شکار گاہ ترال میں ہانگلوں کی کثیرتعدادموجود | خوراک کی تلاش میں میوہ باغات کارُخ کررہے ہیں

تاریخ    1 جون 2020 (00 : 03 AM)   


سید اعجاز
ترال//کشمیری ہانگل جس کے نایاب ہونے پر ماہرین کو تشویش ہے ،کو شکار گاہ ترال میں کثیرتعدادمیں دیکھاگیا ہے اور خوراک کی تلاش میں انہوں نے یہاں کے میوہ باغات میں داخل ہوکر نقصان پہنچایا ہے۔مقامی لوگوں نے محکمہ جنگلی حیات کے حکام سے اس سلسلے میں فوری طور اقدام کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ میوہ باغات کو نقصان سے محفوظ رکھا جائے اور ہانگلوں کیلئے بھی خوراک کا بندوبست کیا جائے۔شکار گاہ اور اس سے ملحقہ دیہات کے لوگوں نے اس نمائندے کو بتایا کہ علاقہ میں ہانگل کی کثیرتعداد موجود ہے جنہیں یہاں موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی دیکھاگیا۔ایک خاتون نے بتایا کہ وہ حال ہی میں یہاں گھوم رہی تھی توانہوں نے کافی تعداد میں ہانگلوں کو جنگل کے دامن میں بیٹھے دیکھا۔شکار گاہ کے لری بل گائوں اور دیگر کئی دیہات ،جو شکارگاہ جنگل کے دامن میں واقع ہیں،کے لوگوں نے بھی بتایا کہ اُن کے میوہ باغات اورسبزیوں کے کھیتوں میں ہانگل داخل ہوکر میوہ اور سبزیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ وہ ہانگلوں کیلئے خوارک کابندوبست کریں اور ان کے باغات کو نقصان سے بچائے۔قابل ذکر ہے کہ کشمیری ہانگل کی تعداد میں متواتر کئی دہائیوں سے کمی ہورہی ہے ۔ماہرین کاکہنا ہے کہ شکار گاہ کے جنگلوں کا سلسلہ پہلگام کے آورہ سے ہوکر داچھی گام پارک کے ساتھ جڑ جاتا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ انسانی مداخلت اور شکاریوں کے ڈر سے اب یہ ہانگل نزدیکی بستیوں تک غذاکی تلاش میں آتے ہیں ۔ماہرین نے مزیدکہاکہ ہانگل کی موجودگی اچھی خبر ہے تاہم محکمہ جنگلی حیات کوان کے ٹھکانوں پرنظررکھنی چاہیے تاکہ کشمیری ہانگل کاکوئی شکار نہ کرے۔ 
 

تازہ ترین