تازہ ترین

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے!

لمحہ فکریہ

21 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

ڈاکٹر مشتا ق احمد وانی
 دنیا میں جب جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کھلے عام ہوتی رہی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک حد کے بعد اپنے نافرمان بندوں پر عذاب اُترتا رہا ہے فرعون ،نمرود،قارون اور شداد جیسے ظالم وسرکش اور خدا ئی دعویٰ کرنے والوں کا کیا حشر ہوا ،قصص الانبیااور اسلامی تاریخ کے اوراق میں اُن کا عبرتناک انجام درج ہے۔ اسی طرح قوم عاد وثمود اور قوم لوط پر کس طرح عذاب اُترا وہ تمام لرزہ خیز واقعات عقل والوں کے لیے ہدایت کا سامان ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ضابطے میں یہ بات شامل نہیں ہے کہ وہ اپنے احکامات پر ذبردستی عمل کروانے کے لئے آسمان سے فرشتوں کی کوئی فوج زمین پر اُتارے۔ایمان بالغیب ہی دراصل ایمان کی اصل ہے۔دنیا ایک امتحان گاہ ہے یا دارالعمل کہ جہاں انسان وقتی طور پر آزاد ہے۔البتہ فرشتے اُس کے اچھے اور برے اعمال کی ویڈیوتیار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا انسان پہ خصوصی رحم وکرم یہ ہے کہ اُس نے ہردور میں انسان کے مقصدِ حیات وکائنات کی افہام وتفہیم کے لیے اپنے بر گزیدہ بندوں کو مبعوث فرمایا ہے کہ جنھوں نے رشد وہدایت کا اہم فریضہ انجام دیا ہے۔
ہر دور میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ناراضگی اور غصے کا اظہار مختلف صورتوںمیں کرتا رہا ہے یعنی جب اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کھلے عام ہونے لگتی ہیں یاجب جب انسان نے ضابطہ خداوندی یا اُس کے قانون کو پس پشت ڈال کر رب چاہی زندگی کے بدلے من چاہی زندگی گزاری ہے تو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا ظہور ذ لزلوں، سیلابوں،آندھیوں، طوفانوں اور کئی طرح کی وبائی امراض کی صورت میں ہوا ہے۔اسے انسان کی بدنصیبی ہی کہئے کہ اُس نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا غلط استعمال کرکے دنیا کی رنگ رلیوں اور عیش ونشاط کو حاصل کرنے میں اپنی ذہنی قوت صرف کی ہے۔ یہ انسان اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بجالانے کے بجائے نفس اور شیطان کے بہکاوے میں آکر گناہ کرتا رہا ہے۔ اس نے تمام اخلاقی وروحانی قدروں کا مذاق اُڑایا ہے۔جن قدروں کو اپنانے کی تاکید وتلقین قرآن وحدیث میں آئی ہے اُن کی خلاف ورزی کی ہے۔قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی مقد س کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے یعنی یہ ایک ایسا پیغام ِ مسرت ہے جو کسی خاص طبقے،فرقے اور قوم کے لیے نہیں ہے بلکہ قرآن پاک کا نزول عالم ِ انسانیت کی فلاح کے لیے ہوا ہے۔اس کی آفاقیت اور ہمہ گیریت کے تمام نورانی ابواب جہاں اللہ تعالیٰ کے فرماں برداروں کو خوشخبری دیتے ہیں تو وہیں نافرمانوں کے لیے وعیدیں بھی موجود ہیں۔اللہ کے پیارے اور لاڈلے محبوب حضرت محمدؐ کو اللہ تعالی ٰ نے رحمت ْاللّعالمین بناکر دنیا میں بھیجا جو پوری کائنات ومخلوقات کے لیے رحمت ہیں۔آپ ؐپر لاکھوں درود وسلام کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیّبہ اور آپ ؐکی پاکیزہ اور نورانی سنتوں کے اپنانے میں ہی عالم ِ انسانیت کی کامیابی ہے۔
