تازہ ترین

وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا

وقت کی پابندی میں ہی کامیابی

تاریخ    27 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


صغرا چوہدری
 گھڑی کی سوئیاں کبھی نہیں رکتیں۔جو وقت سے فائدہ اٹھا لیتا ہے، وقت اس کے کام آ جاتا ہے اور جو وقت کی قدر نہیں کرتا ،وقت اس کو پیچھے چھوڑ کرآگے نکل جاتا ہے۔وقت ایک عظیم دولت ہے۔ وہی شخص دنیا میں عزت و شہرت حاصل کر سکتا ہے جو وقت سے فائدہ اٹھاتا ہے ،اس کی قدر کرتا ہے اور اسے ضائع نہیں کرتا ہے۔ہمیں چاہیے کہ وقت ضائع نہ کریں ،ہر کام مقررہ وقت پر کرنے کی عادت اختیار کریں اور  کبھی آج کا کام کل پر نہ چھوڑیں ،یہی پابندی وقت ہے۔کسی بھی کام کو مقررہ وقت پر کرنا وقت کی پابندی کہلاتا ہے۔کسی کام کو وقت پر کرنے والا ہی اس دنیا میں کامیاب ہو سکتا ہے۔انسان امیر ہو یا غریب ،وقت کی قدر نہ کرنے والے کو وقت اپنے پیروں تلے روند ڈالتا ہے۔اس کے برعکس چند کاموں میں وقت کی پابندی کرنے سے آدمی ساری زندگی خوش و خرم رہ کر گزار سکتا ہے۔وقت کی رفتار اتنی تیز ہے کہ اسے دنیا کی کوئی تیز رفتار شئے نہیں پکڑ سکتی۔
اتنی قیمتی شئے ہے کہ اسے کبھی بھی دولت کے بدلے میں نہیں خریدا جا سکتا۔ایک ایسا ترازو ہے، جس کے ایک پلڑے میں زندگی ہے اور دوسرے میں موت۔اس کو ٹھوکر مارنے والے ہمیشہ دوسروں کی ٹھوکروں کا نشانہ بنتے ہیں۔ایک آئینہ ہے ،جس میں انسان اپنا ماضی حال اور مستقبل دیکھ سکتا ہے۔وقت کبھی کسی کا انتظار نہیں کرتا۔تقدیر ہمیشہ ایسے لوگوں کے ساتھ ہی ہوتی ہے جو وقت کی قدر کرتے ہیں۔
اگر آج ہمارے ہاتھ سے دولت نکل جائے توکل کو واپس بھی آ سکتی ہے۔اگر کل کو ہمارا کوئی دوست روٹھ جائے تو پرسوں اسے منایا بھی جاسکتا ہے۔اگر اس سال ایک مکان زمین بوس ہو جائے تو اگلے برس اس کی تعمیر نو بھی ہو سکتی ہے۔اگر ان دنوں ہماری صحت جواب دینے لگے تو آنے والے ایام میں اس نقصان کو پورا بھی کیا جا سکتا ہے۔لیکن وقت وہ بیش قیمتی خزانہ ہے کہ اگر ایک بار ہاتھ سے نکل گیا پھر دنیا بھر کی دولتیں اسے واپس نہیں لا سکتیں۔
وقت کا ایک لمحہ ہزاروں لاکھوں اشرفیوں سے بڑھ کر قیمت رکھتا ہے۔اس کے سامنے ہر قیمتی چیز خاک کے برابر بھی وقعت نہیں رکھتی۔جلیل القدر بادشاہ سکندر اعظم نے مرتے وقت یہ خواہش ظاہر کی کہ اگر مجھے چند منٹ اور زندہ رہنے کی مہلت مل جائے تو اس کے بدلے میں تمام سلطنت قربان کرنے کو تیار ہوںمگر دنیا کی کوئی طاقت اس کی خواہش کو پورا نہ کرسکی۔فلسفی حیران تھے ،وزیر دم بخود رہ گئے۔امیر بے بس تھے۔ مشیروں کو کوئی چارہ نہ سوجھا۔ وقت کے سامنے کسی کی نہ چلی۔
سورج کو دیکھو، وقت پر طلوع ہوتا ہے اور وقت پر غروب ہوتا ہے۔ زمین کو دیکھو کس باقاعدگی کے ساتھ اپنے محور اور سورج کے گرد گھومتی ہے۔اگر وہ اس گردش میں ذرا بھی لغزش کھا جائے تو دنیا میں قیامت بپا ہو جائے۔ فصلیںںموسموں کے مطابق وقت پر اُگتی اور پکتی ہیں۔اگر ان کے اوقات میں خلل واقع ہو جائے تو دنیا بھوکی مر جائے۔ یہی حال انسانوں اور قوموں کا ہے۔
جو انسان وقت کی قدر نہیں کرتا، وہ ذلیل و خوار ہو کر مرتا ہے۔ اس سے کسی کو کامیابی نہیں ہو سکتی۔ جو قوم وقت اور موقعہ کو غنیمت نہیں جانتی، وہ دنیا میں پچھڑ جاتی ہے۔
