مشاورت نعمت ،عجلت پسندی عیب ہے

انتظامی ٹریبونل سے متعلق ترمیمی فیصلہ مستحسن عمل

تاریخ    29 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


یہ امر اطمینان بخش ہے کہ بالآخر مرکزی حکومت نے جموںوکشمیرمیں مرکزی انتظامی ٹریبونل کے قیام کو منظوری دے دی ہے اور اس ضمن میں جمعرات کو باضابطہ طور مرکزی وزارت برائے پرسنل و ٹرایننگ کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کیاگیا ہے ۔گوکہ اس نئے بینچ کو جموں بینچ کا نام دیاگیا ہے تاہم یہ جموں اور سرینگر سے کام کرے گا اور جموںوکشمیر کے علاوہ لداخ یونین ٹریٹری کے ملازمین کے معاملات کی سماعت کرے گاجبکہ بنچ ممبران کی تعداد کا تعین ٹریبونل کے چیئرمین خود کریںگے ۔
اس سے قبل جب مرکزی حکومت کی جانب سے جموںوکشمیر اور لداخ کے سرکاری ملازمین کے معاملات چندی گڑھ میں قائم مرکزی انتظامی ٹریبونل کو منتقل کرنے کے احکامات صادر کئے گئے تھے تو اس پر دونوںمرکزی زیر انتظام علاقوں میں شدید برہمی کا اظہار کیاگیاتھااور نہ صرف ملازمین طبقہ بلکہ سیول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوںنے بھی پارٹی لائنوںسے بالاتر ہوکر اس فیصلہ کو خلاف ِ انصاف قرار دیکر اس میں ترمیم کا مطالبہ کیاتھا۔بعد ازاں یہ معاملہ عدلیہ میں بھی چلاگیاتھااور جموںوکشمیر ہائی کورٹ نے بھی اس مسئلہ پر کڑا رخ اختیار کیاتھا جس پر ٹریبونل کے چیئرمین کو وضاحتی بیان بھی جاری کرنا پڑا تھا۔اُسی وقت سے لگ رہا تھا کہ اب عدالتی مداخلت کے بعد شاید مرکزی حکومت کو اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرناپڑے گی اور ایسا ہی اب ہوا ہے ۔
جموںوکشمیراور لداخ میں 30ہزار سے زیادہ ملازمین کے کیس ریاست کی دو مرکزی زیرانتظام علاقوں میں تقسیم اور اس کے درجہ کی تنزلی کے وقت زیر التوا تھے جو خود بخود اب چنڈی گڑھ بینچ کو منتقل ہونے تھے جبکہ مستقبل میںبھی سارے معاملات کی سماعت وہیں ہوتی ۔ا سکا مطلب یہ تھا کہ جموںوکشمیر کے ملازمین کو طویل مسافت طے کرکے اپنے مسائل کے نپٹارہ کیلئے چنڈی گڑھ جاناپڑتاتاہم اب چونکہ فیصلہ تبدیل ہوچکا ہے اور اب جموںوکشمیرو لداخ کیلئے ایک علیحدہ انتظامی ٹریبونل کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کیاجاچکا ہے تو یہ سارے خدشات اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔اس سلسلے میں بخل سے کام لئے بغیر ہمیں وزیراعظم دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ کی خدمات کا اعتراف کرنا پڑے گا جن کے ماتحت مذکورہ وزارت ہے ۔