تازہ ترین

افسانچے

تاریخ    17 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


ڈاکٹر نذیر مشتاق

احتجاج 

ارے کیا ہوا! آپ اتنی جلدی واپس آگئے ۔آپ کیوں اداس ہیں کر ارے آپ کی آنکھوں میں آنسو ۔کیا بات ہے؟ کچھ تو بتائے؟ پیپلی نے اپنے جیون ساتھی کورو  سے پوچھا وہ کرونا کو پیار سے کورو کہتی تھی۔ کورو گم صم تھا اور پیپلی اصرار کئے جارہی تھی۔۔کورو نے آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوے کہا۔۔۔پیپلی تمہیں کیا معلوم  میرے دل پر کیا گزر رہی ہے۔ تم تو اس عورت کی بچہ دانی کے اندر عیش کر رہی ہو  اس عورت کو معلوم نہیں ہے کہ  پیپیلوما فیملی کا وائرس اس کی بچہ دانی کے اندر کینسر کی تیاری کر رہا ہے۔ اس لئے تم عیش کر رہی ہو اور میں در بدر بھٹک رہا ہوں۔ کوئی شکار نہیں مل رہا ہے۔ لوگ غائب ہیں اور میرے خلاف ہر تدبیر پر عمل کر تے ہیں ۔
میں چھپتے چھپاتے ایک گھر میں داخل ہوا  وہاں  ایک  بوڑھا آدمی  اپنا  سینہ زور زور سے مسل  رہا تھا۔ اس کی لاغر بیوی  اس سے کہہ رہی تھی۔    کہیں سے  تھوڑے سے چاول  تھوڑا سا نمک اور تھوڑا سا تیل  مل جاتا  تو  میں ان  بچوں کو کھچڑی بنا کر کھلاتی۔کئی دنوں سے بھوکے ہیں۔اس کے  چار بچے فرش پر بھوک سے تڑپ رہے تھے۔میں  بوڑھے کے  سینے میں پہنچا  وہاں میرا دم گھٹنے لگا۔ اس کے پھیپھڑے سکڑ ے ہوئے تھے۔ مجھے آکسیجن نہیں ملی ۔ میں جیسے آگ میں جھلسنے لگا۔میں مر جاتا مگر خوش قسمتی سے بوڑھا زور سے کھانسنے لگا اور میں باہر آگیا۔سوچا  اب اس کی بیوی کے اندر چلا جائوں مگر وہ ہلدی کی طرح زرد تھی اس کے جسم میں خون ہی نہیں تو میرے لئے آکسیجن کہاں ہوگا اور اسکے بچے وہ پتہ نہیں کتنے دنوں سے بھوکے ہیں، اس لئے  میں ان سے دور رہا۔میں وہاں سے بھاگ کر دوسرے گھر میں داخل ہوا، وہاں دیکھا کہ وہ پیاس سے مر رہے ہیں۔ میں وہاں سے بھاگا۔ جدھر دیکھا یہی حال تھا۔ میں پریشان ہو گیا کہ باس نے میری ڈیوٹی کہاں لگائی ہے۔ ان بھوکے پیاسے انسانوں کے سینوں میں کچھ بھی نہیں ہے۔ میں کروں تو کیا کروں ۔؟
میں  وہاں سے بھاگ کر آیا مجھے یہ ڈیوٹی منظور نہیں۔ یہ لوگ پہلے ہی مر چکے ہیں، بھلا میں ان کو کیا ماروں؟ میں کیا ماروں؟ اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنی ٹرانسفر اس غریب ملک سے کسی اور ملک میں کروائوں مگر پریشانی ہے کہ تم اکیلی رہ جائو گی، میری پیپلی! ( پیپلوما وائرس کو وہ پیار سے پیپلی کہتا تھا )۔۔ کورو تم میری فکر مت کر میں اس عورت کی بچہ دانی کے اندر بالکل صحیح سلامت اور خوش ہوں۔ تم اپنے بارے میں سوچو او کے میں باس سے ملنے جارہا ہوں۔ مجھے اس ملک سے کسی اور ملک میں بھیجے جہاں میں لائف انجواے کر سکوں۔۔
اور اگر  باس  نے  انکار کیا  تو  کیا کروگے، اس کی بیوی  پیپلی نے  اس سے پوچھا۔
خودکشی۔۔۔۔۔کورو  نے جاتے جاتے جواب دیا۔۔۔مگر اس ملک میں کبھی واپس نہیں آئونگا۔
 
