تازہ ترین

افسانچے

17 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

ایف آزاد دلنوی

’’کیا کیا نہ سہے سِتم۔۔۔!!!‘‘

بیوی نے ہمت بندھا کر اپنے میاں کو جوں توں کرکے اسپتال چلنے کے لئے آمادہ کردیا، جہاں اس کی بھانجی نے ایک ننھے سے میل بچے کو جنم دیا تھامیاں شعر وشاعری میں کمال دلچسپی رکھتے تھے اور ادبی دنیا میں اپنی اچھی خاصی چھاپ بھی چھوڑ چکے تھے۔بیوی اس لحاظ سے مطمئن تھی کہ ان کے میاںکی شاعری روز سوشل میڈیا پر آتی ہے لوگ روز ہی ان کی شاعری پڑھتے ہیں ۔ کسی کی کیا مجال کہ ہمیں اسپتال جانے سے روکے۔میا ں ڈریسنگ روم میں اپنے بال سنوارنے میں مصروف تھے کہ باہر سے عجلت بھرے لہجے میں آواز آئی۔
’’ارے سنتے ہو ۔اب اور کتنی دیر لگائو گے۔‘‘
میاں ایک دم سے چونک اُٹھے ۔باہر جھانکا تو بیوی کو اضطراری حالت میںگھوم پھر تے ہوئے دیکھا،من ہی من میں سوچنے لگے۔
’’کبھی نائو گاڈی پر تو کبھی گاڈی نائو پر۔آج اگلے پچھلے کا حساب لوں گا۔کریں انتظار۔۔۔!!
میاں اپنا چُغہ تلاش کرنے لگے، جو وہ اکثر مشاعروں میں پہن کر جاتے تھے چغہ نہ ملنے پر چاروناچاربیوی کو آواز دی۔
’’محترمہ میرا چغہ کہاں رکھا ہے ۔‘‘
یہ سنتے ہی بیوی بھڑک اُٹھی۔بولی
’’ارے میاں جی ہم مشاعرے میں نہیں جارہے ہیں جلدی کر نہیں تو۔۔۔۔۔۔!!!‘‘
اور چلتے چلتے پارک میں رکھے گلدان کوپائوں مار کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ۔ یہ دیکھ کر میاں نے کچھ ہمت جٹا کر کھڑی سے باہر جھانک کر کہا ۔
’’جب میرے کسی رشتہ دار کے ہاں جانا ہوتا  ہے تب اتنی عجلت نہیں کرتی ہو۔‘‘
اس پر بیوی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگی تومیاں بھیگی بلی کی طرح دُم ہلاتے ہوئے پارک میں آگئے۔کار اسٹاٹ کرکے دونوں اسپتال کی طرف روانہ ہوئے۔
سڑک سنسان تھی نقل و حمل پر پابندیاں عائد تھیںکیونکہ عالمی وبا کے چلتے مکمل لاک ڈائوں کا اطلاق ہورہاتھا۔ سڑک خالی دیکھ میاں تیز رفتاری کے ساتھ کار چلاتے رہے یہاں تک کہ پولیس چیک پوسٹ آگیا۔پولیس آفیسر کو پوری ٹیم کے ساتھ اپنی طرف آتے دیکھ کر میاں کے تن بدن میں تھرتھراہٹ ہونے لگی چہرے پرہوائیاں اُ ڑنے لگیںاتنے میں ڈانٹ ڈپٹ شروع ہوئی۔میاں تھرتھراتے ہونٹوں سے بولے۔
’’سر غلطی ہوئی ہے ۔‘‘
پولیس آفیسر نے کھڑکی سے اندر جھانکتے ہوئے پچھلی والی سیٹ کا جائزہ لے کر کہا ۔
’’یہ کس دوشیزہ کو گھومانے لے جارہے ہو۔‘‘
میاں حیرت میں پڑ گئے کہ پچاس برس کی عورت کودوشیزہ کہتے ہیں۔ میاں نے سہمے ہوئے بیوی کی طرف دیکھااُس کے بنائو سنگھار کا جائزہ لے کرآفیسر کی طرف دیکھ کر سوچنے لگے۔
’’آفیسر تو ٹھیک ہی کہہ رہا ہے۔اس کے ماتھے پرایک بھی جھری نظر نہیں آرہی ہے اس نے چہرے کو پائو ڈر سے اچھے سے لیپ دیا ہے۔میرے سامنے مر جھائے ہوئے پھول کی طرح آتی ہے نہ خوشبو نہ کوئی زیبائش۔اتنے میں آفیسر کرخت لہجے میں بولے۔
’’اس کو نیچے اُتارو۔‘‘
میاں ہکلا تے ہوئے تعارف دینے لگے مگر پولیس اہلکاروں کی چیخ پکارمیں ان کی آواز ہی دب گئی ۔ان کو نیچے اُتار کر ایک جگہ پر کھڑا کر دیا۔کچھ اہلکار طعنے کسنے لگے۔کسی نے کہا ۔
’’قینچی دیکھو۔پہلے رومیو کے زلف تو صاف کر دیتے ہیں۔‘‘
اور وہ طرح طرح کی بے تُکی باتیں کرتے رہے۔میاں سوچنے لگے۔
’’اتنی خفت بابا آدم کو بھی عدن سے نکلتے وقت نہ اُٹھانی پڑی ہوگی۔‘‘
آفیسر نے اپنے روئے میں سختی لاتے ہوئے فرمان سنایا۔
’’کان پکڑ کر اُٹھا بیٹھی شروع کرو۔‘‘میاں نے بہت مزاحمت کی۔ وہ ایک بھی نہیںمان رہے تھے، سرو کی طرح سیدھے کھڑے رہے، بات بڑھنے لگی تو بیوی نے کار کے شیشے کا پٹ نیچے کرکے تبسم سے ایک ہوائی بوسہ دیا۔تو میاں گنگناتے ہوئے شروع ہوئے۔
کیا ۔۔۔کیا۔۔۔۔۔نہ۔۔۔۔۔۔سہے۔۔۔۔۔۔۔!!!
 
 

 ’’ میں بھی اک جان ہوں‘‘

شرح اموات پر بات کرتے ہوئے جوان بیٹے نے باپ سے کہا
’’ابا۔۔۔۔۔۔۔۔یہ زیادہ  تر دادا جی کی عمر کے لوگوں کو اپنی چپیٹ میں لے کر مار ڈالتا ہے ہم سیف زون میں ہیں مگر۔۔۔۔۔۔۔!!!سنا ہے کہ اب ہمارے گائوں میں بھی آگیا ہے ۔‘‘
بالکونی میں بیٹھے دادا جی یہ سنتے ہی تھرا اُٹھے اور کانپتے ہوئے کمرے میں جاکرکارتوس والی بندوق ایک ہاتھ میں اُٹھا لی دوسرے میں لاٹھی۔۔۔۔بدن میں تھوڑی لچک لا کر آہستہ آہستہ سیڑھیاں اتر تے ہوئے نیچے آکر غصہ بھرے لہجے میں بیٹے  سے بولے۔
’’کیا نام ہے اس کا۔۔۔؟میں اُسے زندہ نہیں چھوڑوں گا ۔‘‘
پوتے نے زور سے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔’’کو رو نا‘‘
 
دلنہ بارہمولہ
موبائل نمبر:-9906484847