حکومت کاروباری آسانی کے اگلے مرحلہ پر کام کررہی ہے | غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کا کام شروع

تاریخ    18 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


نیوز ڈیسک
نئی دہلی// غیرملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اور گھریلو صنعتوں کو فروغ دینے کیلئے حکومت ‘کاروباری سگمتا۔از آف دوئنگ بزنس’ کے اگلے مرحلہ پر سنجیدگی سے کام کررہی ہے جس سے وسیع سطح پر روزگار کے مواقعے پیدا ہوں۔مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن اور وزیرمملکت برائے خزانہ انوراگ ٹھاکر نے اتوار کو یہاں وزیراعظم نریندر مودی کے ‘آتم نربھر بھارت ابھیان’ تفصیلات کی پانچویں اور آخری پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکومت کاروباری آسانی کے اگلے مرحلہ کی طرف سنجیدگی سے بڑھ رہی ہے ۔ اس مرحلہ میں ریئل اسٹیٹ کا آسانی سے اندراج، تجارتی تنازعات کو جلد از جلد حل کرنے اور ٹیکس ڈھانچہ کو آسان بنانے پر زور دیا جائے گا۔ ان کے ذریعہ ہندستان کو دنیا میں کاروبار کیلئے سب سے زیادہ پرکشش مقام بنانے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت ملک میں کاروبار کے موافق ماحول بنانے کی کوشش کررہی ہے ۔ عالمی سرمایہ کار ملک کی کاروبار ماحول رپورٹ۔ڈی بی آر دیکھتے ہیں۔ حکومت کی مسلسل کوششوں سے عالمی بینک کی ڈوئنگ رپورٹ 2019میں ہندستانی کی حالت میں بہتری آئی ہے ۔ 2019میں ہندستان کا مقام 142سے بہتر ہوکر 63ہوگیا ہے ۔ حکومت کی اصلاحات میں اجازت اور منظوری کے عمل کو آسان بنانا، سیلف سرٹی فکیشن اور تیسرے فریق کا سرٹی فکیٹ حاصل کرنا شامل ہے ۔ سیتارمن نے کہاکہ کاروباری آسانی کیلئے دیوالیہ اعلان کرنے کے عمل کیلئے کم از کم رقم ایک کروڑ روپے کردی گئی ہے ۔ پہلے یہ رقم ایک لاکھ روپے تھی۔ اس میں مائکرو، چھوٹی اور درمیانہ صنعتوں کو فائدہ ملے گا۔ اس سے متعلق نوٹفکیشن جلد جاری کیا جائے گا۔ کورونا وبا کے پیش نظر دیوالیہ اعلان کرنے کا نیا طریقہ کار ایک برس کیلئے معطل کردیا گیا ہے ۔کووڈ۔19سے متعلق قرض نہیں چکانے پر متعلقہ انٹرپرائزز کو ‘ڈیفالٹر’ نہیں مانا جائے گا۔مرکزی وزیر نے کہا کہ ملک کو خودانحصار بنانے کیلئے نئی پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگس (پی ایس یو) پالیسی لائی جائے گی۔اس میں تمام شعبے پرائیویٹ شعبہ کے لئے کھول دیئے جائیں گے اور پبلک سیکٹر نوٹیفائیڈ ایریا میں کام کریں گے ۔پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کی ضروری موجودگی والے اسٹریٹجک شعبوں کو حکومت نوٹیفائیڈ کرے گی۔ اسٹریٹک شعبوں میں کم از کم ایک پبلک سیکٹر اٹرپرائزز رہے گا لیکن اسے بھی پرائیویٹ سیکٹر کے لئے کھول دیا جائے گا۔ دیگر شعبوں کی پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کا وقت کے ساتھ پرائیویٹائزیشن کیا جائے گا۔ انتظامی شعبے کی لاگت کم کرنے کیلئے کسی بھی اسٹریٹجک شعبے میں پی ایس یو کی تعداد چار سے زیادہ ہوگی۔ دیگر پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کا یا تو پرائیویٹائزیشن ہوگا یا ان کا انضمام کیا جائے گا یا ان میں سرمایہ کشی ہوگی۔ (یو این آئی)
 

تازہ ترین