 

ڈر پوک 

سلام جُو بچپن سے ہی ڈر پوک تھا بادل گرجتے، بجلی چمکتی تو وہ ماں کے آنچل میں چھپ جاتا۔کتے زور سے بھونکتے وہ رونے لگتا۔اسکول میں استاد ذرا اونچی آواز میں  بات کرتا تو وہ روتا ہوا کلاس سے نکل جاتا۔اس لئے اسکول میں اس کا نام ڈرپوک رکھا گیا تھا۔
اس نے دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کی تو باپ نے اسے دکان پر بٹھا دیا۔اس نے خوب محنت کرکے ترقی کرلی۔ باپ نے اس کی شادی ایک بہادر لڑکی سے کر لی تاکہ گھر کا توازن برقرار رہ سکے۔اس کی بیوی نے گھر کا سارا بوجھ اپنے کاندھوں پر لیا مگر سلام جُو ویسے کا ویسے رہا۔وہ گھر سے نکلتے ہوئے چھلانگ مارتا یہ سوچ کر کہ کہیں اس کے سر پر چھت نہ گرے۔ سلام جو کو ایک مرتبہ بیوی کے ساتھ  ہوائی جہاز سے سفر کرنا پڑا۔جب جہاز رن وے سے اوپر اٹھا تو اس کی شلوار گیلی ہو گئی اس دن کے بعد اس نے کبھی ہوائی سفر نہیں کیا۔اس نے اچھا خاصا پیسہ جمع کیا تھا۔ اس کا بیٹا اب اس کی تجارت میں مدد کر رہا تھا۔اس کی بیٹی جو اس سے بہت  پیار کرتی تھی اب اپنے شوہر کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزار رہی تھی۔سلام جُو ہر ہفتے کسی نہ کسی ڈاکٹر سے مشورہ کرتا کیونکہ اسے ہر وقت کسی نہ کسی بیماری کا ڈر لگا رہتا تھا۔۔آخر ایک دن ایک ڈاکٹر نے اس سے کہا کہ اسے دل کی بیماری ہے۔ وہ بہت گھبرا گیا۔ اس نے بہت مشکل اور جدوجہد کے بعد احتیاطاً ایک ہارٹ اسپیشلسٹ کے مکان کے سامنے مکان خریدا تاکہ ہارٹ اٹیک آتے ہی اسے فوری علاج میسر ہو۔اب وہ اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔۔اسے ہر وقت موت کا ڈر ستاتا رہتا۔
وہ  اکثر خواب دیکھتا کہ وہ مر گیا ہے اور لوگ اسے قبر میں اتار رہے ہیں۔ اسی وقت وہ پسینے میں شرابور نیند سے جاگتا اور بیوی سے سب کچھ کہتا۔ وہ اس کا سر اپنے  زانو پر رکھ کر اسے دلاسا دیتی اور زیر لب مسکراتی۔۔۔۔کسی ڈاکٹر نے اس سے کہا  "۔ تم ایک دماغی مریض ہو تمہیںخوف مرگ  Death phobia ہے۔  تمہیں کونسلنگ کی ضرورت ہے تم کسی ماہر نفسیات کے پاس جاو۔"وہ ڈر گیا کہ پھر لوگ اسے پاگل سمجھیں گے اس لئے وہ ماہر نفسیات کے پاس نہیں گیا۔ اب وہ  جسمانی طور کمزور ہونے لگا تھا  وہ کھانے پینے میں بہت پرہیز سے کام لیتا تھا۔ صرف ساگ اور چاول پر گزارہ کرتا تھا۔۔۔
وہ  دن میں ایک بار دوکان پر جاتا اور پھر گھر میں ہی بیٹھا رہتا۔اچانک دنیا کو کورونا وائرس نے اپنی گرفت میں لے لیا۔۔سلام جو نے جب پوری طرح سمجھ لیا کہ کرونا وایرس کیا ہے اور اگر یہ حملہ آور ہو تو بچنا مشکل ہے۔اس لیئے اس نے اپنے آپ کو ایک کمرے میں  مقید کر لیا۔کمرے میں باتھ روم تھا جہاں وہ ہر آدھ گھنٹہ بعد صابون سے باتھ دھولیتا اور پھر اپنے بیٹھنے کی جگہ دو طرف رکھے گئے سینیٹایزرس کو ہاتھوں پر ملتا اور پھر ؟
 
