تُھوک استعمال نہ کرنے کا اصول لاگو کرنا مشکل:بریٹ لی

تاریخ    24 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


 نئی دہلی/ آسٹریلیا کے سابق فاسٹ بولر بریٹ لی کا خیال ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے گیند پر تھوک استعمال نہیں کرنے کے قوانین کو نافذ کرنا مشکل ہوگا۔ہندستان کے سابق کپتان انل کمبلے کی زیر قیادت آئی سی سی تکنیکی کمیٹی نے کورونا کے خطرے کو دیکھتے ہوئے گیند پر تھوک کے استعمال پر پابندی کی سفارش کی تھی۔کمیٹی نے اگرچہ گیند پر پسینے کے استعمال کی اجازت دی ہے ۔طوفانی گیند باز لی کا خیال ہے کہ کیریئر کے آغاز سے ہی کھلاڑی گیند پر تھوک استعمال کرتے ہیں اور راتوں رات اس کا استعمال نہ کرنے کی عادت چھوڑنا کسی بھی کھلاڑی کے لئے مشکل ہوگا۔ انہوں نے اسٹار اسپورٹس کے شو کرکٹ کنکٹڈ میں کہا کہ جب آٹھ نو برس کی عمر سے گیند پر تھوک استعمال کیا جاتا ہے تو ایسے میں اس عادت کو راتوں رات چھوڑنا بہت مشکل ہو گا۔آسٹریلیا کے لئے 76 ٹیسٹ اور 221 ون ڈے کھیلنے والے لی کو امید ہے کہ اگر اس اصول کی خلاف ورزی ہو جاتی ہے تو آئی سی سی کھلاڑیوں پر نرمی برتے گا۔لی نے کہا کہ میرے خیال سے آئی سی سی اس میں کچھ نرمی کرے گا جیسے قوانین کی خلاف ورزی ہونے پر تنبیہ دی جائے گی۔یہ اچھی پہل ہے لیکن میرے خیال سے اس اصول کو لاگو کرنے میں مشکل ہو گی کیونکہ کھلاڑی ہمیشہ سے اس کا استعمال کرتے آئے ہیں۔جنوبی افریقہ کے سابق کپتان فاف ڈو پلیسس بھی لی کی بات سے متفق ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس اصول سے فیلڈروں کو بھی مشکل ہو گی۔انہوں نے کہا کہ فیلڈرز کے لئے بھی اس پرعمل کرنا مشکل ہو جائے گا۔جیسا لی نے بتایا، مجھے بھی سلپ میں گیند پکڑنے سے پہلے ہاتھوں پر تھوک لگانے کی عادت ہے کیونکہ اس سے کیچ پکڑنے میں آسانی ہوتی ہے ۔آپ اگر رکی پونٹنگ جیسے کھلاڑیوں کو دیکھیں تو وہ اکثر اپنے ہاتھوں میں تھوک لگاتے تھے ۔یو این آئی ۔

تازہ ترین