لاک ڈائون کا چوتھا مرحلہ

صبر کا دامن تھامے رکھیں،خطرہ برقرار ہے!

تاریخ    19 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


اتوار کی شام کو جب مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے لاک ڈائون کے چوتھے مرحلہ کا اعلان کیاگیا تو جموںوکشمیر کے عوام میں یہ اُمید بندھ گئی تھی کہ شاید انہیں کوئی راحت ملے گی کیونکہ اتوار کی شام کو کہاجارہاتھا کہ ریاستیں اور مرکزی زیر انتظام علاقے اپنی سطح پر مقامی صورتحال کودیکھتے ہوئے بندشوں میں نرمی لانے کے مجاز ہونگے ۔لاک ڈائون کے چوتھے مرحلہ کے اعلان کے فوراً بعد جموںوکشمیر انتظامیہ نے کہا تھا کہ وہ آج یعنی19مئی کو اس ضمن میں حتمی فیصلہ لیں گے لیکن اب شاید اس کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مرکزی داخلہ سیکریٹری کی جانب سے کل یعنی پیر کو تمام ریاستوں اور یونین ٹریٹریز کے چیف سیکریٹریوں کو جو مکتوب روانہ کیاگیا ہے ،اُس میں واضح کیاگیا ہے کہ کوئی بھی ریاست یا یونین ٹریٹری مرکزی سرکار کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کو نرم نہیں کرسکتی ہے تاہم انہیں بندشوں میں مزید سختی کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔تازہ مکتوب میں کہاگیا ہے کہ کسی کو بھی لاک ڈائون کے چوتھے مرحلہ کو نرم کرنے کی اجازت نہیںدی جائے گی۔تازہ فرمان کے بعد اگر مختصر کلام کیاجائے تو لاک ڈائون اسی شدت کے ساتھ جاری رہے گا ،جس شدت کے ساتھ یہ تیسرے مرحلہ میں جاری تھااور چوتھے مرحلہ میں مرکز کی جانب سے جن رعائتوں کااعلان کیاگیا ہے ،صرف انہی رعایات پر عمل ہوگا تاہم اسمیںبھی مقامی سرکاریں اپنی مقامی صورتحال کے مطابق ترمیم کرکے انہیںختم کرنے کی مجاز ہونگیں لیکن اس کے اُلٹ کرنے کا کسی کو اختیار نہیںہے ۔مطلب یہ ہے کہ مقامی سرکاری لاک ڈائون کو مزید سخت کرسکتی ہیں لیکن نرم نہیں کرسکتیں۔لاک ڈائون کے چوتھے مرحلہ میں ممنوعہ اور جائز سرگرمیوں کا اگر بغور جائزہ لیاجائے تو بلا شبہ بہت ساری سرگرمیوں کی اجازت دی جاچکی ہے تاہم بیشتر سرگرمیاں ابھی بھی ممنوعہ کے زمرے میں ہی ہیںاور جس رفتار سے ملکی سطح پر نئے کورونا کے معاملات سامنے آرہے ہیں،ایسے میں لگتا ہے کہ لاک ڈائون سخت ہی ہوگا ،نرمی نہیں ہوگی ۔اب جہاں تک جموںوکشمیر کا تعلق ہے تو یہاں بھی کسی تساہل یا لاپرواہی کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ یہاں بھی کورونا کے معاملات خطرناک رفتار کے ساتھ بڑھ رہے ہیں اور اموات کی شرح بھی بدستور بڑھتی ہی چلی جارہی ہے ۔کل یعنی پیر کو ہی کشمیر میں کورونا کی وجہ سے دو اموات ہوئیںاور دونوںکاتعلق جنوبی کشمیر سے ہے ۔جنوبی کشمیر ابتدائی ایام میں کورونا سے کافی حد تک بچا ہوا تھا لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ جنوبی کشمیر کو اس نے بری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔وسطی کشمیر کے سرینگر ،بڈگام اور گاندربل اضلاع میں بھی صورتحال اطمینان بخش نہیں ہے اور مسلسل نئے معاملات سامنے آرہے ہیں۔یہی حالت شمالی کشمیر کی بھی ہے جہاں سے نئے معاملات متواتر سامنے آرہے ہیں۔اب جہاں تک جموں صوبہ کاتعلق ہے تو بے شک جموں میں کورونا معاملات کشمیر کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں تاہم گزشتہ کچھ دنوں سے جموں سے بھی کورونا کے نئے معاملات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور اب کم و بیش جموں صوبہ کے سبھی اضلاع کورونا کی لپیٹ میںہیں۔چناب خطہ کے رام بن ،ڈوڈہ ،کشتواڑ اور ریاسی میں نئے معاملات سامنے آئے ہیں۔اسی طرح پیر پنچال کے راجوری اور پونچھ اضلاع بھی پھر سے متاثر ہوچکے ہیں ۔میدانی جموں کے کٹھوعہ ،سانبہ ،جموںاور ادہم پور اضلاع میں لگاتار کورونا کے نئے معاملات ریکارڈ کئے جارہے ہیں۔بحیثیت مجموعی جموںوکشمیر کی صورتحال قطعی اطمینان بخش نہیں ہے تاہم یہ امر کسی حد تک اطمینان کا باعث ہے کہ جو نئے معاملات سامنے آرہے ہیں ،ان میں سے بیشتر وہ لوگ شامل ہیں جو باہر سے آرہے ہیں اور ابھی گھروں کو نہیں لوٹے ہیں بلکہ انتظامی قرنطینہ میں ہیں اور وہیں ان کی تشخیص ہورہی ہے، جہاں سے انہیں پھر ہسپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اکیلے ہی متاثرین ہیں اور ان کی وجہ سے یہ وائرس ان کے اہل خانہ یا پڑوسیوں کو منتقل نہیں ہوا ہے ۔ایسے معاملات سے نمٹنا آسان ہے کیونکہ یہ لوگ ٹھیک ہوکر گھروں کو رخصت ہونگے اور وائرس ہسپتالوں میں ہی مر جائے گاتاہم ابھی بھی جو ٹریول ہسٹری کے بغیر کورونا کے معاملات سامنے آرہے ہیں ،وہ مسلسل پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مرحلہ پر تساہل قطعی نہ برتا جائے اور ہم مکمل طور ہوشیار رہ کر احتیاط سے کام لیں ۔بے شک معمولات زندگی بحال کرنے ہیں لیکن یہ مرحلہ وار بنیادوںپر ہونا چاہئے ۔ا س مرحلہ پر اگر ہم نے لوگوںکو ایک دوسرے سے گُھل مل ہونے دیا تو وائرس سوسائٹی میں منتقل ہوجائے گا اور پھر اس پر قابو پانے کی سبھی کوششیں رائیگاں جائیں گی۔عید کی تیاریوں کے حوالے سے بھی احتیاط لازم ہے اور بہتر ہے کہ ہم عید سادگی سے منائیں اور اپنے آپ کو گھروںتک ہی محدود کریں کیونکہ ہماری غفلت کی وجہ سے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ عید ہمارے لئے پھر اجتماعی ماتم داری کا باعث بن جائے ۔اللہ ہم سب کو اپنی امان میں رکھے ۔آمین
 

تازہ ترین