 

پیرانائیڈ(Paranoid)

سلیم کا باپ ایک پیرانائڈ مریض تھا ماہر نفسیات نے کہا تھا کہ اس مرض میں مبتلا مریض بہت زیادہ شک کرتا ہے۔سلیم اب سب کچھ جانتا تھا۔ اس کا باپ اکثر کہتا  ۔۔کوئی مجھے قتل کرنے آرہا ہے۔۔وہ دیکھو  میرا بھائی چھری ہاتھ میں لئے آرہا ہے۔۔کوئی میرے کانوں میں کچھ بول رہا ہے ۔ میری بیوی میرے کھانے میں  زہر ملا رہی ہے۔ میں چل رہا ہوں کوئی میرا پیچھا کر رہا ہے۔ اس کے ہاتھ میں پستول ہے۔۔اب وہ جو بھی کہتا اس کی بیوی اور بیٹا اثبات میں سر ہلاتے۔ دو سال سے وہ دوائیاں لے رہا تھا مگر مرض جوں کا توں تھا۔۔۔
اب جب سے وہ لاک ڈاون میں تھا اس کے مرض کی علامات میں  اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔اب وہ عجیب سی بے تکی باتیں کر رہا تھا ۔چند  روز سے وہ کہہ رہا تھا ۔
سلیم بیٹا مجھے لگ رہا ہے کہ میں کووڑ پازیٹیو ہوں۔
سلیم پہلی بار اس کی بات سن کر زور زور  سے ہنسا۔
ارے بابا! کیا کہہ رہے ہیں آپ؟آپ تو گھر سے باہرہی نہیں گئے پھر بھلا کورونا کہاں سے آئے گا۔۔۔
 بیٹا میں پازیٹیو ہوں۔ میری بات کا یقین کرو۔ میرے دشمن نے مجھے مارنے کے لیے چال چلی ہے۔ 
سلیم اور اس کی ماں نے اس کی بات کو پیرانائڈ مریض کی بیماری کی علامت سمجھ کر رد کیا مگر دو دن بعد مریض نے پھر سے راگ الاپنا شروع کیا کہ میں کورونا پازیٹیو ہوں۔ میں بالکل سچ کہہ رہا ہوں، میرا یقین کرلو۔اس کا بیٹا اور بیوی بار بار اہک ہی بات سن کر تنگ آگئے مگر کیا کرتے پھر بھی سلیم نے فیملی ڈاکٹر سے مشورہ کیا۔اس نے کہا دوائی کا ڈوز ڈبل کریں، پھر وہ کچھ نہیں کہے گا۔  آج کل اکثر ایسے مریض ایسی باتیں کرتے ہیں آپ بے فکر رہیں ۔۔دوائیوں کا ڈوز بڑھانے کے بعد مریض نیم غنودگی کی حالت میں رہنے لگا اور کم باتیں کرنے لگا۔
 اس روز شام کو مریض آنکھیں بند کئے نیم غنودگی کی حالت میں بڑبڑا رہا تھا۔سلیم اور  اس کی ماں  اس کے قریب  بیٹھے تھے۔ مجھے  یاد آرہا ہے کہ میں اپنے   ایک  رشتہ دار کے گھر گیا ۔ میں نے اس کے ساتھ ہاتھ ملائے اور اسے گلے لگا یا  اور دیر تک اس کے ساتھ باتیں کرتا  رہا ۔  مجھے معلوم ہے وہ میرا دوست نہیں دشمن ہے۔  وہ کبھی نہ کبھی مجھے مار ڈالے گا۔بہت خطرناک آدمی ہے وہ۔۔۔۔مجھے معلوم تھا  وہ مجھے کبھی نہ کبھی زہر کھلاے گا۔ آخر اس کمبخت نے اپنا اصلی روپ دکھایا، مجھ سے بدلہ لے ہی لیا۔۔وہ  وہ  وہ اچانک اس کی حالت عجیب سی ہوگئی وہ زور زور سے کھانسنے لگا اور جل بن مچھلی کی طرح تڑپنے  لگا۔ اس کی بیوی اس کا سینہ مسلنے لگی۔  سلیم نے ڈاکٹر کو فون کیا۔ڈاکٹر آیا اس کی صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں۔
 اس نے معائنہ کیا اور کہا۔۔ سلیم صاحب  جلدی کریں ان کو  اسپتال میں داخل کرنا پڑے گا لگتا ہے یہ کووڈ -19 کے مریض ہے۔۔۔!
 