 بیسویں صدی کی آخری دودہائیوں اوراکیسویں صدی کی پہلی دو دہائیوں کے دوران سائنسی وتکنیکی دنیامیں ترقی حیران کن رہی ہے۔اس دورانیے میں وہ کام یا معاملات کہ جو کسی زمانے میں ناممکنات خیال کیے جاتے تھے ،انٹر نیٹ کی ایجاد اور اُس کے استعمال نے ناممکنات کو ممکنات میں بدل دیا۔پوری دنیا ایک عالمی گائوں کی صورت اختیار کرگئی۔اجنبیت کے تما م حجابات ہٹادیئے گئے۔موبائل فون ، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹرجیسی قیمتی برقیاتی اشیاکے ذریعے جب اکیسویں صدی کا تکنیکی ذہن رکھنے والا انسان ا نٹر نیٹ کی دنیا میں داخل ہوا تو اس نے اپنی روزمرہ زندگی کے مسائل ومعاملات کو بڑی آسانی کے ساتھ حل کرنا سیکھ لیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انٹر نیٹ اور موبائل فون بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں کہ جن کے بہتر استعمال سے بہت سے بڑے بڑے فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں ،لیکن افسوس کہ قدرت کی ان نعمتوں کا استعمال ناجائز خواہشات کی تکمیل کے لیے کیا جانے لگا۔عالمی سطح پہ فحاشی،بے راہ روی ،ظلم واستحصال ،بربریت ،حق تلفی ، لوٹ کھسوٹ، چوری ،ڈکیتی اور بہت سے ایسے جرائم ہونے لگے جو کسی زمانے میں انسان کے حاشیہ خیال میں بھی نہ تھے۔تمام انسانی قدروں کا جنازہ نکال دیا گیا۔حرص وہوس ،خود غرضی ،نمود ونمائش،نافرمانی،بدمزاجی ،بداخلاقی ،منافقت، رشوت خوری ،زنا کاری،شراب نوشی ،غنڈہ گردی ،طبقاتی ،علاقائی،مسلکی اور مذہبی فرقہ بندی کی کشمکش جب عروج پر پہنچی تو اس کے نتیجے میں انسانیت مٹتی چلی گئی او ر آدمی نے آدمی کی شکل میں حیوانیت اور درندگی کا وہ ننگا ناچ دکھایا کہ اللہ تعالیٰ کوضرورتاً اپنی قہاری وجباری کا نمونہ کورونا وائرس کی صورت میں پیش کرنا پڑا !
کورونا وائرس جیسی مہلک وبا نے اگر چہ اپنا سفر چین سے شروع کیا تھا لیکن اب یہ وبا پوری دنیا کے ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔انسانی تاریخ میں یہ وبا اپنی نوعیت کی ایک ایسی وبا ہے جس نے دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو اللہ تعالیٰ کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے۔ابھی تک اس وبا کی روک تھام کے لیے دْنیا کے قابل ترین ڈاکٹراور سائنس دان مایوسی وناامیدی کا رونا رورہے ہیں۔اس وبا نے انسان کی روزمرہ استعمال کی ضروری اشیا میں اپنا گھر بنالیا ہے۔ہر فرد کو گوشہ تنہائی اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔یہاں تک کہ بھائی بھائی کے ساتھ ہاتھ نہیں ملاسکتا ہے ،وہم ،خوف اور شکوک وشبہات کے دائروں میں انسان محصور ہوگیا ہے۔ اس وبا نے تمام انسانی رشتوں سے احتراز برتنے پر مجبور کردیا ہے۔آج کا انسان اس مہلک وبا کے باعث کسی کی خوشی یا غمی میں شریک نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ اس نے اجتماعیت پر کاری ضرب لگا کر آدمی کو انفرادی زندگی جینے پر مجبور کردیا ہے۔ہر شخص کو اس وبا کے سبب موت کے سائے رقصاں نظر آتے ہیں۔ انسانی معاشرے سے زندگی کی تمام رونقیں ختم ہوگئی ہیں۔غرضیکہ اس کورونا وائرس کی وجہ سے آج کا انسان ا نتہائی پریشان ہے !
