معیشت اور عوامی صحت…توازن برقرار رکھیں

تاریخ    27 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


کورونا وائرس کے پھیلائو میں فی الحال بتدریج اضافہ ہورہا ہے اور مستقبل قریب میں اس وباء سے خلاصی کی کوئی اُمید نظر نہیں آرہی ہے ۔گوکہ اس بات سے انکار نہیں کیاجاسکتا ہے کہ دنیا بھر کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک اور جموںوکشمیر میں بھی حکومتی سطح پر اس وباء سے نمٹنے کی کوششیں جاری رہیں تاہم فی الحال نتائج کوئی اطمینان بخش نہیں ہیں۔اب تو یہ بات تقریباً طے ہوچکی ہے کہ اس وائرس کا ویکسین تیار ہونے میں اگر جلدی بھی ہوئی تو اس سال کے اختتام سے قبل نہیں آئے گاجبکہ دوسری جانب انسانی جسم میں وبائی عفونت کی تشخیص کیلئے جو انٹی باڈی ٹیسٹ کٹس منگوائے گئے ہیں،ان کے معیار پر عالمی سطح پر سوالات اٹھنے لگے ہیں اور خودعالمی ادارہ صحت سے لیکر امریکہ نے بھی متعدد خدشات کا اظہار کیا ۔جہاں تک ہمارے ملک کا تعلق ہے تو گوکہ یہاں بھی یہ کٹس ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کوحکومت کی طرف سے سپلائی کئے گئے تھے تاہم ان کا استعمال فوری طور روکا گیا اور اس ضمن میںانڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ نے جو وجہ پیش کی ہے ،وہ کم و بیش امریکہ اور عالمی ادارہ صحت کے دلائل سے میل کھاتی ہے ۔یہاں بھی ان ٹیسٹ کٹس کے معیار کو موضو ع بحث بنا یاگیا ہے اور اب آئی سی ایم آر نے کہا ہے کہ پہلے اس کی تحقیق ہوگی اور جب تشفی ہوگی تو ا سکے بعد ہی انہیں استعمال میں لایا جائے گا۔یہ ٹیسٹ قطعی طور کسی انسان میں کورونا وائرس کی تصدیق نہیں کرسکتا ہے تاہم کورونا سے بری طرح متاثرہ علاقوں میں انہیں وسیع پیمانے پر استعمال کرنے کے پیچھے یہ مقصد کارفرما تھا کہ کم ازکم ان متاثرہ علاقوں میں رہنے والے افراد کے بارے میںیہ معلوم ہوسکے کہ کون وائرل انفیکشن میں مبتلا ہیں اور اس کے بعد ایسے لوگوں کو الگ تھلگ کرکے ان کے کورونا ٹیسٹ لئے جاسکتے تھے ۔اس عمل سے یقینی طو ر پر ریڈ زونوں میں بڑے پیمانے پر جانچ کا عمل شروع ہوسکتا تھا اور کافی حد تک کورونا متاثرین کا پتہ لگانے میں مدد مل سکتی تھی تاہم اب جبکہ اس ٹیسٹ کا استعمال بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوچکا ہے تو ہمارے پاس لے دے کے اگر کچھ بچا ہے تو وہ سماجی دوریاں بنائے رکھنا ہی ہے اور اس کیلئے شاید لاک ڈائون کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہا ہے ۔ویسے بھی عالمی ادارہ صحت نے جو تازہ ترین انتباہ جاری کیاہے ،اس میں بھی کورونا بندشوں میں نرمی کے تباہ کن اثرات سے آگاہ کیا ہے۔عالمی ادارہ صحت کا ماننا ہے کہ یہ وقت لاپرواہی برتنے کا نہیں ہے اور ہمیں نظر آنے والے مستقبل کیلئے ایک نیا طرز زندگی اپنا نا پڑے گا۔WHOکے مطابق معیشت کی فعالیت او ر عوامی صحت کے درمیان صحیح توازن قائم کرنے کیلئے ہمیں مرحلہ وار بنیادوں پر لاک ڈائون اور دیگر سماجی دوریوں کے اقدامات کو نرم کرنا پڑے گا۔یہ انتباہ بھی کسی ٹھوس تجزیہ پر مبنی ہوگا اور اگر اس ادارہ کیلئے کچھ کہاہے تو یقینی طور پرتمام معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لیکر ہی کہا ہوگا۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ کورونا کی وجہ سے عالمی معیشت تباہ حال ہے اور امریکہ میں خام تیل کی قیمتوں کا جو حال ہوا،وہ اس نہج، جس نہج سے فی الوقت عالمی معیشت گزر رہی ہے، کو سمجھنے کیلئے کافی ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ کئی امریکی ریاستوں کے علاوہ کئی یورپی ممالک میں بندشیں نرم کرنے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور کچھ بڑے عالمی سطح کے کارخانہ داروںنے اپنے کارخانے چالو کردئے ہیں۔واقعی یہ مجبوری ہے اور دنیا زیاد ہ دیر تک لاک ڈائون کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے اور یہی اصول ہمارے ملک اور جموں وکشمیرپر بھی لاگو ہوتا ہے کیونکہ ہماری معیشت بھی دنیا سے جدا نہیں بلکہ جڑی ہوئی ہے ۔جہاں ہمیں معیشت کی بحالی کی فکر دامن گیر ہونی چاہئے اور اس کیلئے کوششیں کرنی چاہئیں وہیں ارباب اختیار کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ انسانی زندگی کو اولیت حاصل ہے ۔جان ہے تو جہان ہے کا محاورہ ایسے ہی مواقع کیلئے برمحل ہے ۔جب جان سلامت رہے گی تو معیشت کا پہیہ پھر سے چل پڑسکتا ہے ۔جان بھی جہان بھی کا محاورہ وزیراعظم نریندر مودی نے چند روز قبل اس لئے استعمال کیا کیونکہ انہیں بھی اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ لاک ڈائون کی وجہ ملکی معیشت وینٹی لیٹر پر چلی گئی ہے اور بحیثیت ملکی سربراہ ان کا یہ سوچنا بالکل صحیح ہے کہ جہاں کورونا وائرس کیخلاف جنگ جیتنی ہے ،وہیں معیشت کو بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا ہے او ر اس کو بھی فعال رکھنا انتہائی ہی لازمی ہے ۔اسی سوچ کی وجہ سے لاک ڈائون میں کچھ نرمیاںکی گئیں تاہم ان رعایتوں کے ابھی تک نتائج ظاہر نہیں ہوپائے ہیں لیکن یہ بات سچ ہے کہ اگر کورونا کی رفتار کسی چیز کی وجہ سے فی الوقت کسی حد تک قابو میں ہے تو وہ عوامی نقل و حمل پر قدغن ہے اور اگر لاک ڈائون کو مزید نرم کرنے کے بارے میں سوچ بچار کیاجارہا ہو تو اس بات کو ملحوظ نظر رکھا جائے کہ فی الوقت ہم قطعی طور سہل انگیزی کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں اور ہمیں چوکسی برقرار رکھنی ہے ۔  
 

تازہ ترین