تازہ ترین

کشمیر کا سیاسی مکافاتِ عمل

حریفین پر ضرب لگانے والے خود اسی ضرب کا شکار

20 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

رشید پروین ؔسوپور
کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی پر پی ایس لگانے کو ایک معمہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے آج جموں و کشمیر بھارت کا حصہ ہے (فاروق اور عمر کو اب رہائی مل چکی ہے لیکن محبوبہ ابھی تک مقید ہیں ) ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان ہی لیڈروں کی وجہ سے جموں و کشمیر میں بھارت کی بنیادیں مظبوط رہی ہیں، اس کے باوجود ان پر پی ایس اے سمجھ سے بالاتر ہے۔اس مضمون میں اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی جو نہ صرف پرینکا گاندھی کے لئے معمہ ہے بلکہ دوسرے بڑے اپوزیشن لیڈروں کو بھی پریشان کر رہا ہے جن میں سیتا رام یچوری،، غلام نبی آزاد ،، ممتا بنر جی کے علاوہ سینکڑوں چھوٹے بڑے لیڈر ہیں۔
اس سوال کا جواب ایک اور ہی زاوئے سے تلاش کریں گے جو اگر چہ سیاسی نہیں لیکن یہ زاویہ زندگی کی اتنی ہی بڑی حقیقت ہے جتنی کہ خود زندگی۔ہمیں تھوڑا سا پیچھے جاکرکشمیر کی سیاسی تاریخ کے بس دو تین پنے ہی الٹنے ہوں گے اور آغاز شیخ محمد عبداللہ سے ہی کرنا مناسب اور موزون ہے، جنہوں نے اپنے عوام کی اُمنگوں اور خواہشات کو سولی پر چڑھا کرصرف اور صرف بھارت ہی میں اپنی عافیت جانی اور بھارت کے ساتھ اپنی بے پناہ محبت اور لگائو کی وجہ سے منصوبہ بند طریقے سے بھارت اور پاکستان بننے سے پہلے ہی اپنا رشتہ جواہر لعل نہرو کے ساتھ اس قدر مظبوط کیا تھا کہ1953میں اپنے دوست کے ہاتھوں جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے جانے کے بعد بھی اپنی فرمانبرداری اور وفاداری میں کوئی فرق نہیں آنے دیا۔ یہ ان کی ساری زندگی کا نچوڈ کہا جاسکتا ہے کہ سیفٹی ایکٹ بھی شیخ محمد عبداللہ نے جموں و کشمیر میں اپنی دوسری ٹرم یعنی 1975میں اندرا گاندھی کے سامنے سب کچھ سرنڈر کرنے کے عوض لولی لنگڑی چیف منسٹری پانے کے بعد لاگو کیا تھا اور اس وقت کے دانشوروں نے اس ایکٹ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایکٹ اپوزیشن کا گلا گھونٹنے اور سیا سی حریفوں کو بلا جواز جیلوں اور عقوبت خانوں میں بند کرنے کی ایک کھلی لائسنس کے طور استعمال ہوگا۔ اس ایکٹ کوایمنسٹی انٹرنیشنل ’’قانونِ بے قانون‘‘ کے نام سے بھی پہچانتا ہے۔یہ ایکٹ تب سے اب تک اپنی تمام قہر سامانیوں کے ساتھ کشمیر میں رائج ہے اور روز بہ روز فربہہ ہورہا ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ شیخ محمد عبداللہ نے اپنے دوِ رحکومت میں اس سے وہی کام لیا جو آج بی جے پی اس ایکٹ سے لے رہی ۔ یہ قانون عمر عبداللہ کے لئے بھی سہارا بنتا رہا اور اس ’’کالے دیو‘‘ نے مفتی سعید کی بھی اتنی ہی فرمانبرداری کی جتنی کہ اس سے پہلے کی تھی۔ زیادہ وضاحت کے ساتھ سمجھنے کے لئے اس ایکٹ کو الہ دین کے چراغ سے تشبیہ دینا غلط نہیں۔ جس شخص کے پاس یہ چراغ (حکومت) ہوتا ہے ، چراغ کایہ ’’ دیو‘‘ اس کی فرمانبرداری میں اپنے پچھلے ریکارڈ توڑتا رہتا ہے ، کیونکہ اس دیو کے سینے میں کوئی دل اور سر میں کوئی دما غ نہیں بلکہ یہ ایک روبوٹ ہی کی طرح کا’’ جن ‘‘ہے جو مسلسل ہانک لگاتا رہتا ہے کہ ’’ کیا حکم ہے میرے آقا ‘‘ یہ قصور کوئی کم نہیں کہ ،شیخ محمدعبداللہ ، فاروق عبداللہ اور اب عمر عبداللہ۔ ان تینوں نے سیاسی اعتبار سے شاید ان کی سوچوں کے مطابق بہتر اور کامیاب زندگی گذاری ہے، شاید گذاری ہو۔مفتی محمد سعید بھی اپنی ساری زندگی میں بھارت کے بہی خواہوں میں رہے اور ان کی بیٹی محبوبہ جی نے تو اپنی خدمات اس حد تک بھارت کے لئے مہیا رکھیں کہ بی جے پی جیسی تنظیم جو کشمیر کے لئے شجر ممنوعہ تھی ،کے ساتھ ساجھے داری میں تھوڑی دیر کے لئے سرکار بھی بنائی اور اپنی تمام فرمانبرداریوں اور وفائوں کے ثبوت میں سینکڑوں بچوں اور بے گناہ نوجوانوں کو اسی ’’دیو سیاہ‘‘ سے پنجروں میں قید کر لیا۔ اس کے باوجودوہ اسی چراغ کے ’’جِن ‘‘کے ظلم و جبر کا شکار ہوئیں۔ ہندوستان کے کس شخص کا اندازہ رہا ہوگا کہ ایسا بھی کبھی ہوسکتا ہے۔
اب رہا یہ سوال جو التجا مفتی (محبوبہ مفتی کی بیٹی )کے لئے حیران کن ہے۔ چدمبرم ، غلام نبی آزاد اور دوسرے تمام لیڈروں کے لئے معمہ اور پریشان کْن ہے کہ ایسے دیش بھگت اور اہل وفا لوگ بھی اسی دیو استبداد کا شکار کتنی آسانی سے ہوتے ہیں، جن کے ماضی قریب ہی میں وہ’’ آقا ‘‘اور مالک رہے ہیں ، اس سے آپ کیا کہیں گے؟ سیاسی توضیحات اور تشریح میں اس سے سیاسی پانسے الٹنے کا نام دیا جا سکتا ہے لیکن اصل میں یہ مکافات عمل ہی کا حصہ ہے کیونکہ زمانہ اپنی سست رفتاری کے باوجود ہر زماں ہر شخص کا محاسبہ ضرور کرتا  ہے ۔ جو جال آپ کبھی بہت پہلے دوسروں کے لئے بھن لیتے ہیں ،آخر ایک معین وقت گذرنے کے بعد ہم اپنے آپ کو بھی اسی جال میں مقید پا کر صرف پَر ہی پھڑ پھڑا کر رہ جاتے ہیں ۔ التجا مفتی نے اپنی ماں کے بارے میں یہ بھی ٹویٹ کیا ہے کہ مفتی محبوبہ اور عمر عبداللہ نے بھارتی جنتا پارٹی کے ڈکٹیشن کو ماننے سے انکار کیا اور یہ بھی پی ایس اے کی ایک وجہ ہے۔ میرے خیال میں اس بات میں کوئی اتنا وزن نہیں ۔ بی جے پی کی دوسری بار سرکار بننے سے پہلے ہی ’’ سرکاری ‘‘ خدوخال اور عزائم کی پر چھائیاں واضح طور فضا میں محو رقص ہوچکی تھیں کیونکہ ان کے منشور میں یہ باتیں واضح تھیں اور یہ ان کے منشورمیں درج تھا کہ370 اور35-A کو ہٹایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی بار بار پرائم منسٹر اور ان کے دوسرے سا تھی شیخ اور مفتی خاندانوں دونوں کے بارے میں بارہا اس سوچ کا اظہار کرچکے تھے کہ جموں و کشمیر میں اب ان خاندانوں کا کوئی رول نہیں ہوگا بلکہ وہ ان دونوں خاندانوں کے ’’خاندانی راج‘‘سے نفرت کی حد تک چڑ چڑے نظر آتے تھے۔ 
