بیجوں کی بروقت تقسیم اور فوری توسیع خدمات کے سبب کشمیر میں زراعت سرگرمیاں جاری

تاریخ    17 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


نیو ڈیسک
 سرینگر//صوبہ کشمیر کی 70فیصد آبادی بالواسطہ یا بلاواسطہ بالخصوص دیہی علاقوں میں رہنے والی آبادی زراعت سے منسلک ہے اور صوبے میں کووِڈ۔19لاک ڈاون صورتحال میں کشمیر کے کسانوں کو سہولیات بہم رکھنے کے لئے محکمہ زرعی پیداوار نے متعدد قدم اُٹھائے ہیں تاکہ وادی میں زرعی سرگرمیاں بلا رُکاوٹ جاری رکھی جاسکیں۔محکمہ زراعت کووِڈ وَبا کے منفی اثرات کو کم کرنے کی کوشش میں جُٹاہے اور کسانوں کو رواں خریف کے دوران چاول ، مکئی ، گیہوں ، تلہن ،زعفران ، دالوں ، مٹر ، جو وغیرہ کی کاشت جاری رکھنے کے لئے ہر ممکن سہولیت بہم رکھ رہا ہے۔محکمہ زراعت کے ایک اعلیٰ افسر نے ایک بیان میں کہا کہ جب جموں وکشمیر میں لاک ڈاون کا اعلان کیا گیا تو وادی میں ربیع فصل کی کٹائی شروع ہوچکی تھی اور چند ایک معاشی سرگرمیوں بشمول زراعت کو دوبارہ شروع کرنے کی اِجازت کے اعلان کے ساتھ ہی محکمہ نے کسانوں کو مدد اور ماہرانہ مشورے فراہم کئے۔محکمہ نے کھیتوں میں کام کرنے کے دوران کسانوں کوکووِڈ۔19 رہنما خطوط کے بارے میں جانکاری فراہم کی جس میں سماجی دوری بنائے رکھنا بھی شامل ہے۔زرعی مزدوروں کی قلت سے نمٹنے کے لئے محکمہ نے مقامی ذرائع کو بروئے کار لا کر ربیع فصلوں کی کٹائی بشمول گیہوں ، تلہن اور جو کی کٹائی یقینی بنائی ۔محکمہ نے جوان او رصحت مند کسانوں کو زرعی سرگرمیوں سے وابستہ ہونے جب کہ بزرگوں اور جسمانی طور کمزور اَفراد کو گھروں میں ہی رہنے کی صلاح دی۔ایک مؤثر حکمت عملی اِختیار کرتے ہوئے محکمہ کے اَفسران اور فیلڈ عملے نے کووِڈ۔19 وَبا کے پھیلائو کی روکتھام کے لئے جاری رہنما خطوط پر سختی سے کار بند رہے۔ حال ہی میں محکمہ کے ماہرین اور اَفسروں پر مشتمل ٹیم نے پدگام پورہ فارم کا دورہ کر کے کسانوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا اور اُن میں ماسکس اور دستانے تقسیم کرتے ہوئے اُنہیں کووِڈوَبا کے بارے میں جانکاری دی اور کھیتوں میں کام کرتے وقت احتیاطی تدابیر پر عمل پیر ا ہونے کی بھی صلاح دی۔محکمہ زراعت نے کسانوں کی سہولیت کے لئے چوبیس گھنٹے ایک ہیلپ لائین بھی قائم کی ہے جس کے لئے ماہرین کی ٹیم کو تعینات کیا گیا ہے ۔ہیلپ لائین قائم کرنے کا مقصد کسانوں کو مختلف فصلوں اور دیگر زرعی سرگرمیوں کے بارے میں مستند اور صحیح جانکاری تک رسائی کو یقینی بنانا ہے۔محکمہ کے ایک بیان کے مطابق مارچ او راپریل میں کسان بوائی شروع کرتے ہیں اور عام حالات میں محکمہ زراعت صوبائی اور ضلع سطح کے اَفسران کی توسط سے بیج اور پودے تقسیم کرتے ہیں تاہم موجودہ بحرانی صورتحال کے سبب محکمہ نے بیجوں کی تقسیم کاری ہوم ڈیلوری کے ذریعے کی اور یہ عمل کسانوں کے نقل وحمل کو کم کرنے کے لئے جاری رکھا جائے گا۔بیان کے مطابق محکمہ نے 10234کوئنٹل دھان ، 2740کوئنٹل مکئی ، 164کوئنٹل مونگ ،6.14 گوار ، 3038کوئنٹل آلو ، 5کوئنٹل سبزیوں کے بیج اور 15.7کوئنٹل چارہ بیج کسانوں میں تقسیم کئے۔ اس کے علاوہ یومیہ بنیاد پر لاکھوں کچن گارڈن پودے بھی تقسیم کئے جارہے ہیں۔’آئیں سبزی اُگائیں ‘مہم کے تحت محکمہ زراعت کشمیر نے گزشتہ ماہ لوگوں میں کچن گارڈن کے لئے پودے تقسیم کئے۔مہم کا مقصد عام لوگوں کو اپنے گھروں میں سبزی اُگانے کی طرف راغب کرنا ہے۔محکمہ کچن گارڈن سکیم کو ترقی دینے کے لئے کوشاں ہے اور اُگانے والوں کو معیاری سبزیوں کی پینری فراہم کی جارہی ہے۔محکمہ زراعت کے بیان کے مطابق وادی میں معقول مقدار میں کھادیں دستیاب ہیں اور محکمہ مختلف فصلیں بشمول اہم غذائی فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لئے انتھک کوششیں کررہا ہے اور اِس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے متعدد مرکزی معاونت والی سکیموں کو عملانے کے ساتھ ساتھ کسانوں کو پیداوار میں اِضافہ یقینی بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے کے فوائد سے بھی آگاہ کیا جارہا ہے۔ 
 

تازہ ترین