لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر ہند چین افواج کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال

۔10ہزار چینی افواج بھارتی علاقے میں موجود، فوجی اڈے پر لڑاکا طیارے تیار

تاریخ    27 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


یو این آئی
نئی دہلی // چین نے لداخ کے نزدیک اپنے فوجی ہوائی اڈے کی توسیع کی ہے جہاں اس نے لڑاکا طیارے تیاری کی حالت میں رکھے ہوئے ہیں۔این ڈی ٹی وی رپورٹ میں سٹیلائٹ سے لی گئیں تصاویر ،لداخ میں دونوں ملکوں کی افواج ایک دوسرے کے سامنے آنے کے بعد لی گئیں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان لداخ میں فوجیوں کیا ایک دوسرے کے سامنے آنے سے جو تشوناک صورتحال پیدا ہوگئی ہے ایسا 1999میںکرگل جنگ کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔سٹیلائٹ تصاویر میں صاف طور پر چین کی طرف سے بڑے پیمانے پر چین کے فوجی اڈے کے نزدیک تعمیراتی سرگرمی دیکھی جاسکتی ہے۔ مذکورہ فوجی اڈہ لداخ میں پنگانگ جھیل سے 2سو کلو میٹر دور ہے جہاں 5اور 6مئی کو دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان تصادم ہوا تھا۔نگری گونسا فوجی ائر پورٹ تبت میں تعمیر کیا گیا ہے۔فوجی اڈے کی پہلی تصویر 6اپریل کی ہے جس میں برائے نام تعمیراتی سرگرمی دکھائی دیتی ہے لیکن دوسری تصویر جو 21مئی کو لی گئی ہے میں نہ صرف ہوائی اڈہ مکمل طور پر تعمیر کیا جاچکا ہے بلکہ اسکے ساتھ ایک اور سڑک کی تعمیر کی گئی ہے جو بظاہر فوجی ہیلی کاپٹروں کیلئے ہے اور فوجی اڈے پر چار لڑاکا طیارے بھی دکھائی دیتے ہیں۔5مئی کو پانچ ہزار چینی فوجی اہلکار گلوان وادی میں دو سے تین کلو میٹر اندر بھارتی حدود میں داخل ہوئے اور بعد ازاں ایک ہفتے بعد12 مئی کو اتنی ہی تعداد میں چینی فوجی اہلکار پیونگ یانگ جھیل سیکٹر میں وارد ہوئے ۔ چینی فوجیوں کی دراندازی کا یہ سلسلہ جاری رہا اور انہوں نے جنوبی لداخ کے ڈمچوک اور شمالی سکم کے ناکولا علاقوں میں بھی در اندازی کی ہے ۔رپورٹوں میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پیونگ یانگ جھیل علاقے میں 12 اور13 مئی کو ہزاروں چینی فوجیوں نے فنگر 8 اور فنگر 4 کے درمیان متنازعہ علاقے پر قبضہ جمایا اور 18 مئی تک انہوں نے فنگر ہائٹ کو اپنے مکمل قبضے میں لیا۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق پیونگ یانگ جھیل علاقے میں پانچ مئی کو ہندوستان اور چینی فوجی اہلکاروں کے درمیان لاٹھیوں اور سلاخوں سے جھڑپیں بھی ہوئیں اور سنگ باری بھی جس میں طرفین کے فوجی اہلکار زخمی ہوئے ۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اس وقت چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے قریب 10 ہزار اہلکار بھارتی علاقوں میں موجود ہیں۔ مذاکراتی عمل منجمد ہے اور چین، ہندوستان کی طرف سے فلیگ میٹنگیں منعقد کرنے کی پیشکشوں کو رد کررہا ہے ۔باوثوق ذرائع کے مطابق چین نے گذشتہ دو ہفتوں کے دوران گلوان وادی میں خصوصی طور پر اپنی موجودگی کو مستحکم کرتے ہوئے ایک سو خیمے نصب کئے ہیں اور بنکروں کی تعیر کے لئے ضروری ساز سامان بھی لایا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فوجی اہلکار بھی حساس علاقوں بشمول ڈمچوک اور دولت بیگ اولڈی میں جارحانہ انداز میں گشت کررہے ہیں۔گذشتہ ہفتے فوی سربراہ نے یہاں صورتحال کا جائز لیا تھا۔اس موقعہ پر یہاں چینی سرگرمی فضا اور پانی میں بھی دیکھی گئی۔وزارت داخلہ کو بتایا گیا تھا کہ پنگانگ جھیل میں چینی افواج نے موٹر بوٹوں میں گشت شروع کی ہے۔این ڈی ٹی وی کو انٹر ویو دیتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل بھدوریا نے کہا تھا’’ چینی ہیلی کاپٹروں کو لداخ خطے میں اکثر دیکھا گیا ہے‘‘۔اسکے بعد بھارتی فوج نے علاقے میں اپنی فوجی تعداد بڑھادی، گلوان دریا علاقے اور پنگانگ جھیل کے علاوہ دمچوک کے نزدیک اضافی فورسز بھیج دیئے گئے۔رپورٹ کے مطابق بھارت کیلئے سب سے بڑی تشویش شمال میں’ گلوان دریا وادی‘ ہے جہاں چینی فوج خطرہ بن گئی ہے کیونکہ اس نے بھارت کے ایک اہم ہوائی اڈے دولت بیگ تک تعمیر کی گئی سڑک کے نزدیک مورچے بنائے ہیں۔دولت بیگ ائر فورس  اڈہ لداخ میں بھارتی فوجیوں کیلئے سپلائی لیجانے کیلئے انتہائی اہم ہے۔بتایا جاتا ہے کہ مقامی کمانڈروں جن میں کرنل سے لیکر میجر جنرل شامل ہیں، کی چینی کمانڈروں کیساتھ م،تعدد میٹنگیں منعقد ہوچکی ہیں لیکن ان میں کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔
 

راجدھانی میں طویل میٹنگیں

وزیر اعظم اور وزیر دفاع 

قومی سلامتی مشیر اورتینوں فوجی سربراہان سے ملے

نیوز ڈیسک
 
نئی دہلی //وزیر اعظم نر یندر مودی نے راجدھانی میں لداخ  میں بھارت اور چینی فوج آمنے سامنے  ہونے کے معاملے پر قومی سلامتی مشیر اجیت دوول اور فوج کے تینوں شاخوں کے سربراہوں کے علاوہ چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت کیساتھ اہم میٹنگ میں صورتحال پر گفت و شنید کی ہے۔ اس سے قبل سیکریٹری وزارت خارجہ کیساتھ الگ میٹنگ کی گئی تھی۔ اس میٹنگ سے قبل وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے فوج کی تینوں شاخوں کے سربراہان کیساتھ مشاورت کی تھی۔ لگاتار میٹنگوں کا انعقاد لداخ اور سکم میں دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان آمنے سامنے آنے کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر کیا جارہا ہے۔پیر کو نئی دہلی میں چینی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو واپس وطن جانے کی صلاح دی تھی۔

 

 

تازہ ترین