ندامت و عاجزی اللہ کو پیاری | توبہ عذاب ِ الٰہی سے نجات کاواحد ذریعہ

رشدو ہدایت

22 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

بلال احمد پرے
 اسلام میں توبہ کو ایک خاص مقام حامل ہے۔ توبہ گمراہی، نافرمانی و برائی سے راہ راست کی طرف لوٹ کر آنے کا ذریعہ ہے۔ یہ اللہ کی طرف پلٹ کر آنے کا راستہ ہے۔ گناہوں سے توبہ کرنا راہ نجات کی پہلی سیڑھی ہے۔ گناہوں پر نادم ہوکر توبہ کے اہتمام سے ہی کامیاب زندگی بن سکتی ہے۔ یہ اپنے خالق، مالک، کھلانے والے رب و پالن ہار سے دوبارہ ناطہ جوڑنے کا موقع دے رہا ہے۔ آج کل کے پر فتن و پر آشوب دور میں جہاں بندہ نافرمانیوں میں مست ہوتے ہوئے اپنے حقیقی مالک سے دور ہے، وہیں شیطان پے در پے ہمارے خسارے پر تلا ہوا اپنی کامیابیوں سے سر شار ہے جو یقیناً ایک مسلمان کے لیے باعث عار ہے۔ آج ہم گناہوں کی طرف بہ آسانی کھینچے ہی چلے جا رہے ہیں اور ہمیں اس کا ذرا بھی احساس نہیں ہو رہا ہے۔
قرآن و حدیث میں جابجا توبہ و استغفار کی تلقین کی گئی ہے، اور بار بار بندے سے توبہ کی طرف دعوت دی جا رہی ہے۔ مومن کی صفت بھی توبہ کرنے والا (المؤمنین) بتایا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ " جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے کام کیے تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالٰی نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ تعالٰی تو بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔" (الفرقان: 7)
ایک اور آیت میں یوں ارشاد فرمایا ہے کہ " اور جو شخص کوئی برائی کر لے یا اپنی جان کا ضرر کرے پھر اللہ تعالٰی سے معافی چاہے تو وہ اللہ تعالٰی کو بڑا ہی مغفرت والا پائے گا۔" (النساء : 110)
دراصل اللہ تعالیٰ کا منشاء بھی یہی ہے کہ بندہ برائی کر کے توبہ کرے، اپنے رب کی طرف لوٹ آئے، گناہوں پر ندامت ہو جائے تو بدلے میں بے حد مہربان رب معاف فرما کر ایسے پاک کرے گا جیسے کہ زندگی میں کبھی گناہ کے قریب بھی نہیں گیا ہو اور گناہوں کو نیکیوں میں بدل ڈالے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جس کا اونٹ مایوسی کے بعد اچانک اس سے مل گیا ہو‘‘۔ ( (الصحیح البخاری؛ 6309 ،ترمذی شریف؛ 2498)
اللہ کے آخری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود سید المعصومین ہوتے ہوئے بھی دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ توبہ و استغفار (الصحیح البخاری؛ 6307) مسلسل کرتے رہتے تھے۔ آخر کیوں؟ اور جب انسان گناہ کا پتلا ہی ہے تو گناہ ہونے پر کس قدر توبہ و استغفار کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہیں۔ کیا کبھی ہم نے ایسا سوچا بھی ہے۔ اس طرح آپ صلعم اپنی آخری امت کو گناہوں کے سرزد ہونے پر فوراً توبہ و استغفار کرنے کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہے، تا کہ اللہ کے ناراضگی، غضب، قہر، پکڑ و سزا کے مستحق ہونے سے محفوظ رہیں۔ 
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت آپ صلعم کا ارشاد فرمایا کہ "اگر بالفرض تم لوگوں سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ ایسی مخلوق پیدا کرے گا جن سے گناہ بھی سرزد ہونگے، پھر وہ ان کی مغفرت فرما دے۔" (المسلم: 6963)
