تازہ ترین

۔22کشمیری 3ماہ سے ایران میں درماندہ

ویزا بھی ختم، اہل خانہ کا مایوس ہوکر احتجاج

21 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

اشفاق سعید
سرینگر //ایران کے شہر قم میں درماندہ 22کشمیری زائرین کے اہل خانہ پریشان ہیں اور حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان کی گھرواپسی انسانی بنیادوں پر عمل میں لائی جائے ۔3ماہ قبل زیارت کیلئے ایران گئے 22زائرین کی گھر واپسی میں جموں وکشمیر حکام مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ۔ ان افراد کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ایران میں ان کی حالت انتہائی خراب ہو چکی ہے کیونکہ انہیں نہ صرف وہاں ادویات مل رہی ہیں اور نہ ہی انہیں باہر نکلنے کی اجازت دی جا رہی ہے کیونکہ ان کا ویزہ بھی ختم ہو چکا ہے ۔کشمیر عظمیٰ آفس کے باہر ایران گئے زائرین کے اہل خانہ نے دھرنا دیا ۔ان افراد نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، جن پر ایران میں پھنسے زائرین کی گھر واپسی کے مطالبہ کے حق میں نعرے درج تھے ۔ انہوں نے کہا سرینگر اور بڈگام سے تعلق رکھنے والے 22کشمیری زائرین کا ایک قافلہ مارچ میں ایران 24روزہ زیارت پر گیا تھا جو کورونا لاک ڈائون کے باعث ایران میں درماندہ ہے ۔آفاق نامی ایک شہری نے کہا کہ ایران اور جموں وکشمیر حکام کے درمیان ان زائرین کی گھر واپسی کیلئے کوئی بھی رابطہ نہیں ہو سکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ زائرین سے کہا گیا ہے کہ جب تک جموں وکشمیر حکام کی جانب سے ان کی گھر واپسی کیلئے کوئی گرین سگنل نہیں ملتا، تب تک ان کی گھر واپسی ناممکن ہے ۔آفاق نے کہا کہ ایران میں زائرین کی حالت پچھلے چار ما ہ سے خراب ہو رہی ہے کیونکہ وہاں ان کے پاس پیسے ختم ہو چکے ہیںاور ہم انہیں یہاں سے پیسے نہیں بھیج سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا اگر ہمیں اس کیلئے پیسہ بھی دینا پڑے، تو ہم دینے کیلئے تیار ہیں لیکن ان کی گھر واپسی کا بندوبست کیا جائے ۔ عظمت عالم نامی ایک شہری نے کہا کہ ایران میں اس سے قبل لداخ کے لوگ درماندہ تھے، جنہیں گھرپہنچایا گیا، لیکن 22کشمیری زائرین کی گھر واپسی کیلئے کوئی بھی کارروائی عمل میںنہیں لائی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ 22زائرین عمر رسیدہ ہیں جن میں سے کئی ایک مختلف بیماریوں میں بھی مبتلا ہیں لیکن وہاں پر انہیں ادویات نہیں مل رہی ہیں ۔عظمت نے کہا کہ وہاں ادویات کی کوئی کمی نہیں لیکن یہاں کے زائرین کو اس ادویات کے حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہے ۔ ایران کے قم شہر سے کشمیری زائرین سید ابرہیم ،اور مرزا مظفر حسین نے کشمیر عظمیٰ کو فون پر بتایا کہ یہاں بے حد پریشانی ہے کیونکہ انہیں 24دن کیلئے یہاں رہنا تھا اور 3 چار ماہ سے یہاں درماندہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ویزا ختم ہونے کے نتیجے میں انہیںباہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ گھر آنے کیلئے انہوں نے ہر ایک جگہ رجسٹریشن کرائی ہے لیکن جموں وکشمیر حکومت انہیں گھر واپسی لانے کیلئے کوئی بھی سنجیدہ اقدام نہیں کر رہی ہے ۔انہوں نے جموں وکشمیر کے لیفیٹنٹ گورنر سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں انسانی بنیادوں پر گھر پہنچایا جائے ۔