تازہ ترین

کشمیرمیں عید سے قبل بازار ویران ، لوگ پریشان

تاریخ    23 مئی 2020 (32 : 03 PM)   
(File pic)

یو این آئی
سرینگر// کورونا لاک ڈاون کی وجہ سے جہاں وادی کشمیر کے بازاروں کی ویرانی وبا کے منفی اثرات کی عکاسی کررہی ہے وہیں لوگوں میں بھی روایتی جوش وخروش مفقود نظر آرہا ہے۔
اگرچہ لوگ اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لئے تگ و دو کرتے نظر آرہے ہیں لیکن روایتی چہل پہل اور گہماگہمی غائب ہے اور بیشتر دکانیں بند ہیں۔
ادھر لاک ڈاون کی وجہ سے لوگوں کو درپیش اقتصادی بحران کے بیچ اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں اور بازاروں میں ان کی عدم دستیابی بھی ایک مسئلہ بنا ہواہے۔
وادی میں یہ مسلسل دوسری عید ہے جب لوگوں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے اور بازار سنسان ہیں۔ سال گذشتہ کے پانچ اگست کے بعد آنے والی عید الضحیٰ کے موقع پر بھی وادی کے بازاروں میں ویرانی ہی ویرانی تھی۔
تجارت پیشہ لوگوں، بالخصوص دکانداروں کا کہنا ہے کہ وہ سال گذشتہ کے ماہ اگست سے لگاتار بحران کا شکار ہیں اور اب حالات ایسے بن گئے ہیں ۔
شہر سری نگر کے بازاروں میں تمام دکانوں، بالخصوص کپڑے کے دکانوں، بیکری، مرغ فروشوں اور قصائیوںکی دکانوں پر جو بھیڑ ہوتی تھی وہ کلی طور پر غائب ہے۔
مقامی لوگوں کو یہ بھی شکایت ہے کہ جو اکا دکا دکانیں اندرونی آبادی والے علاقوں میں کھلی ہیں اُن کے پاس سپلائی کا فقدان ہے۔ خاص کر آج کی عہد پر مرغ سرے سے ہی غائب ہیں جبکہ قصابوں کو بھی بھیڑ میسر نہیں ہیں۔ 
 عید کی آمد کے پیش نظر گاڑیوں اور لوگوں کی بھیڑ کا عالم یہ ہوتا تھا کہ کہیں تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں ہوتی تھی اور پانچ منٹ کا فاصلہ طے کرنے میں آدھ گھنٹہ لگ جاتا تھا لیکن امسال ہر سو ویرانی ہی ویرانی ہے۔