کورونا مخالف جنگ

اصلاح احوال کی کوششیں مستحسن،تسلسل برقرار رکھنا لازمی

تاریخ    28 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


یہ امر اطمینان بخش ہے کہ پولیس نے بدھ کے روز وادی کے یمین و یسار میں کورونا کی عالمگیر وباء کے خلاف جنگ میں صف اول کے سپاہیوں کا کردار ادا کرنے والے طبی و نیم طبی عملہ سے وابستہ اہلکاروں کا جگہ جگہ پھولوں اور مٹھائیوں سے استقبال کرکے در اصل اُس غلطی کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جو گزشتہ کئی روز سے پولیس عملہ سے ہورہی تھیںاور جس کی وجہ سے پولیس محکمہ کو بحیثیت مجموعی انتہائی شرمندگی سے دوچار ہونا پڑا۔بدھ کو چہار سُو اس حوالے سے جو مناظر دیکھنے کو ملے ،وہ یقینی طور پرنہ صرف خوشگوار تھے بلکہ اُن لوگوں کی خدمات کا اعتراف تھا جو انتہائی کٹھن حالات میں بھی اپنی جان جوکھم میں ڈالتے ہوئے اس وباء سے نبرد آزما ہیں۔
اس بات سے قطعی انکار نہیں کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی فی الوقت کسی پُر سکون صورتحال میں نہیں ہیں اور انہیں بھی کورونا جنگ کی وجہ سے بے پناہ ذہنی و جسمانی ازیت سے گزرنا پڑرہا ہے ۔لاک ڈائون کو عملی طور کامیاب بنانے سے لیکر طبی ایمرجنسی کی صورت میں مریضوں کو ہسپتالوں تک پہنچانے میں پولیس کا جو رول رہا ہے ،وہ واقعی قابل ستائش ہے اور پولیس عملہ نے بلاشک ان کٹھن حالات میں جانفشانی کے ساتھ کام کیا تاہم اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اس جنگ میں شامل کلیدی جانبازوں کو ہدف تحقیر بنایا جائے۔ڈاکٹراور نیم طبی عملہ کے اہلکارہمارے وہ سپاہی ہیں جن کا اس نظر نہ آنے والے دشمن سے براہ راست سامنا ہے ۔یہ ہمارے ڈاکٹر اور نیم طبی عملہ کے ہی لوگ ہیں جو براہ راست کورونا مریضوں کو ڈیل کررہے ہیں اور یوں ہمہ وقت وہ خطروں سے گھرے رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود انہوںنے ہمت نہیں ہاری اور وہ مسلسل مسیحائی کردار نبھاتے ہوئے انسانی جانیں بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔جہاںتک پولیس کا تعلق ہے توبے شک ان کی خدمات ہیں لیکن انہیں قطعی طور طبی و نیم طبی عملہ کے ساتھ ایک ہی صف میں کھڑا نہیں کیاجاسکتا ہے ،ہاں اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ وہ دفاع کی سکینڈ لائن کے محافظ ہیں۔
لاک ڈائون کے کامیاب نفاذ پر کوئی معتر ض نہیں بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ عوام نے بحیثیت مجموعی اس لاک ڈائون کو کامیاب بنایا تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ اگر لوگ تعاون نہ کرتے تو صورتحال مختلف ہوسکتی تھی۔دراصل یہ عوامی تعاون کا ہی نتیجہ تھا کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو لاک ڈائون کو عملی جامہ پہنانے میںآسانی ہوئی۔لاک ڈائون کا چوتھا مرحلہ مکمل ہونے کو ہے ۔اس مدت کے دوران قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں پر بندشوں کے نفاذ کو یقینی بنانے کے نام پر غیر ضروری طرز عمل اختیار کرنے کے جوالزامات لگتے رہے ،اُس پر صفحوں کے صفحے سیاہ ہوسکتے ہیں تاہم اُن الزامات کو صرف اس وجہ سے صرف ِنظرکیاگیا کہ خاکی وردی میں ملبوس جوان فی الوقت سڑکوں پر جو کچھ کررہے ہیں ،وہ ہمارے لئے ہی کیاجارہا ہے اور انسانی جانیں بچانے کے اس عمل میں انفرادی معاملات میں کچھ لوگوں کو قانون کا سبق بھی پڑھایا جائے تو اُس پر ہنگامہ کھڑا کرنا اچھی بات نہیں ہوگی بلکہ اس مرحلہ پر ہمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تعاون فراہم کرنا ہوگا تاکہ وہ لاک ڈائون کے صد فیصد نفاذ کو یقینی بنائیں۔یہی کچھ ہوا ۔بیسیوں شکایات نظر انداز کی گئیں اور زیادتیوں کے ثابت شدہ واقعات کی ان دیکھی کی گئی تاکہ آپسی چپقلش کی وجہ سے بڑا مقصد متاثر نہ ہو جو کورونا پر فتح پانا تھا۔
اب جبکہ کورونا کیخلاف جنگ ابھی بھی جاری ہے اور بدقسمتی سے اس طرح کے واقعات کا تسلسل ابھی بھی ٹوٹ نہیں پارہا ہے توضرورت پیدا ہوچکی تھی کہ اس سلسلہ کوروکا جائے ۔ڈاکٹروں کے ساتھ حالیہ پیش آمدہ واقعات پر عوامی سطح پر جس شدت کے ساتھ برہمی کا اظہار کیاگیا،اُ سکے ردعمل میں پولیس کو خود ہی نادم ہوکر اصلاح احوال سے کام لینا پڑا ،جس کا نتیجہ ہمیں بدھ کو سڑکوںپراور ہسپتالوں کے اندر اور باہر دیکھنے کو ملا۔اب شاید ا س مسئلہ پر مزید بحث کی گنجائش نہیں رہی ہے لیکن اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ پولیس کی تازہ پہل قابل تعریف ہے تاہم اس کا تسلسل برقرار رہنا چاہئے اور اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ کورونا لاک ڈائون کے نفاذ کے دوران نہ صرف طبی و نیم طبی عملہ کی بلا خلل اور باعزت نقل و حمل کو یقینی بنایا جائے بلکہ غیر ضروری طورعام شہریوں کو بھی تنگ طلب نہ کیاجائے کیونکہ تبھی عوام کا تعاون برقرار رہ سکتا ہے جو اس جنگ میں کامیابی کی سب سے بڑی ضمانت ہے ۔
 

تازہ ترین