 

بُھوک 

حویلی کے ڈائننگ روم میں ایک سات سالہ لڑکے کے ارد گرد کئی نوکر ادب سے کھڑے ہوکر لڑکے کو  ہنسانے کی کوشش میں مصروف ہیں  اور اسے کچھ کھانے کے لئے اکسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کا باپ اس کی منتیں کر رہا ہے کہ کچھ کھا لے۔ اس کی ماں بار بار اصرار کر رہی کہ وہ سامنے میز پر پڑی ضیافتوں میں سے کچھ چکھ لے۔ لڑکے نے میز پر رکھی ہوئی چیزوں کا بغور جائزہ لیا ۔چکن ،گوشت ،پنیر، ابلے ہوئے انڈے ،کباب، روٹیاں، انواع و اقسام کے میوے اور مٹھائیاں اورنان سموسے کیک پیسٹری وغیرہ۔لڑکے نے کھانے کی ہر چیز پر ایک اچٹتی نگاہ ڈالی اور پھر اچانک کھڑا ہو کر ایک انگڑائی لے کر کہا  میں کچھ نہیں کھاؤں گا  مجھے بھوک نہیں ہے ۔
عین اسی وقت حویلی کے پیچھے  ایک خالی زمین کے ٹکڑے پر بنی ایک جھونپڑی میں ایک سات سالہ لڑکا اپنی خستہ حال اور کئی دنوں سے بھوکی ماں کے سامنے رو رہا تھا۔ماں کی گود میں ایک لاغر ڈیڑھ سالہ بچہ بائیں طرف کا سوکھا اور جھریون دار پستان  چوس رہا تھا۔سات سالہ لڑکا و رہا تھا اور بار بار کہہ رہا تھا کہ ماں  بہت بھوک لگی ہے کچھ کھانے کو دو۔ دو نا۔۔ماں کچھ دونا تنگ آکر۔۔۔ اس نے بیٹے کو اپنے قریب لایا اور دائیں طرف کانوک پستان Nipple  اس کے منہ میں ڈال دیا۔
 
 ہمدانیہ کالونی بمنہ سرینگر
موبائل نمبر; 9 419004094