کنہ مزار نواکدل میں طویل معرکہ آرائی، جنید صحرائی سمیت 2جنگجو جاں بحق

فائرنگ کے تبادلے و بارودی دھماکوں میں 2اہلکار زخمی ، 15رہائشی مکانوں کو شدید نقصان

20 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

بلال فرقانی

 نواکدل اوربرزلہ میں پر تشدد مظاہرے، پلوامہ میں کرفیو نافذ

 
سرینگر// کنہ مزارنوا کدل سرینگر میں کئی گھنٹوں تک مسلح جھڑپ کے دوران حزب المجاہدین کا معروف کمانڈر جنید صحرائی اپنے ساتھی سمیت جاں بحق ہوا۔مسلح تصادم آرائی میں4فورسز اہلکار زخمی ہوئے ۔ معرکہ آرائی کے دوران15رہائشی مکان تباہ ہوئے۔نواکدل اور برزلہ میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان پر تشدد جھڑپیں بھی ہوئیں۔

جھڑپ کیسے شروع ہوئی؟

 کنہ مزار نوا کدل علاقے میںپیر اور منگل کی درمیانی شب علاقے میں جنگجوئوں کی موجود گی کی مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔سحری کے وقت ٹھیک سوا تین بجے پولیس کی جانب سے ٹویٹ کیا گیا، جس میں معرکہ آرائی کی اطلاع دی گئی۔سیکورٹی فورسز نے جونہی خانہ تلاشیوں کا سلسلہ شروع کیا تو مقام جھڑپ پر دونوں طرف سے فائرنگ کا آغاز ہوا۔ محصور جنگجوئوں نے فورسز اہلکاروں پر گرینیڈ پھینکے اور اندا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں2فورسز اہلکار زخمی ہوئے۔ بعد میں مزید دو اہلکار بھی زخمی ہوئے ۔فائرنگ کا سلسلہ قریب 6بجے تک جاری رہا اسکے بعد خاموشی چھا گئی۔ساڑھے دس بجے تک اکا دکا فائر کھولا گیا لیکن ساڑھے 11بجے کے بعد زبردست فائرنگ کا دوبارہ آغاز ہوا جو ساڑھے 12بجے تک جاری رہا۔اس دوران کئی بار زوردار دھماکوں کی آوازیں آئیں۔اسکے بعد ایک بار پھر خاموشی چھا گئی اور قریب آدھ گھنٹے کے بعد دوبارہ فائرنگ شروع ہوئی جس کے دوران دوبارہ دھماکے سنے گئے۔سہ پہر قریب 3بجے فائرنگ کا سلسلہ رک گیا اور فورسز نے مکانوں کا ملبہ اٹھانے کا سلسلہ شروع کیا۔مکانوں کے ملبے سے بعد میں دو جنگجوئوں کی لاشیں بر آمد کی گئیں۔معرکہ آرائی کے دوران 3منزلہ 4رہائشی مکان تباہ ہوئے جن میں آگ بھی لگی اور بارود سے زمین بوس بھی ہوئے۔اسکے علاوہ دیگر 11مکانوں کی اوپری منزل اور چھت تباہ ہوگئے اور ایک گاڑی کو بھی نقصان ہوا۔مکانوں میں موجود سارا مال و اسباب مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔

کون تھے جنگجو؟

جنید صحرائی تحریک حریت چیئر مین محمد اشرف سحرائی کا بیٹا تھا ۔ جنیدصحرائی ساکن ٹکی پورہ لولاب حال(بلبل باغ) جہانگیر کالونی برزلہ سرینگرنے کشمیر یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی تھی اوروہ24مارچ2018 میں گھر سے فرار ہوکرحزب المجاہدین میں شامل ہوا تھا۔ اسکے بڑے بھائی نے تھانہ صدر میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی اور تین روز بعد جنید کی بندوق کیساتھ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ وہ اپنا موبائل ٹھیک کرنے کیلئے گھر سے لال چوک نکلا تھا اور واپس نہیں لوٹا ۔ اسکا ساتھی طارق احمد شیخ ولد عبدالاحد شیخ ساکن ژاٹہ پورہ حال وشہ بگ پلوامہ سے تعلق رکھتا تھا۔ طارق احمد شیخ نے اسی سال مارچ 2020میں ہتھیار اٹھائے تھے۔

پر تشدد جھڑپیں

کنہ مزار نواکدل انتہائی گنجان علاقہ ہے جہاں مقام جھڑپ کے نزدیک فائرنگ کا تبادلہ شروع ہونے کیساتھ ہی سحری کے وقت نوجوانوں گھروں سے باہر آئے اور انہوں نے فورسز کے آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی۔صبح سویرے سے ہی یہاں پر تشدد جھڑپوں کا آغاز ہوا جو دن بھر جاری رہیں۔دو پہر کے بعد یہاں پر تشدد جھڑپوں میں زیادہ شدت آئی اور پتھرائو پر آمادہ مشتعل نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے اندھا دھند شلنگ کا سہارا لیا گیا لیکن مظاہرین کو مقام جھڑپ سے دور رکھا گیا۔ادھر جنید کی ہلاکت پر برزلہ میں بھی مظاہرین نے پتھرائو کیا جس کے بعد یہاں بھی پر تشدد جھڑپیں ہوئیں۔پلوامہ میں پولیس نے سہ پہر بعد کرفیوکے نفاذ کا باضابطہ اعلان کردیا۔
 

 سرینگر اور پلوامہ میں مواصلات بند 

موبائل سروس شام کو بحال

سرینگر /بلال فرقانی/ کنہ مزارنوا کدل میںجھڑپ شروع ہونے کے ساتھ ہی شہر سرینگر میں موبائل اور انٹر نیٹ سہولیات معطل کی گئیں۔بعد میں پلوامہ میں بھی انٹر نیٹ سروس معطل کی گئی۔سحری کے وقت ٹھیک 4بجے شہر سرینگر میں موبائل انٹر نیٹ خدمات بند کی گئیں اور اسکے بعد فون سروس بھی بندکی گئی۔تاہم وادی کے دیگر علاقوں میں اس طرح کی بندشیں عائد نہیں کی گئیں۔جھڑپ کے دوران پلوامہ کا جنگجو جاں بحق ہونے کیساتھ ضلع میں موبائل انٹر نیٹ سروس پر روک لگا دی گئی۔شام دیر گئے موبائل کالنگ سہولیات بحالی کی گئیں۔
 

تازہ ترین