تازہ ترین

محکمہ بجلی کی نجکاری اور نئے قوانین صارفین کُش

بمنہ سرینگر اور پریس کلب جموں میں احتجاج

23 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

 سرینگر// محکمہ بجلی کے ملازمین نے سرینگر اور جموں میں بہ یک وقت مرکزی حکومت کی طرف سے نئے مزدور قوانین کے اعلانات کے خلاف احتجاج کیا۔نان گزیٹیڈ الیکٹریکل ایمپلائز یونین کے جھنڈے تلے بمنہ سرینگر میں احتجاج کے دوران ملازمین نے کہا کہ نئے قوانین ہزاروں ملازمین کے احساسات کے منافی ہے۔ یونین کے ترجمان عمر بٹ نے کہا کہ لاک ڈائون کے دوران لاکھوں مزدوروں کو کوئی راحت دینے کے برعکس حکومت ہند نئے قوانین اور غیر ضروری ترامیم کے اطلاق کیلئے تجربے کر رہی ہے،جس کے نتیجے میں غریب مزدوروں کے ساتھ استحصال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوشش مزدوروں کے بنیادی حقوق کی لوٹ مار ہے،جبکہ یہ کامگار مشکلات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یونین کے جنرل سیکریٹری پرشوتم شرما نے کہا کہ ہزاروں ڈیلی ویجروں کو مختلف محکموں میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ وہ نظام کو بہتر طریقے سے چلا سکے،تاہم نئے قوانین کے ساتھ انہیں پشت بہ دیوار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں کشمیر کی حکومت نے محکمہ بجلی کو کمپنیوں میں تبدیل کیا ہے اور بجلی کی نجکاری اب ملازمین اور صارف مخالف ثابت ہوگی۔پرشوتم شرما کا کہنا تھا کہ آئندہ کا قدم اب بجلی فیس میں اضافہ ہوگا،اور ان کمپنیوں کو اپنے منافع کے علاوہ اور کسی چیز کی فکر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بجلی ڈھانچے کو نجی کمپنیوں کے سپرد کیا جاتا ہے تو صارفین کی خدمات بری طرح متاثر ہوگی۔پرشوتم شرما نے کہا کہ انکی انجمن نے نہ صرف ہمیشہ ملازم مخالف پالسیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے،بلکہ عوامی خواہشات کے برعکس پالیسیوں احتجاج بلند کیا ہے۔پرشوتم شرما کا کہنا تھا کہ احتجاج کا مقصد ان قوانین کے خلاف آواز بلند کرنا ہے،جس کے تحت کمپنیاں اور سر مایہ کار اپنے جیبوں کو بھرنے کی فکر میں رہتے ہیں۔اس دوران جموں پریس کلب میں بھی کل ہند قومی ٹریڈ یونین اینڈ فیڈریشن کی کال پر احتجاج کیا گیا،جس کے دوران نئے مزدور قوانین کے خلاف احتجاج بلند کیا گیا۔