آسیہ اور نیلوفر کی دسویں برسی | لواحقین ہنوز انصاف کے منتظر

تاریخ    30 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


شاہد ٹاک
 شوپیان// شوپیاں ضلع میں آسیہ اور نیلوفر کی گیارویں برسی پر اُن کے اہل خانہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں اور قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔بتادیں کہ دس سال قبل آج ہی کے دن بون گام شوپیاں کی رہنے والی آسیہ اور نیلوفر کی لاشیں رنبی آرا نالے سے بر آمد ہوئی تھیں۔ دونوں خواتین، جو رشتے کے لحاظ سے بھابھی اور نند تھیں، کی مبینہ طور پر قتل سے قبل آبرو ریزی کی گئی تھی اور اس واقعے سے وادی بھر میں احتجاجوں اور ہڑتالوں کی شدید لہر چلی تھی اور ضلع شوپیان میں مسلسل 47 دنوں تک ہڑتال کی گئی۔واضح رہے کہ جنوبی قصبہ شوپیان کی 17 سالہ آسیہ جان اور ان کی بھاوج نیلوفر شکیل 29مئی2009 کو سہ پہر کے وقت لاپتہ ہوئی تھیں اور اگلے روز صبح دونوں کی لاشیں رمبی آراء  سے بر آمد ہوئیں۔یہ دونوں اپنے باغ میں گئی تھیں اور لوٹتے وقت لاپتہ ہو گئی تھیں۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ آسیہ اور نیلوفر کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی تھی۔ اہلخانہ اور شوپیاں کے عوام نے اس کا الزام سکیورٹی فورسز پر عائد کیا۔وہیں پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں کی موت ندی میں ڈوبنے کی وجہ سے ہوئی کیونکہ ان کی مسخ شدت لاشیں ندی سے ہی برآمد ہوئی تھیں۔عصمت ریزی اور قتل کے واقعہ کو آج گیارہ برس مکمل ہو چکے ہیں لیکن آج تک اس کیس میں کوئی ٹھوس کاروائی نہیں ہوئی ہے اور آسیہ اور نیلوفر کے اہلخانہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔شکیل اور ان کے 14 سالہ بیٹے سوزین کے علاوہ ان کے رشتہ دار گزشتہ دس برسوں سے شوپیاں میں ان دونوں خواتین کی عصمت ریزی اور قتل کے خلاف اسی نالہ رمبہ آرا میں خاموش احتجاج کرتے تھے تاہم آج کرونا وائرس کے پیشِ نظر انہوں نے گھر میں ہی خاموش احتجاج کیا۔شکیل احمد جو نیلوفر کے شوہر نے بتایا کہ 11 سال گزرنے کے باوجود ہمیں ابھی تک ہمیں انصاف نہیں ملا۔ ان معصوموں کی عصمت دری اور قتل کے زخم آج بھی ہمارے دلوں میں بلکل ویسے ہی ہیں اور ہم آج بھی اس درد کو محسوس کر رہیں ہیں۔انہوں نے عالمی اداروں خاص کر ہیومن رائٹس ادارے سے اس کیس کی تحقیقات کرنے کی گزارش کی اور قاتلوں کو بے نقاب کرکے سزا دینے کے مانگ کی ہے۔
 

تازہ ترین