حکومتی نااہلی اور میڈیا کی بے حسی

سسکتی انسانیت پر سیاسی محلات کی تعمیر کیوں؟

23 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

غازی سہیل خان
کورونا وائرس نے دنیا میں ہاہا کار مچا دی ہے ۔ملکی میڈیاسے مختلف طرح کی خبریں آرہی ہیں ۔کہیں لوگ بندشوں کے بیچ شراب کی دکانوں کے باہر شراب خریدنے میں ایسے مست ہیں کہ جیسے زندگی کی بقا کے لئے جام مفت میں تقسیم کئے جا رہے ہوںاور کہیںشراب نوش کرنے کے بعد نالیوں اور سڑک پہ مدہوشی کی حالت میں پڑے پیر وجواں ۔سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پہ کہیں مزدوروں کو ایک شہر سے دوسرے شہر بچوں کے ہمراہ پیدل سفر کرتے دیکھا گیا تووہیں گھر پہنچنے کے چکر میں 124سے زائدمزدور اپنی زندگی سے ہی نجات حاصل کرگئے ۔ایسی تصاویر اور ویڈیوزبھی فیس بک پہ گردش کر رہی ہیں جن میں غریب اور مجبور دو وقت کی روٹی کے لئے بلک بلک کے پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے دُہائیاں دے رہے ہیں،مریضوں اور بزرگوں نے جیسے اب جینے کی تمنا ہی چھوڑ دی ہو ۔چند سماجی تنظیمیں اور ادارے مخلصانہ اندازمیں قوم و ملت کی خدمت میں دن رات لگے ہوئے ہیں وہیں چند ضمیر فروش سماجی خدمت کے نام پر اپنے اپنے مفادات کی آبیاری میں مست ہو کر چہرے کا ایک عدد ماسک تھمانے کے بعد موبائل فونوں سے سیلفیاں کھینچ کے لوگوں پہ احسان جتانے کی ناکام کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔
مجموعی طورپرساری دنیا میں ریاستیں اور حکومتیں اس بیماری کے دوران عوام کی مشکلات کو دور کرنے میں ابھی تک ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہیں ۔حالانکہ اگراس طرح کی آفات سے پہلے ہی دنیا نے اپنی اپنی چودھراہٹ کو قائم رکھنے کی زد نہ کی ہوتی تو آج انسانیت اس طرح سے پریشان نہ ہوتی ۔اس بیماری سے شرح اموات تو خاصی کم ہیں اور آج نہیں تو کل اس بیماری سے دنیا کو نجات حاصل ہو جائے لیکن دنیا میں جو انسانیت کو اصل چیلنج ہے، وہ دنیا میںبم و بارود سے مرنے والوں کو بچانا ہے ،شورش زدہ علاقوں میں انسانیت کے بچائو کی سبیل کرنا ہے ۔آج بھی دنیا میں اس مہلک بیماری سے زیادہ افراد سیاسی تنازعات کی بھینٹ چڑھ رہیں ہیں وہ چاہے افغانستان میں سکھوں اور مسلمانوں پہ حملے ہوں یا عراق اور فلسطین میں انسانیت کو مٹانے کا عمل ۔
اسی طرح سے برصغیر میں ایک شورش زدہ خطہِ کشمیر میں آج کی تاریخ میں بھی کورونا وائرس کی بیماری سے نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کے سبب انسانیت تباہی کی جانب جا رہی ہے۔تا دم تحریر جموں کشمیر میں اس وبائی بیماری کے سبب 17؍افرادوفات پا چکے ہیں جبکہ دوسری طرف رواں سال ماہ جنوری سے لے مئی تک 115سے زاید افرادگولیوں سے مارے گئے ہیں۔ جن میں سے 25؍سے زائد فورسز اہلکار ،74؍سے زاید عسکریت پسند اور 10؍ عام شہری تنازعہ کشمیر کی نذر ہو گئے ہیں ۔