تازہ ترین

لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

یہ بلائیں بھی ٹل جائیں گی، بس تھوڑا سا صبر اور

تاریخ    27 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


ہلال احمد تانترے
ایک انسان اپنی زندگی میں کتنی بار بیمار ہو جاتا ہے؟ لیکن کیا اس کو بیماری کے دوران اپنی پوری زندگی سے شکوہ کرکے زندگی کی امید کھو بیٹھنی چاہیے ؟ انسان کے اوپر کتنی بار مشکلات اور تکالیف وارد ہو جاتی ہیں؟ لیکن کیا مشکلات اور تکالیف کے اندر کھو بیٹھے رہنے کو ہی صحیح سمجھا جائے ؟ اسی طرح سے سماج کے اوپر بحیثیت مجموعی کتنی بار آفات سماوی آجاتی ہیں؟ لیکن کیا اُن آفات پر رونے دھونے میں ہی عافیت سمجھی جا ئے ؟ اسی طرح سے اس وقت پوری دنیا کورونا وائرس کے وبا میں لپٹی ہوئی ہے، لیکن کیا لوگوں کو ڈرانے دھمکانے اور ان سے امید کا دامن چھڑوانے کو عقلمندی کا نام دیا جا سکتا ہے؟ الغرض، ایک فرد کی نجی زندگی سے لے کر اقوام کے اداروں تک کئی مرتبہ ایسی کئی ساری آزمائشیں آتی رہتی ہیں، جن کا مقابلہ کرنے اور ان آزمائشوں سے نکلنے کی امید کے ساتھ زندگیاں آگے بڑھتی رہتی ہیں۔ تاریخ انسانی سے یہ ایک بے بدل معاملہ ازل سے ہی رہا ہے۔ 
ہمارا آس پاس کا ماحول عرصہ دراز سے شورش و غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ یہی ابتری اس وقت بھی نمایاں دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن کیا اس کا مطلب شکوے شکایتیں کرنا اور ایک دوسرے پر کوسنا وغیرہ ہی ہے؟۔ اسی طرح سے کیا اس کا مطلب امید کے دامن کو ہاتھ سے چھوڑنا ہے؟۔ کہتے ہیں کہ شکایت کمزور لوگ کیا کرتے ہیں۔ طاقت ور انسان طوفانی موجوں سے لڑتے لڑتے بھی اپنی کامیابی کے حسین خواب دیکھا کرتا ہے اور اس طاقت کو حاصل کرنے کے لیے انسان کو کسی شمشیر یابندوق کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ اپنے گریبان میں جھانک کر لائحہ عمل مرتب کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے سے حاصل ہوسکتی ہے ۔ 
کورونا وائرس کا حملہ اس وقت بنی نوع انسان پر اپنے عروج پر ہے۔ ہر کوئی بے بس دکھائی دے رہا ہے۔ ٹیکنالوجی اور سائینس کا دبدبہ اور غلبہ بھی اس پر قابو پانے میں ناکامیاب دکھائی دے رہا ہے۔ ہر کوئی ورطہ حیرت میں ہے کہ کس طرح ایک نا دیدہ وائرس نے پوری دنیائے انسانیت کو یک دم اپنے گھروں میں مقید کر دیا۔ ہر روزہزاوں کی تعداد میں اموات کی خبریں موصول ہوتی ہیں۔ اس کے بعد اس وائرس کے تدارک کی تدابیر سے جو معاشی بدحالی پوری دنیا میں چھا گئی ہے، اس نے ایک اور بحران کو جنم دیا ہے۔ ادھر نفسانی بیماریوں نے بھی سر نکالتے ہوئے کثیر آبادی کو اپنا نوالہ بنایا ہوا ہے۔ لیکن کیا ہمیں ان حالات میں اپنے آپ کو انہی حالات کے حوالے کرنا ہے؟۔ اس پر جب سوچ وچار کیا گیا تو دیکھا گیا کہ پہلے تو اتنا گھبرانے کی ضرورت قطعی طورپر نہیں ہے، جتنا کہ صورتحال کو بھیانک طریقے سے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد ان غیر یقینی لمحات کو اس طرح خاطر میں لانا ہے کہ انسان زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکے۔ مثال کے طور پر، اسے پہلے انسان چاہ کے بھی اپنے گھر کے افراد کے ساتھ وقت نہیں نکال سکتا تھا، یا اپنی کوئی خاص کتاب پڑھ نہیں سکتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح سے ماہرین نفسیات نے کئی سارے ایسے فارمولے بتا دیے ہیں جن کی وساطت سے امید کے ساتھ تعلق بنائے رکھا جا سکتا ہے۔ امید یہ ہونی چاہیے کہ ان حالات کے گذر جانے کے بعد ہم پھر سے ایک نئے جوش اور ولولے کے ساتھ ابھریں گے۔ لیکن تب تک ہمیں اپنے اپنے آپ کو ثابت قدم رکھنے کی ضرورت ہے ۔  
اس وقت انتظامیہ اور میڈیا کے ایوانوں سے گذارش صرف اتنی ہے کہ براہ مہربانی عام لوگوں کی سادہ لوحی کا ناجائز فائدہ مت اٹھائیں۔ اُن پر خوف وخطر کے عالم کو مسلط مت کریں۔ ان کے لیے اِن دگر گوں حالات میں جینے کا ذریعہ بنیںس، ان کی ہنسی خوشی کو قائم رکھیں، ان کی امیدوں کو دوام بخشیں، ان کے سامنے کسی ایسی صورتحال کا تذکرہ مت کریں ، جن کی باریک بینوں کی انہیں کوئی خبر نہیں، ان کو ایسی موشگافیاں سننے کا موقع فراہم نہ کریں جن کو سمجھنے کے لیے ان کا ذہن قابل نہیں، انہیں ایسے فیس بک پوسٹس ٹیگ کر کے نہ پڑھائیں جن سے کہ ان کی نفسیاتی بیماریاں بڑھ جائیں، انہیں کوئی ویڈیودکھانے پر اسصرار نہ کریں جن سے کہ ُان کے ہوش کے ناخن اُڑجائیں۔ 
اس بات کا اعادہ کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ دنیا کوئی بے اصل مقام نہیں ہے ۔ اِ س کی تخلیق کے پیچھے ایک بہت بڑی حکمت پنہاں ہے۔ یہاں جو کچھ ہوتا ہے پوری مدبری اور حکمت کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہاں اگر درخت سے ایک پتہ بھی گِر جاتا ہے تو اس میں بھی کوئی نہ کوئی راز چھپا ہوا ہوتا ہے۔ اللہ پر بھروسہ رکھیں اور لوگوں کو بھی اللہ پر بھروسہ کرنے کو کہیں۔ یہ دنیا راقم جیسے کم زور ایمان والوں سے بھری ہوئی ہے۔ کیا ہی بہتر ہوتا اگر اُن کے اِس کمزور ایمان کی مضبوطی کا ذریعہ بن کر دنیا و آخرت کی فلاح اپنے نام کی جائے ، نہ کہ انہیں ڈرا دھمکا کے پہلے سے ہی عائد شدہ panedemic کا آسان نوالہ بنا کر اپنے ایمان کو تار تار کر کے اپنی خیر منائی جائے ۔ 
اب آئیے اپنے گھر کی بات کرتے ہیں۔ امر واقع یہ ہے کہ کورونا لاک ڈائون کے اندر ہم ایک اور لاک ڈائون کی زندگی پچھلے نو مہینوں سے جی رہے ہیں اور جو ابھی تک بھی ختم نہیں ہواہے کیوں کہ واضح ہے کہ مواصلاتی نظام کو ابھی تک پوری طرح بحال نہیں کیا گیا ہے، اسی طرح نیم فوجی دستوں کی اضافی تعیناتی کو بھی ختم نہیںکیا گیا۔ شاید یہی وجہ رہی کہ کورونا لاک ڈائون کا اتنا اثر ہمارے اوپر نہیں پڑا جتنا کہ یہ اپنابھیانک چہرہ باقی ممالک میں دکھا رہا ہے ۔ کورونا لاک ڈائون کو اگر طبی لاک ڈائون کہا جائے تو اسے پہلے والے کو سیاسی لاک ڈائون سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ کشمیر کے لوگ کورونا لاک ڈائون سے اتنے خوف زدہ نہیں ہیں جتنا کہ وہ سیاسی لاک ڈائون سے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ کورونا اگر دسیوں ہزار جانیں بھی لے لے گا ،لیکن سیاسی اعتبار سے جو تحفظات ان کو درپیش ہیں، وہ پوری قوم کے مستقبل کوہی اپنے ساتھ ڈھا لیں گے۔ ایسے تحفظات بالکل برحق ہیں۔ اسی طرح سے اگر دیکھا جائے تو کُل صورتحال یہ ہے کہ کشمیر کے لوگ اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہے ہیں۔ وقت کی آندھی کے سامنے وہ زیر ہو چکے ہیں۔ لیکن یہاں پھر سے وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمیں نئی صبح کی امید نہیں رکھنی چاہیے؟ نیند مثل موت ہے، لیکن کیا ہم رات کو یہ سوچ کر بستر پر لیٹ جاتے ہیں کہ صبح آنی ہی نہیں ہے یا ہم پورے اطمینان کے ساتھ سوتے ہیں کہ کل صبح پھر سے ایک نئے جذبے اور نئی تازگی کے ساتھ اٹھنا ہے؟ ۔
الغرض، یہ وقت ناامیدی اور بد مزگی کا نہیں ہے۔ اپنے سماج کے خدو خال کو ٹٹولنے کی ضرورت ہے ۔ آج ایسی تمام سرگرمیوں پر اگر چہ پابندی ہے، جو کہ اسے پہلے بڑے زور وشوروں پر کی جاتی تھیں، لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ باقی کام کرنے کے لیے کچھ بچا ہی نہیں۔ہمارے سماج کے اندر ایسی کتنے سارے مسائل ہیں جن پر ہمیں بحیثیت مجموعی غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے سماج کے اندر پنپ رہی برائیوں کا سد بات کرنے کی کیا ضرورت نہیں ہے؟ ۔پچھلی کئی ساری دہائیاں ہمیں اس سیاسی رسہ کشی میں عملاً گذارنی پڑیں۔ آج اگر ہم ماند پڑ گئے ہیں، تو اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ ہم سوئے رہیں یا اپنی بے بسی کا نوحہ کریں ۔ سیاسی طور پر امن و امان کی ضرورت تو ہمیں بالکل ہے، لیکن کیا ہمیں تعلیمی طور پر اعلیٰ و ارفع نہیں ہونا چاہیے۔ کیا ہمیں معاشی طور خود کفیل نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن ، ان اور ایسے کئی سارے سماجی مسائل کا کوئی پرسان حال ہی نہیں۔ سیاسی بدامنی نے ہمیں اُس ایک عالم میں دھکیل دیا ہے ، جہاں پر ہمیں سیاست کے علاوہ کچھ دکھائی ہی نہیں دے رہا ہے۔ اپنے سماج کے اہم کل پرزوں کو ہم نے پس پشت ڈال دیا ہے۔ صحت عامہ اور تعلیم دو ایسے شعبے ہیں کہ انہی میں قوموں کے عروج و زوال کا راز چھپا ہوا ہے۔ لیکن نظر دوڑائیے کہ یہ دونوں شعبے کس کسمپرسی کے شکار ہیں ۔ اس پر مستزاد کسی کو کوئی فکر ہی نہیں ہے۔ آج مواقع ہیں کہ ہم اپنے ہمسایوں ، رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ روابط بڑھائیں۔ سماج کے اندر پنپ رہی بیماریوں کو سمجھیں۔ کل جب آپ سیاسی طور فعال ہوں گے تو اس وقت ایسی کئی سماجی بیماریوں کی طرف سے اطمینان ہو اور آپ پوری یکسوئی اور دل لگی کے ساتھ میدان کار زار میں اتریں۔ 
اس لیے یہ وقت موزون ہے کہ ہم اپنے سماج کی اُوور ہالنگ کریں، ذیلی اداروں کا جائزہ لیں۔ اس کی نوک پلک سنواریں اور اس کی مجموعی صورتحال کو اتنا چکا چوندعطا کریں کہ اگلی صبح جب اٹھنا ہوگا، تو ایک نئی امنگ کے ساتھ اٹھیں۔ اُس وقت ہمیں آرام کرنے کی ضرورت نہ پڑے، بلکہ اُس وقت ہم اتنے تیار ہوں کہ جہاں بھی گھس جائیں ،وہاں سے سرخ روئی حاصل کرتے جائیں ۔ وقت بدلتا رہتا ہے، صورتحال ایک جیسی نہیں رہتی، لیکن بدلتے وقت تک صبر و استقامت دکھانے کی ضرورت ہے۔ مسئلے کو موضوع بحث بنانے سے زیادہ مسئلے کے حل کی خاطر متوجہ ہوں۔ ــ’’حل‘‘ کی طرف جتنا زیادہ ہم دھیان دیں گے، اتنا ہی ہمارے لیے بہتر ہوگا۔ 
 
���������
(مضمون نگار کشمیر یونیورسٹی سرینگرکے شعبہ سوشل ورک میں ریسرچ سکالر ہیں)