عمر عبداللہ کا پی ا یس اے ڈوزئیر ایک طرح سے مضحکہ خیز بھی تھا ۔ اس پر الزام تھا کہ(۱) وہ انتہا پسندانہ خیالات کے حامل ہیں۔فردِ جرم، خیالات اور سوچ و فکر کی بنیادپر عائد نہیں ہوتی بلکہ جرم کے سر زد ہونے پر ہی عائد کی جاسکتی ہے لیکن یہاں سوچوں پر ہی فرد جرم عائد ہے۔ (۲) لوگوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت۔ ہر شخصیت اتنی ہی بڑی اور مشہور ہوتی ہے جتنی بڑی تعداد میں وہ عوام کو متاثر کر سکے بلکہ اپنے پیچھے پیچھے چلانے کی سحر انگیزی جانتی ہو ۔بی جے پی کے کروڈوں لوگ مودی جی کی اسی جادو نگار شخصیت کی وجہ سے صرف ان کے چہرے کو آگے رکھ کر الیکشن لڑتی رہی ہے ،تو کیا ان پر فردِ جرم عائد کی جاسکتی ہے۔ کیا یہ حیرت انگیز نہیں؟۔(۳) عمر نے5اگست کے بعد گندی سیاست کھیلی۔اس گندی سیاست کی کوئی وضاحت نہیں تھی جبکہ عمر عبداللہ نے 5اگست کے اپنے پہلے ٹویٹ میں یہی کہا تھا کہ ’’ لوگ پر امن رہیں ‘‘۔ان کے خلاف چوتھا نقطہ بھارت کی سا  لمیت اور وفاق کے خلاف منصوبہ بندی ہے۔ اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کہ5اگست سے سلاخوں کے پیچھے رہنے والے شخص کے باہری دنیا کے کن دہشت گردوں اور ملک دشمن عناصر کے ساتھ رابطے رہے ہیں جو ملک دشمنانہ منصوبے تشکیل دے رہے تھے ، یہ بجائے خود ایک معمہ ہے۔پانچواں نقطہ یہ ہے کہ عمر عبداللہ عوام کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دے سکتے ہیںجوحیر ت انگیز اور مضحکہ خیزبات ہے کیونکہ جب لیڈر ووٹ حاصل کرنے کے ہنر سے ہی نا آشنا ہوتو جمہوری نظام میں اس کا کیا کام رہ جاتا ہے ؟۔اس خاندان نے ملی ٹینسی کے عروج میں بھی اپنی خدمات ملک کے لئے مہیا رکھی تھیں ۔جب مین سٹریم پر جانوں کے لالے پڑے تھے ، عملی طور پر یہ لوگ کشمیر میں تمام مشکل مراحل میں بھارت کے معاون و مددگار رہے ہیں اور بھارت کے تئیں ان کی وفاداری میں آج بھی کسی بھارتی کو کوئی شک نہیں اور یہ ووٹ ڈلوانے کی صلاحیت انہوں نے ہمیشہ بھارت کے حق میں استعمال کی ہے لیکن اب ان کی عوام کو بھارت کے لئے ہپنا ٹائز کرنے کی یہ صلاحیت اور قوت ان کے لئے عقوبت خانوں کی وجہ بن گئی ہے ۔ اب یہ اعلیٰ قسم کی وفاداری اور70 برس کی فرمانبرداری ان کے لئے محاورتاً پھانسی کا پھندہ بن گئی۔ اگر آج شیخ محمد عبداللہ ہوتے تو کیا سوچ رہے ہوتے ؟۔ اگر آج نہرو نا سہی اندرا جی بھی بقید حیات ہوتی تو اس خاندان سے متعلق اور بھارت سرکار کے اس رویئے سے متعلق ان کے کیا احساسات ہوتے ؟کیونکہ کانگریس کی ساری قیادت اپنی تمام منصوبہ بندیوں اور سازشوں کے باوجود مانتی اور تسلیم کرتی تھی کہ یہ خاندان نہرو اور اندرا سے بھی ہندوستان کا زیادہ وفادار ہے۔محبوبہ مفتی کا ڈوزئیر بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ کیا کہئے اسے۔ اس کے سوا کہ یہی ہے زمانے میں مکافات عمل جس سے عام لوگ سمجھتے ہوئے بھی سمجھنا نہیں چاہتے۔ کیا کہئے ا سے مکافات عمل کے سوا۔اور اس مکافات عمل کی ساری کہانی اس کوزے میں سمندر کی طرح بند ہے کہ’’لمحوں نے خطا کی ہے صدیوں نے سزا پائی ہے‘‘۔ اصل زندگی کی حقیقت یہی ہے کہ ہم اس ابریشم کے کیڑے سے زیادہ مختلف نہیں جو ریشم کے مہین تار اپنے ارد گرد بھنتا رہتا ہے اور آخر اپنے آخری تار کے ساتھ اپنے آپکو اسی ریشم کے خول میں بند پاکر اپنے آخری انجام کو پہنچتاہے۔
9419514537
rashid.parveen48@gmail.com