جب ہم اس تنازعہ کو انسانی نظر سے دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں رہتی کہ بحیثیت انسان جہاں ایک عسکریت پسند اور عام شہری کے مارے جانے بعد اُن کے لواحقین پر قیامت ٹوٹ پڑتی ہے وہیں ایک فورسز اہلکار کی نعش جب کسی شہر میں انکے آبائی گھر پہنچتی تو وہ بھی اُنکے لئے قیامت سے کم نہیں ہوتا ۔جہاں عام شہریوں اور عسکریت پسندوں کے گھر اور خاندان ہوتے ہیں وہیں فورسز اہلکاروں کے بچے بھی یتیم ہو جاتے ہیں ۔یعنی سیاسی تنازعات کے بیچ بس انسان مرتے ہیں ۔کشمیر کا تنازعہ بھی بڑا پیچیدگی اختیار کر گیا ہے جہاں ایک ملک کو ایک عسکریت پسند کو مارنے کے لئے فوجیوں کے ساتھ ساتھ ہتھیار کے استعمال میں لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں وہیں اُن لوگوں کو اپنے آشیانوں سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے ہیں جن میں یہ عسکریت پسند پناہ لئے ہوئے ہوتے ہیں ۔اور پھر ایک ہنستاکھلتا گھرفنا ہو کر محتاجی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتاہے۔
دنیا میں اکثر یہی مشاہدے میں آیا ہے کہ مفاد پرست حکمرانوں نے اپنے سیاسی مقاصد کی خاطر دنیا میں انسانوں کو زندگی جینے سے محروم کر دیا۔ ہم نے دیکھا کہ کس طرح سے وزیر داخلہ امیت شا نے گذشتہ برس یہ کہتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے ریاست کو دو لخت کر دیاکہ اب کشمیر میں امن آئے گا اور کشمیر میں ملی ٹینسی ختم ہو گی۔لیکن یہ ہم سب نے دیکھ لیا کہ خصوصی پوزیشن کی منسوخی سے بھی کشمیرمیں نہ ہی ملی ٹنسی ختم ہو پائی اور نہ اس مسئلے کی وجہ سے عام شہروں کے ساتھ ساتھ فورسز اہلکاروں کی جانوں کا ضیاع بند ہوا ۔ بھاجپا سرکار کی جانب سے دعوی کیا گیا تھا کہ ان دفعات کی منسوخی سے مسئلہ کشمیر ہمیشہ کیلئے ختم ہو گیا ہے اور کشمیر میں ملی ٹینسی کی بنیادی وجہ یہی خصوصی پوزیشن تھی ۔لیکن اب جموں کشمیر کو دی گئی خصوصی حیثیت کو واپس لینے کا ایک سال مکمل ہونے کے قریب ہے تاہم حالات ویسے کے ویسے ہی ہیں ، جیسے ۵ اگست سے قبل تھے۔
گویا کسی کو انسانوں کے مرنے یا جینے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ملکی میڈیا بھی صحافتی اصولوں کی مٹی پلید کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے ۔ کشمیر میں انسانوںکے مرنے پہ اپنے اسٹیڈیوز کو میدان جنگ بنا دیا جاتا ہے اورگھروں کے برباد ہونے پہ خوشیاں منائی جاتی ہیں۔میڈیا کا کام تو امن اور انسانیت کی بقا ،تعمیر و ترقی ،مظلوموں کی آواز بن کے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی کوشش ہوتی ہے ،لیکن ملکی میڈیا کا حال اس مہا ماری میں بھی قابل افسوس ہے ۔جہاں کورونا وائرس کو میڈیا اداروں کی جانب سے مذہب یعنی مسلمانوں کا لباس پہنا دیا گیا ہے وہیںدوسری طرف سے ریاستی اور مرکزی حکومتیں میڈیا کے اس جانبدار رویہ پر ان کی حوصلہ شکنی کے بجائے کھلے عام ان کی حمایت میں آگئیں اور تبلیغی جماعت کے ارکان کے خلاف کیس درج کر کے دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کی گئی کہ وبائی بیماری کے پیچھے مسلمانوں کا ہاتھ ہے ۔تاہم جب ملک کے مختلف شہروں میں شراب کی دکانوں کو کھولنے کا حکم دیا گیا تو وہاں جمع ہزاروں کی بھیڑاور سماجی دوری کے اُصولوں کی دھجیاں اُڑانے کے باوجود ملکی میڈیا کے کیمروں میں وہ مناظر قید نہیں ہو پائے ۔