اس بات سے قطعی انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ اگر وہ اس فیصلہ کے حق میں نہیں ہوتے تو اس کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکتا تھا تاہم جس طرح انہوںنے عوامی امنگوں کا احترام کیا اور اپنے پہلے فیصلہ پر نظر ثانی کی ،وہ قابل ستائش ہے اور یقینی طور پر اس کیلئے مبارک بادی کے مستحق ہیں تاہم یہ کہنا بھی درست ہے کہ پہلی فرصت میں اُن سے اس طرح کے فیصلہ کی توقع ہی نہیں تھی اور چونکہ وہ مقامی شہری ہونے کے ناطے جموںوکشمیر اور لداخ کے جغرافیائی حالات سے آشنا تھے تو اُنہیں اس طرح کے کسی فیصلہ کی حمایت ہی نہیں کرنی چاہئے تھی لیکن چونکہ اُن کے قلم سے حکم نامہ صادر ہوچکا تھا تو اب اس میں دوبارہ ترمیم کرنا واقعی مستحسن عمل ہی قراردیا جاسکتا ہے ۔
مرکزی حکومت کو جموںوکشمیر کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ لینے سے قبل اس کے مضمرات پر غور کرنا چاہئے تاکہ فیصلہ لینے کے بعد اس کو دوبارہ بار بار تبدیل نہ کرنا پڑے۔ا س سے قبل بھی حالیہ ایام میں کچھ فیصلوں میں ترمیم کرناپڑی۔ڈومیسائل قانون بھی ترمیم کچھ اسی طرح ہی کرناپڑی تھی کیونکہ وہ بھی باعث نزاع بن چکا تھا ،حالانکہ اُس ترمیم کے بعد بھی وہ قانون جموںوکشمیر کی غالب آبادی کو منظور نہیںہے اور اس میں خودحکمران جماعت بی جے پی کے اعلیٰ ریاستی قائیدین کے علاوہ کارکنان بھی شامل ہیں۔
اسی طرح اب جس فاسٹ ٹریک یا سریع الرفتار بھرتی عمل کی باتیں کی جارہی ہیں جس کے لئے اب بھرتی قوانین میں ترمیم بھی کی گئی ہے ،وہ بھی خدشات کے گھیرے میں ہی ہے اور غالب تاثر یہ ہے کہ یہ بھرتی عمل بھی ایک ’نئے معمول‘کی شروعات ہے ۔دس ہزار درجہ چہارم اسامیوں کی سریع الرفتار بھرتی کیلئے وضع کئے گئے نئے نظام میں بلا شبہ ایسی پیچیدگیاں موجود ہیں جو انسان کو سوچنے پر مجبور کردیتی ہیں کہ کہیں دال میںکچھ کالا تو نہیں ہے ۔انتظامی کونسل کی جانب سے منظور شدہ بھرتیوں کے طریقہ کار کا اگر سرسری ہی جائزہ لیاجائے تو موٹی موٹی خامیاں دور سے ہی نظر آتی ہیں جو آگے چل کر ایک بڑے تنازع کا باعث بن سکتی ہیں۔
ا سلئے گزارش کی گئی تھی کہ کوئی بھی ایسا فیصلہ لینے سے قبل اس کے ہر پہلو پر غور کیاجائے تاکہ جب فیصلہ لیاجائے تو وہ عوامی سطح پر بے چینی کا باعث بن کر پھر خود حکومت کیلئے بھی پریشانی کا باعث نہ بنے ۔دور رس نتائج کے حامل فیصلے لینے میں جلد بازی نہیں کی جانی چاہئے اور ایسے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کی ویسے بھی کوئی جلدی نہیںہوتی ہے ۔اس لئے بہتر ہے کہ عجلت پسندی کا مزاج تبدیل کیا جائے ۔وسیع مشاورت اور زیادہ سے زیادہ غور و فکر صحیح فیصلوں پر منتج ہوتا ہے ۔کسی فیصلہ پر جتنی زیادہ مشاورت کی جائے اور جتنا زیادہ اس پر غور کیاجائے ،اُتنا ہی وہ فیصلہ بہتر ثابت ہوسکتا ہے ۔ایسے میں امید کی جاسکتی ہے کہ یوٹی انتظامیہ اور مرکزی سرکار بار بار اپنے ہی لئے گئے فیصلو ں میں ترامیم کرکے بہ الفاظ دیگر ان کے ناقص ہونے کا اعتراف کرنے کی بجائے ہر فیصلہ لینے سے قبل عوامی امنگوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر وسیع مشاورت اور غور وفکر کو معمول بنائیں گے تاکہ ایک دفعہ حتمی فیصلہ لینے کے بعد ان فیصلوں کو عوامی پذیرائی حاصل ہوسکے۔
 

تازہ ترین