 دنیا کی تمام چھوٹی بڑی مسجدیں نمازیوں کے بغیر سنسان نظر آتی ہیں۔وہ مسجدیں کہ جن میں کل تک نمازیوں کی ایک بھاری تعداد ہواکرتی تھی اور خاص کر ماہ صیام میں تو مسجدوں میں تل دھرنے کو جگہ نہیں رہتی تھی۔آج وہی مسجدیں ایک موذن ایک امام اور ایک مقتدی یعنی تین افراد تک محدود ہوکر رہ گئی ہیں۔مشاہدے میں یہ بات بھی آئی کہ اس مہلک وبا کے ایام میں وہ اشخاص کہ جو کبھی مسجد کے نیڑے نہیں جاتے تھے، اُنھوں نے بھی بڑی فکر مندی سے مسجد میں جانا چاہا لیکن اللہ تعالیٰ کی ناراضگی دیکھئے کہ اُس نے لاک ڈاون کی صورت میں مسجدیں لاک کروادیں۔یہ  مایوس کن صورتحال امت مسلمہ کے لیے ایک بہت بڑے المیے سے کم نہیں ہے۔ گویا یوں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری عبادت  وبندگی سے مطمئن نہیں ہے کیونکہ ہمارے موبائل فون مسجدوں میں بھی بجتے رہے۔اتنا ہی نہیں نماز ترک کرکے فون پہ باتیں کرنے کوترجیح دیتے رہے !خشوع وخضوع ،اخلاص اور للّٰہیت کے جذبے سے عاری بس رسمی طور پر مسجدوں میں جاتے رہے۔مسجدوں میں دنیاوی باتیں کرتے رہے اور اس طرح ہم سے مسجد کا تقدّس پامال ہوتا رہا۔فکر آخرت کے بجائے فکر دنیا میں ذہن دوڑاتے رہے۔اس پہ مستزاد یہ کہ مسجدیں بھی الگ الگ مسلکوں اور فرقوں کی بنیاد پہ قائم کی گئیں۔ایک ہی قرآن ،ایک ہی زمین ایک ہی آسمان، ایک ہی امت ،ایک ہی نبیؐ،کے باوجود فرقوں میں بٹی امت کی الگ الگ مسجدوں کے سائن بوڈ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں آئے۔دینی تعلیم پہ عمل نہ ہوتو کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ہے۔دین صرف تقریروں کانام نہیں ہے۔جن اولیائے کرام اور بزرگان ِ دین نے دین پر عمل کرکے دکھایا، اُن کانام وکام آج تک زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔اصل بات یہ ہے کہ دین عاملیں کے ترس رہا ہے۔ اللہ معاف کرے یہ سب ہمارے گناہوں کا نتیجہ ہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم راتوں کو اللہ تعالیٰ کے آگے روئیں ،گڑگڑاتے ہوئے اُس کے آگے سربسجود ہوں۔بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی نیک بندے کا کوئی آنسو بارگاہِ خداوندی میں شرفِ قبولیت حاصل کرلے اور کورونا وائرس جیسی یہ مہلک بیماری ختم ہوجائے۔ورنہ بصورت دیگر یہ کورونا وائرس کہیں ہماری زندگی کا مقّدر اور لازمی جزو نہ بن جائے۔اس لیے زیادہ سے زیادہ نیک کام کریں۔غریبوں ،لاچاروں اور محتاجوں کی مالی امداد کریں۔خود بھی جئیں اور دوسروں کو بھی جینے دیں۔ایمان والے کے پاس اس دنیا میں وقت کم ہے اور اُس کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں۔موت تو بہرحال آنی ہے لیکن کورونا وائرس کی موت سے اللہ تعالیٰ سب کو بچائے ۔آمین !
اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اْردو،بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری(جموںکشمیر)
موبائل نمبر   7889952532