زندگی چند روزہ ہے۔اس لئے وقت کی قدر اور بھی زیادہ ہونی چاہیے اور اس مختصر زندگی میں ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرنا چاہیے۔جو لوگ وقت کی قدر کرتے ہیں ،وہ ہر کام جلدی سے جلدی انجام دیتے ہیں اور کبھی بھی وقت کی کمی کی شکایت نہیں کرتے۔ ان کے تمام کام عین وقت پر یا اس سے پہلے ہی پورے ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جو آدمی سست اور غافل ہوتا ہے ،اس کا وقت یوں ہی گذر جاتا ہے اور وہ کوئی کام وقت پر نہیں کر سکتا ،اس لیے اس کے کام ادھورے رہ جاتے ہیں اور وہ نا کام و نامراد ہو کر کف ِافسوس ملتا رہ جاتا ہے۔ وقت کی پابندی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہم اپنے وقت کو سوچے سمجھے پروگرام کے مطابق صرف کریں بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں کا وقت بھی ضائع نہ کریں۔
اصل میں روپیہ پیسہ دولت نہیں بلکہ وقت ہی اصل دولت ہے۔وقت سے ذرا سی غفلت برتیں تو دولت بھی انسان سے دور ہو جاتی ہے اور انسان قلاش ہو جاتا ہے۔چنانچہ ضروری ہے کہ وقت کی قدر کی جائے اور لاپروہ ہوکے وقت ضائع نہ کیا جائے۔ ایسا کرنے سے نہ عزت رہتی ہے ، دولت نہ صحت۔وقت کی ناقدری کرنے والے زمانے میں اپنی قدر کھو دیتے ہیں۔وقت ایک انمول اور بے مثال دولت ہے۔یہ قدرت کا وہ تحفہ ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔یہ وہ طاقت ہے جس کا صحیح استعمال انسان کو خدا شناشی،خود شناشی اور جہاں شناشی کی لا زوال دولت سے مالا مال کردیتا ہے۔انسان اگر غور کرے تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی زندگی برف کی طرح پگھل رہی ہے، پھول کی طرح مرجھا رہی اور صبح و شام کی طرح ڈھل رہی ہے۔
 وقت کا پابند رہنے کی عادت بچپن ہی میں ڈالنا ضروری ہے۔وقت سب کو ملتا ہے زندگی بدلنے کے لئے لیکن زندگی دوبارہ نہیں ملتی وقت بدلنے کے لیے۔جو لوگ وقت کی قدر نہیں کرتے، وہ درحقیقت ایک قیمتی خزانہ ضائع کر دیتے ہیں۔گزرا ہوا وقت کبھی کسی کی موت پر بھی واپس نہیں آتا۔اللہ تعالی نے بھی ہمیں وقت کی پابندی کا حکم دیا ہے۔نماز ہمیں پابندی وقت کا درس دیتی ہے۔
رمضان ابھی چند روز قبل ہی ہم سے رخصت ہوا ۔رمضان بھی ہمیں وقت کی پابندی سکھاتا ہے ۔روزہ بھی وقت کا پابند بناتا ہے،وقت تک سحری کھانا پڑتی ہے ،وقت پر سحری کرنی پڑتی۔اگر سحری دیر سے کھائی جائے اور افطاری وقت سے پہلے یا بعد میں کیاجائے تو روزے کا ثواب بھی گیا اور سارے دن کی محنت بھی ضائع جاتی ہے۔وقت اللہ تعالی کی امانت ہے، جس کا ایک لمحہ بھی ضائع کرنامجرمانہ خیانت ہے۔وقت گہرے سمندر میں گرا ہوا موتی ہے جس کا دوبارہ ملنا ناممکن ہے۔
بہت سے لوگ وقت کی اہمیت کو نہیں سمجھتے ہیں۔ پھر جب وقت ہاتھ سے چلا جاتا ہے تو پھر بیٹھ کر افسوس کرتے ہیں۔آج کل کے لوگ وقت کی بالکل قدر نہیں کرتے ہیں ۔اپنا وقت فضول کھیلوں اور برے کاموں میں ضائع کردیتے ہیں۔ وہ ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتا جس کی عوام وقت کی قدر نہیں کرتی۔اللہ پاک ہم سب کو وقت کی پابندی کرنے اور اس کی اہمیت سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
 پونچھ جموں و کشمیر