! کورورنا لاک ڈائون | تالااس طرح بھی نہ کُھلے کہ سب بھید کُھل جائیں

تاریخ    1 جون 2020 (00 : 03 AM)   
(عکاسی: امان فاروق)

نیوز ڈیسک
کورونا وائرس کی وجہ سے ملکی سطح پر مرکزی حکومت کی جانب سے اگر چہ لاک ڈائون کے پانچویں مرحلہ کااعلان کیاگیا تاہم عملی طورلاک ڈائون کا یہ مرحلہ صرف ریڈزون علاقوں تک ہی محدود رہے گا کیونکہ مرحلہ وار بنیادوں پر ریڈ زون سے باہر علاقوں میں معمولات زندگی بحال ہوتے رہیں گے ۔دراصل ایک ماہ طویل پانچویں مرحلہ کے اس لاک ڈائون میں ملک کو کھولنے کے چار مرحلوں کا اعلان ہوا ہے اورہفتہ وار بنیادوں پر زندگی کے مختلف شعبے بحال ہونگے ۔حکومتی اعلان کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے کیونکہ ایسا کرنا بھی اب مجبوری بن چکی تھی ۔ملک کم وبیش گزشتہ70دنوں سے مسلسل بند تھا ،زندگی کی گاڑی کا پہیہ جام ہوچکاتھا اور روزگار کے سارے وسائل ختم ہوچکے تھے ۔ظاہر ہے کہ دنیا کی کوئی بھی حکومت اس طرز کے طویل ترین لاک ڈائو ن کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں معیشت کا جنازہ نکل سکتا ہے ۔گوکہ مرکزی حکومت تاحال یہ تاثر دے رہی ہے کہ ہماری معیشت اس بحران سے اُبھر پائے گی تاہم درونِ خانہ وہ جانتے ہیں کہ کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے ہماری ترقی کی گاڑی اُلٹی سمت میں چلی گئی ہے اور اس کو واپس لانا کوئی آسان کام نہیں ہوگا بلکہ یہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔لوگ بھی جانتے ہیں کہ فی الوقت معیشت حقیقی معنوں میں وینٹی لیٹر پر ہے کیونکہ کمر توڑ مہنگائی کا دبدبہ ہے ۔مہنگائی بڑھنے کا مطلب ہی ہے کہ معیشت صحیح سلامت نہیں ہے۔بہر کیف معیشت کی اس بدحالی کیلئے حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایاجاسکتا ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ ہماری معیشت آج ہی تباہ ہوئی بلکہ یہ سلسلہ گزشتہ چند برسوں سے جاری تھا۔ملک میں اس کے خلاف آوازیں بھی اٹھ رہی تھیں اور جس طرح بیروزگاری اور مہنگائی نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھاتھاتو حکومت کو عوام کے تیکھے سوالوں کاسامنا کر نا پڑرہا تھا لیکن یہ کورونا کی وباء مرکزی حکومت کیلئے ایک طرح سے نجات کا ذریعہ ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ جب معیشت کا نیا لیکھا جوکھا پیش کیاجائے گا تو معاشی بدحالی کا سارا غصہ کورونا پر ہی تھوپا جائے گا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جائے گی کہ یہ سب کچھ کورونا کا کیادھرا ،جبکہ حقیقت میں وہ بات نہیں ہوگی۔ بہر کیف یہ ایک طویل بحث ہے اور اس پر کبھی علیحدہ سے بات کی جاسکتی ہے تاہم فی الوقت کورونالاک ڈائون سے باہر نکلنے کے بندوبست تک ہی بات محدود رکھنی چاہئے ۔اس ضمن میں نرمیوں کے جس مرحلہ وار کلینڈر کااعلان ہوا ہے ،وہ خطروں سے خالی نہیں ہے ۔ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ بھارت اُس وقت لاک ڈائون سے نکل رہا ہے جب ہمارے یہاروزانہ بنیادوں پر کورونا کیسوں کی تعداد9ہزار تک پہنچ چکی ہے اور مجموعی ہندسہ دو لاکھ کے آس پاس ہے ۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ کورونا اعدادوشمار میں اتنا زیادہ اچھال درماندہ لوگوں کی گھر واپسی پر ٹیسٹنگ کا نتیجہ ہے لیکن اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ ہمارے ملک میں کورونا موجود ہے ۔آج ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ یہ باہر سے آنے والے ہیں۔بے شک مقامی حکومتیں اب کورونا کے بلیٹن میں کورونا متاثرین کو مقامی اور سفری ہسٹری رکھنے والوں میں تقسیم کریں لیکن اس سے یہ حقیقت جھٹلا ئی نہیں جاسکتی ہے کہ یہ سب لوگ ملک میں ہی تھے اور یوں کورونا بھی ملک میں ہی تھا۔یہ الگ بات ہے کہ ٹیسٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے معاملات سامنے نہیں آرہے تھے۔آنے والے دنوں میں کافی بڑی تعداد میں مزید معاملات سامنے آسکتے ہیں اور دوسری جانب جس طرح لاک ڈائون سے باہر نکلنے کے جتن کئے جارہے ہیں تو یقینی طور پر آنے والا وقت انتہائی نازک ہوگاکیونکہ کل جب سب لوگ بازاروں میں پھر گُھل مل جائیں گے اور گاڑیوںمیں دھکم پیل اور بھیڑ بھاڑ ہوگی تو کورونا کا وائرس کتنوںکو اپنا شکار بناسکتا ہے ،سمجھ سے بالاتر نہیں ہے ۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جہاں لاک ڈائون سے نکلنا ضروری ہے ،وہیں کورونا سے بچنا بھی لازمی ہے ۔مرکزی حکومت نے جس طرح اس دفعہ اپنے سر سے بلا ٹالتے ہوئے گیند ریاستوں کے پالے میں ڈال دی ،وہ کوئی اچھا فیصلہ قرار نہیں دیاجاسکتا ہے ۔کچھ لوگ اس کا یہ بھی مطلب نکال رہے ہیں کہ یہ ایک طرح کا سرینڈر ہے اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ایسا کرکے مرکزی حکومت نے اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کی۔کچھ بھی ہو،اتنا وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ یہ وقت مرکزی حکومت کی قائدانہ صلاحیتوں کا امتحان ہے اور مرکزکو کسی بھی طرح اس وقت معاملات ریاستوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی بجائے ریاستوں کو اعتماد میں لیکر خو دفیصلے کرنے چاہئیں کیونکہ مرکز ہی بڑے فیصلے لے سکتا اور ایسے فیصلوں سے ابھرنے کا سامان بھی پیدا کرسکتا ہے ۔لہٰذاامید کی جاسکتی ہے کہ مرکزی اکابرین حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے قائدانہ رول ادا کریں گے اور کورونا مخالف جنگ میں ریاستوں کو اپنے پیچھے چلاتے ہوئے ملک کو اس بحران سے نکالیں گے جس کا اس کو فی الوقت سامنا ہے۔
 

تازہ ترین