کنبہ خوشحال نہ تو سماج کا بگڑنا طے

سماجی برابری کے ستون لرزہ براندام کیوں

21 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

عاشق حسین آکاش
 پوری دنیا میں15مئی ہر سال ’عالمی یوم خاندان ‘ کے طور منایا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے1993میں باقاعدہ آغاز کے بعد یہ دن ہر سال ایک نئے موضوع کے تحت منایا جا رہا ہے۔ اس دن کی اہمیت و افادیت سے شاید ہی کوئی شخص انکار کر سکتا ہے۔چونکہ پریوار ایک مستحکم سماج کی بنیاد ہے اور اس بنیاد کو مضبوط بنا کر ایک پرسکون سماج کا ماحول تیار کرناقدرے آسان ہو جاتا ہے۔
2020کی آمد کے ساتھ ہی پوری دنیا کرونا کی مہاماری کے دھویں میں اپنے وجود کو برقرا رکھنے کی کشمکش میں لگی رہی۔ اس بحران کے چلتے ’عالمی یوم خاندان‘ کی اہمیت اور ضرورت ہر ذی حس فرد کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ ایک طرف بندشوں کی وجہ سے پریوار کا ایک جْٹ ہوکر وقت بسر کرنا اور دوسری جانب اپنی پریوار کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں دشواریوں کا سامنا ایک نفسیاتی بیماری سے کچھ کم نہیں۔اس ذہنی بیماری نے تو پوری عالم انسانیت کو اپنی جکڑ میں لیا ہی ہے لیکن غریبی کی سطح سے نیچے رہنے والے تمام کنبوں کو بے یار و مدد گار بنا کر چھوڑا ہے۔تمام دنیا کے اقتصادی حالات ابتر ہوئے ہیں اور اس اقتصادی بحران کا خمیازہ بھی بیچاری غریب عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ سکون اور خوشحالی تو دور یہاں ان کنبوں میں دو وقت کی روٹی کی خاطر چولہا جلنا بھی قصوں کہانیوں میں تبدیل ہوا ہے۔بے حسی میں آنکھیں اگر کھلی ہیں تو صرف اس امید میں کہ شاید کسی دریا دل کو ان کی وہ سرد چولہوں کی ٹھنڈک محسوس ہو۔
بھکمری کی حد اتنی تجاوز کر گئی ہے کہ اب ان کنبوں میں زندگی پر موت کو ترجیح ملتی ہے اور کیوںنہ ہو !بے چینی کے اس عالم میں اپنے اہلِ خانہ کوبھوک سے تڑپ تڑپ کر زندہ رہنے سے تو آسان موت دکھتی ہے۔ کم سن بچوں کی چیخ و پکار، بڑوں کی آہ و فگاں، جوانوں کی لاچاری سے تو سینہ چھلنی ہوتا ہوگا۔ اس منظر کا حال بیان کرنا شاید کنبے کے ذمہ دار کے بس سے باہرہوتا ہوا اس کو بار بار اپنے غریب ہونے کا احساس دلاتی ہوگی۔ اس احساس کمتری میں جی پانا کسی قیامت سے کم نہیں۔ حالانکہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بیشتر سرکاری و غیر سرکاری تنظیمیں مدد فراہم کرنے کی کوشش میں لگے تو ہیں لیکن شاید کرونا کی اس دھندلاہٹ میں سب پر نظریں جم پانااور ہر کسی کی چیخ و پکار کا جواب دے پانا نا ممکن ثابت ہوتا رہا۔
ہندوستان میں اچانک بندشوں کے اعلان نے کروڑوں لوگوں کو بے روزگار اور بے گھر بنا دیاہے۔ اپنے گھروں سے دور لوگ اپنے کنبوں سے جڑنے کی کوشش میں ایسے تڑپتے رہے جیسے کہ سمندر میں پیاسا۔ حتیٰ کہ سرکار ان کے کھانے پینے اور رہنے کے انتظام کے لگاتار دعوے کرتی رہی لیکن ہزاروں لوگوں نے بھکمری سے مرنے کی خاطر اپنے گھروں کو ہی ترجیح دی اور سینکڑوں میل پیدل مسافت طے کرنے کی کوششوں میں جٹے رہے۔ پریوار سے جڑنے کی تڑپ نے یہ سفر اور کشمکش آسان تو کر دی لیکن ماحصل ندارد !کیوں کہ اس کشمکش میں بیسیوں لوگ ابدی نیند بھی سو گئے۔
کرونا کے قہر نے اقتصادی بحران کو جنم دیتے ہوئے لاکھوں لوگوں کو بے روزگاری کے دلدل میں پھینک دیا ہے اور لاکھوں کنبوں کے سکون اور خوشیوں کو چور چور کرتے ہوئے بے یار و مدد گار بنادیا۔ ان کنبوں کے لئے عالمی دن منانے کے سپنے پْر کرنا تو دور اپنے وجود کو بچانا بھی محال ہوگیا ہے۔ وباء کے اضافے اور بندشوں کے تسلسل نے تو ان کنبوں کی زندگی کے پہئے کو ہی روک رکھا ہے۔ اگر سانسیں چل رہی ہیں تو صرف کسی ناگہانی امداد کی امید میں !!!  موت اور زندگی کی کشمکش میں پھنسے یہ پریوارشاید اپنے معبود برحق کی تخلیق کو بھی کوستے ہوں گے اور دنیا کے فنا ہونے کی تمنا اور انتظار سے اپنا پیٹ بھرتے ہوں گے۔
عالمی پریوار دن سماجی برابری کے ستونوں پر کھڑا تو ہے لیکن موجودہ بحرانی صورت حال میں یہ ستون لڑکھڑاتے دِکھ رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں سماجی ہم آہنگی اور جذبہ انسانیت کا ہونا لازم ملزوم بن گیا ہے۔یہ ہنگامی حالات ہر فکر مند انسان کی توجہ طلب کرتے ہوئے سماج کے تئیں اپنی خدمات کو عمل آور بنانے کی دعوت دیتے ہیں۔
2020کا ’عالمی پریوار دن‘ ہمیں جذبہ انسانیت کو اجاگر کرنے کی تعلیم دے گیاہے۔سماجی ہم آہنگی کے ستونوں کو بھکمری صورتحال میں مستحکم کرنے کی خاطر سماج کے ہر طبقے کو ایک جٹ ہو کر شانہ بہ شانہ کام کرنا ہوگا اور اس دورِ مصیبت سے نکلنے میں سماج کے ہر فرد کا ہاتھ پکڑ کر جذبہ انسانیت ، اُخوت اور محبت کی مثال قائم کرنی ہوگی تاکہ مستقبل میں اس دن کی اہمیت اور افادیت اور اجاگر ہو جائے۔                 
 (کالم نویس گورنمنٹ بوائزہائر سیکنڈری سکول اچھہ بل اننت ناگ میں استاد ہیں۔رابطہ9906705778)