اس لئے یہ ازل سے ہی طے ہے کہ اس دنیا میں گناہ کرنے والے بھی ہوں گے، ان میں سے توفیق ملنے والے استغفار بھی کریں گے اور اللہ تعالٰی ان کی مغفرت کا فیصلہ صادر فرما کر اپنی بخشش و شان غفاریت کا ظہور فرمائے گا۔ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ "بلکہ بعض آدمی یوں چاہتا ہے کہ اپنی آئیندہ زندگی میں بھی فسق و فجور کرتا رہے۔" (القاریہ :5)
 انسان جب اللہ تعالیٰ کے لازم کردہ احکامات جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج وغیرہ کی خلاف ورزی کرنے لگتا ہے اور حرام کردہ احکامات جیسے شرک کرنا، نشہ بازی، حرص، شہوت پرستی، قتل، چوری، سودخوری، والدین کی نافرمانی، جھوٹ، چغل خوری، بددیانتی، ظلم و جبر، ناحق مال کھانا، ناپ تول میں کمی، ناچ گانے کی محفلیں سجانا، غیر شرعی کام وغیرہ جیسے کو بخوشی انجام دیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ پہلے توبہ کی مہلت دے دیتا ہے، پھر عذاب اتار کر سخت پکڑ کرتا ہے۔ یہ عذاب کئی صورتوں جیسے سیلاب، آندھی، طوفان، زمین کا دھنسنا، زلزلہ، بیماریاں، طاعون وغیرہ میں نازل ہوتا ہے۔ 
اس وقت معاشرے سے گناہوں کے ختم نہ ہونے کا اہم سبب توبہ و استغفار کی طرف توجہ نہ ہونا بھی ہے۔ آج کے مسلمان نے یہ طے کر لیا ہے کہ گناہ کرنے بھی ہیں اور معاف کروانے بھی نہیں ہیں۔ قران کے مطابق دنیا میں مشکلات و مصائب کا آنا چار وجوہات کی بنا پر ہوسکتا ہیں: ۱- گناہوں کا خمیازہ (سورہ شوریٰ ؛ ۰۳) ۲- تنبیہ اور وارننگ (توبہ۔ ۵۲۱؛ اعراف۔ ۸۶۱) ۳۔ آزمائش اور امتحان (آل عمران۔ ۰۴۱ ) اور ۴۔ انعام اور خیر کا ذریعہ (البقرہ۔ ۶۱۲) کے طور امت مسلمہ پر نازل ہو سکتا ہیں تاکہ رجوع الی اللہ کیا جائے اور گمراہی کی دلدل سے نجات حاصل ہو جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ " اور اللہ کی طرف توبہ کرو۔ اے مسلمانوں ! سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔"(النور: 31)
کیا انسان اس کی ضرورت نہیں سمجھتا؟ اس لئے گناہ ہی نہیں چھوڑتا۔ گناہ کے ہونے سے دل کو زنگ لگتا ہے تو اس زنگ کو ہٹانے کے لئے توبہ و استغفار بحثیت ریگ مال اور کثرت ذکر اس کی بطور روغن ہیں۔ اس لئے ہر شخص پر توبہ فرض ہے، نہیں تو اللہ تعالیٰ کے مواخذہ کا ہر وقت خطرہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ "اے پیغمبر فرما دیجئے، اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو جاؤ۔ بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے۔" (الزمر:53)
 اس لئے کورونا سے پیدا شدہ صورتحال کے تناظر میں پورے معاشرے کو انفرادی طور پر توبہ و استغفار کرنے کی انتہائی ضرورت در پیش ہے۔ قوم یونس علیہ السلام کی طرح سچی توبہ کرنے سے ہی اس مہلک وبا کی شکل میں عذاب الٰہی سے نجات حاصل کیا جاسکتا ہے۔ چلو سب پلٹ کر اپنے رب کی طرف، اپنے سر کو بھی اور اپنی زندگی کو بھی جھکا دے گے۔ آئندہ گناہ کرنے سے مکمل اجتناب کریں تاکہ اللہ اور اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خوشنودی حاصل ہو کے اپنی دینی و دنیاوی زندگی کو بہتر بنایاجائیں۔ اللہ پاک ہم سب کو توبہ کر کے راہ راست پر استقامت بخشے۔
رابطہ ہاری پاری گام ترال 
فون نمبر - 9858109109
 
 

تازہ ترین