور ان میں قوت مدافعت بھی کم ہوتی ہے ،ایسے میں اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ سکول کھلتے ہی ہمارے نونہال کورونا کا شکار بن جائیں اور یوں ایسا ہی وقت آنیکا احتمال ہے جب ہمارے سکول بھی ریڈ زون قرار دئے جاسکتے ہیں۔تعلیم کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ لاک ڈائون کی وجہ سے تعلیمی شعبہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے تاہم اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنے نو نہالوں کو بلی کا بکرا بنائیں۔اگر ہماری انتظامیہ کورونا کے عالم گیر لاک ڈائون کے دوران بچوںکو آن لائن ایجوکیش حقیقی معنوں میں فراہم نہیں کرپارہی ہے تو اس کا نزلہ بچوں پر نہیں گرایا جاسکتا ہے ۔دراصل جموںوکشمیرمیں آن لائن ایجوکیشن سسٹم کی ناکامی کیلئے خود سرکار ہی ذمہ دار ہے کیونکہ سرکار اس حقیقت کا ادراک کرنے سے منکر ہے کہ انٹر نیٹ کی ناقص رفتارکی وجہ سے زندگی کے ہر شعبہ سمیت تعلیمی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوچکا ہے ۔بار بار موبائل انٹرنیٹ کی رفتار ٹو جی تک محدود رکھنے کیلئے لولے لنگڑے عذرات پیش کئے جارہے ہیں۔تازہ عذر جو پیش کیاگیا ہے ،وہ دراندازی سے متعلق ہے حالانکہ یہ کھلی حقیقت ہے کہ دراندازی کوئی آج کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ دہایوں سے چلا آرہا مسئلہ ہے اور اسکو معصوم بچوں کی زندگیوں کو خطرات سے دوچار کرنے کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔سکول کھولنے میں سرکار کو کوئی قباحت نظر نہیں آرہی ہے حالانکہ کورونا کی وجہ سے لوگ انتہائی خوفزدہ ہیں اور وہ اپنے بچوں کو گھروں سے باہر بھی نکلنے نہیں دے رہے ہیں لیکن سرکار کا کیا کیا جائے جس کو سکول کھولنے میں کوئی برائی نظر نہیں آرہی ہے ۔آخر ایک ایسے ماحول میں والدین بچوں کو کیسے سکول بھیجیں جب باہر موت کے خطرات منڈلارہے ہوں ۔تدریسی عمل بحال کرنا اچھا ہے لیکن اس کیلئے پہلے ویسا ماحول تو تیار ہوجائے ۔سرکار کو فی الحال صورتحال پر قریبی نگاہ رکھ کر اس فیصلہ کو التوا میں رکھنا چاہئے اور جب ہمیں لگے کہ کورونا وائرس پسپا ہوچکا ہے تو اس کے بعد سکولوں میں تعلیم و تعلم کی بحالی پر غور کیاجاسکتا ہے ۔اُس وقت تک اس طرح عجلت میںلئے گئے فیصلوں کا شاید ہی عوامی سطح پر کوئی خریدار ہوگا۔
 

تازہ ترین