ہندوستان اور آسٹریلیا ایڈیلیڈ میں ڈے نائٹ ٹیسٹ کھیلیں گی

تاریخ    28 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


یو این آئی
میلبورن/ ہندوستان اس سال کے آخر میں آسٹریلیا کے دورے میں ڈے ۔نائٹ ٹیسٹ ایڈیلیڈ اوول میدان پر کھیل سکتی ہے جبکہ پہلا ٹیسٹ برسبین کے گابا میدان پر کھیلا جا سکتا ہے ۔کرکٹ آسٹریلیا 2020-21 سیشن کے لئے اپنا عارضی پروگرام اس ہفتے کے آخر تک اعلان کر سکتا ہے ۔یہ مانا جا رہا ہے کہ ٹیم انڈیا آسٹریلیا کی سر زمین پر گلابی گیند سے اپنا پہلا ڈے نائیٹ ٹیسٹ ایڈیلیڈ کے میدان پر کھیل سکتی ہے ۔ ہندوستان نے اپنا پہلا ڈے نائیٹ ٹیسٹ گزشتہ سال کولکاتا کے ایڈن گارڈن میں بنگلہ دیش کے خلاف کھیلا تھا اور جیت حاصل کی تھی۔ چار ٹسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا ٹسٹ برسبین میں ہو سکتا ہے جہاں میزبان ٹیم 1988 کے بعد ہاری نہیں ہے ۔ آئی سی سی اور بی سی سی آئی کے درمیان ٹیکس میں رعایت کا یہ تنازعہ ہندوستان میں سال 2016 میں منعقد ہوئے ٹی -20 ورلڈ کپ کے دوران شروع ہوا تھا۔ اس ورلڈ کپ کے دوران آئی سی سی کو ٹیکس میں چھوٹ نہیں ملی تھی اور دو سے تین کروڑ امریکی ڈالر کی کم کمائی ہوئی تھی۔آئی سی سی نے اس رقم کو اس مرکزی ریونیو میں بی سی سی آئی کی حصہ داری میں سے روک لیا تھا۔بی سی سی آئی اس معاملے کو آئی سی سی کی تنازعات کے حل سے متعلق کمیٹی میں لے گئی تھی اور تب سے اس معاملے کے حل کا انتظار ہے ۔اسی وجہ سے آئی سی سی اس دفعہ بی سی سی آئی کو مسلسل خط لکھ رہا ہے ۔آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو مانو ساہنی نے جنوری کے آخر میں بی سی سی آئی کے صدر سوربھ گانگولی کو خط لکھا تھا۔اس سے پہلے ہال نے اپریل میں بورڈ سیکرٹری جے شاہ کو ایک ای میل بھیجا تھا۔ہال نے شاہ کو لکھا تھا کہ میزبان ہونے کے ناطے بی سی سی آئی کو'ٹیکس حل' دینا اس کی ایک 'ذمہ داری' تھی۔ جہاں آئی سی سی کے حق میں ٹیکس کو کم کیا جائے گا یا مکمل طور پر معاف کر دیا جائے گا۔ہال نے بی سی سی آئی کو فروری 2018 کے اجلاس کی یاد دلائی جس میں آئی بی سی بورڈ نے کہا تھا کہ بی سی سی آئی 31 دسمبر 2019 تک اس کا کوئی نہ کوئی حل نکالے گا لیکن بی سی سی آئی طے وقت کے اندر اس معاملے کو حل کرنے میں ناکام رہا۔جس کے بعدا س مدت میں اس سال 17 اپریل تک کے لئے توسیع کر دی گئی۔ کووڈ -19 کے پیش نظر لاک ڈاؤن لگائے جانے کے بعد بی سی سی آئی نے ہال کو بتایا کہ طے وقت میں یہ مکمل نہیں کیا جاسکتا کیونکہ کھیل اور اس سے منسلک سرگرمیوں کے 'ضروری خدمات' کے تحت نہ آنے کی وجہ سے وہ حکومت سے رابطہ نہیں کر سکے ہیں۔ ہندوستان میں لاک ڈاؤن 24 مارچ سے شروع ہوا تھا اور یہ اب 31 مئی تک جاری رہے گا۔ بی سی سی آئی نے کہا، "بورڈ موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے 'ٹیکس حل' کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا۔ یہ بی سی سی آئی کے کنٹرول سے فی الحال باہر ہے کیونکہ اس کے لئے 17 اپریل سے پہلے حکومت سے اجازت حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔ اس کی وجہ سے بی سی سی آئی نے آئی بی سی سے 30 جون 2020 یا لاک ڈاؤن ہٹائے جانے کے 30 دن بعد (جو بھی بعد میں ہو) تک وقت دینے کی درخواست کی تھی. تبھی سے دونوں کے درمیان بات چیت تلخ ہو گئی تھی۔ ہال نے بی سی سی آئی کو ٹیکس حل کرنے کی سمت میں کوشش کرنے سے متعلقہ ثبوت دینے کے لئے کہا تھا۔ بی سی سی آئی نے اس ماہ کے آغاز میں ہال کو جواب دیا تھا کہ اس معاملے میں 'تعاون کے جذبات ' کے تحت بورڈ 2018 کے بعد سے حکومت ہند کے ساتھ ٹیکس میں نرمی سے متعلق دستاویزات بطور ثبوت منسلک کر رہا ہے ۔چھ میں سے چار منسلک دستاویزات 2018 میں 27 فروری، 12 جولائی، 24 اگست اور 18 دسمبر کو بھیجے گئے تھے ۔ باقی دستاویزات سال 2019 میں تین جولائی اور 16 اگست کو بھیجے گئے ۔ بی سی سی آئی نے کہا، "ان دستاویزات سے واضح ہے کہ بی سی سی آئی حکومت ہند پر ٹیکس حل کرنے کے لئے دباؤ بنا رہی ہے ۔"بی سی سی آئی نے ہال کے 31 دسمبر، 2019 کے بعد مقررہ وقت کی خلاف ورزی بتانے والے دعوے کا بھی جواب دیا۔ بی سی سی آئی نے کہا، "بی سی سی آئی اس تاریخ تک ٹیکس حل کرنے کی بات سے انکار کرتا ہے ۔ ہال نے خود اپنے گزشتہ ای میل میں اس سال 17 اپریل تک حل کرنے کی بات کہی تھی۔ لہذا، 31 دسمبر 2019 کی مبینہ مقررہ وقت کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ "آئی سی سی کے اس اقدام کے باوجود حکام کا خیال ہے کہ بی سی سی آئی کے ساتھ صلاح و مشورے کے راستے کھلے رہیں گے جو ابھی اس معاملے پر مستحکم ہے ۔ بی سی سی آئی کے ایک افسر نے کہا، "آئی سی سی صرف عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے ۔
 

تازہ ترین