مجموعی طور پہ دنیا میں سیاسی چودھریوں کو ہتھیاروں کے بے دریغ استعمال اور انسانی خون کے چسکے کے سبب انسانوں کی حالت قابل رحم بن گئی ہے ،اسی لئے تو ملکی عوام کودو وقت کی روٹی کے لئے ترسنا اور تڑپنا پڑتا ہے ۔بیماروں کو اپنے علاج کے لئے بھیک مانگنی پڑتی ہے ۔بچوں کو اچھی تعلیم سے محروم ہونا پرتا ہے۔سماجی اور معاشی نظام تباہ ہو جانے کی دہلیزپہ ہے ۔دنیا کے حکمرانوں کی انسانیت کی بقا کے لئے سنجیدگی کم ہی دکھائی رہی ہے بلکہ بس انسانیت کی تباہی کے لئے تباہی کے سامان جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن یہ سب تلخ حقائق میڈیا دکھانے کی زحمت گوارا نہیں کرتا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ان کا کام بس یہ رہ گیا ہے کہ جھوٹ کو اتنی بار بولو کہ وہ سچ لگے۔
میں نے اپنے ایک گذشتہ مضموں میں ہندوستان میں شعبہ صحت کی حالت کے حوالے سے لکھا تھا کہ ’’ جہاں ایک طرف عالمی ادارہ صحت نے دنیا کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ہرملک اپنی GDPکا4سے5فیصد شعبہ صحت پر خرچ کرے، وہیں ہندوستان آج محض1.4فیصدہی خرچ کررہا ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق پورے ہندوستان میںسرکاری ہسپتالوں میں 7,13,986بیڈ ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ 0.55بیڈایک ہزار کی آبادی کے لئے دستیاب ہیں۔۔اب اس وبائی مرض کے سبب آج ہندوستان میں 5سے 10فی صد تک کورونا کا شکار ہوئے مریضوں کو وینٹی لیٹرس کی ضرورت ہے۔24مارچ کو center for disease dynamics,economics and policiesنام کے ایک امریکی تحقیقی ادارے نے کہا ہے کہ ہندوستان میںاس بیماری سے لڑنے کے لئے آئی سی یوز اور وینٹی لیٹریس کی کمی ہے۔اس مہا ماری میں ملک کے مختلف شہروں سے مزدروں کی گھر واپسی کے لئے انکا ہزاروں میل پیدل چلنا حکومت کی نا اہلی کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔
کتنا ہی اچھا ہوتا اگر ملکی میڈیا امن کی خاطر ،غریبی اور بیماری کے خلاف لڑتا ،ملک کی تعمیر و ترقی میں رول ادا کرتا اورحکمران تعصب اور فرقہ پرستی کو چھوڑ کر انسانیت کو بچانے کا کام کرتی ،بھوکھوں کے کھانے کا انتظام کرتی ،گھروں کو زمین بوس کرنے کے بجائے گھروں کو تعمیر کرتی ،مسائل کو فوجی طاقت کے ذریعے حل نہیں بلکہ حقیقی جمہوری طریقے سے حل کرتی ۔پھر کسی کا بچہ یتیم نہیں ہوتا ،کسی بہن کو اپنا بھائی نہیں کھونا پڑتا ،کسی بُزرگ باپ بڑھاپے کے سہارے سے محروم نہ ہوجاتا ،ملک کے کسی شہری کو اپنے بیٹے کی نعش فوجی وردی میں نہ ملتی ۔ اس وبائی بیماری میں میڈیا اور اقتدار کی کرسیوں پہ براجمان حکمرانوں کو چاہے کہ بلا تفریق رنگ و نسل ،مذہب و ذات انسانیت کو راحت کا سامان مہیاکریں تاکہ انسانیت سسک سسک کہ فنا نہ ہو جائے ۔
 
 

تازہ ترین