سانحہ ولرکے14سال مکمل،زخم آج بھی تازہ| متاثرین انصاف کے طلبگار ،ہندوارہ میں تعزیتی مجالس

تاریخ    31 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


اشرف چراغ
ہندوارہ//سانحہ ولرکے 14سال بیت گئے اورمتاثرین کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ 30مئی2006کو اسی دو پہر میں اٹکی ہوئی ہیں جب جھیل ولر کی لہرو ں نے ہندوارہ پبلک سکول میں زیر تعلیم 22بچو ں کو نگل لیا ۔30مئی 2006کی صبح جب افق پر روشنی پھوٹ پڑی تو برنگ کینڈل پبلک سکول میں زیر تعلیم بچوں کے والدین اپنے بچوں کے ہاتھ پکڑ کر سکول پہنچ گئے اور اپنے جگر گوشو ں کو خوشی خوشی جھیل ولر کی سیر کے لئے الوداع کیا لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ انہوں نے اپنے بچو ں کو ہمیشہ کے لئے الوداع کیا ۔وٹلب پہنچتے ہی دوپہر کو بحریہ کے اہلکارو ں نے بچوں کو کشتی میں سوار کر کے جھیل ولر کی سیر کے لئے لیا لیکن جو ں ہی بچے اس کشتی میں سوار ہوئے تو کشتی الٹ گئی جس کے دوران 22بچے غرقآب ہوگئے ۔ان کی 14ویں برسی پر ہندوارہ اور اس کے مضافاتی علاقوں میں ان بچو ں کی یاد میں تعزیتی مجالس کا اہتمام کیا گیا جبکہ مزار شہداء ہندوارہ میں ان کے حق میں فاتحہ خوانی ہوئی ۔اس سا نحہ میں ایک بچی کلثوم کی والدہ کہتی ہیں’’ میری گھڑی کی سوئی 14 سال قبل جس مقام پر رکی تھی آج بھی اسی مقام پراٹکی ہوئی ہے‘‘ ۔انہوں نے کہا ’’ وقت زخمو ںکا بہترین مرہم سمجھا جاتا ہے لیکن میرے زخمو ں سے آج بھی اپنی بیٹی کی جدائی پر خون رس رہا ہے‘‘ ۔اس سانحہ میں لقمہ اجل بنے بچو ں کے والدین کا کہنا ہے کہ سانحہ کے بعد ان سے کئے گئے وعدے ابھی تک پورے نہیں کئے گئے اورنہ ہی انصاف ملا ۔
 

تازہ ترین