جون میں سکول کھولنے کی نوید

اعلان احسن لیکن جائز خدشات کا ازالہ کیاجائے

تاریخ    14 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


 جموںوکشمیر مرکزی زیر انتظام علاقہ میں سکولی تعلیم محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری اصغر سامعون نے گزشتہ روز یہ نوید سنائی کہ حکومت کے پاس جون سے تعلیمی ادارے بحال کرنے کا پروگرام ہے ۔اگر واقعی ایسا کوئی پروگرام ہے تو اس کا خیر مقدم کیاجانا چاہئے تاہم کچھ باتیں ہیں جو حکام کے گوش گزار کرنا ضروری ہیں۔سکولی تعلیم محکمہ کے سربراہ کے مطابق سکولوں کا وائٹ واش کرنے کے علاوہ انہیں جراثیم کش ادویات کا چھڑکائو کیا جائے گااور ا سکے بعد ہی یہ تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا عمل شروع کیاجائے گا۔انہوںنے جس طرح تدریسی عمل میں تعطل پر تشویش کا اظہار کیا ،وہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ حکومت واقعی نونہالوں کی تعلیم کو لیکر کافی فکرمندہے اور ہونا بھی چاہئے ۔کوئی باپ نہیں چاہے گا کہ اُس کا بچہ سکول سے دور رہے ۔تمام والدین کی کوشش رہتی ہے کہ ان کے بچوں کا تعلیمی کیرئر متاثر نہ ہو اور اس کیلئے وہ کوئی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرتے ہیںتاہم موجودہ حالات میں گوکہ یہ خوش کن اطلا ع ہے کہ سکول جون میں کھلنے والے ہیں لیکن والدین کو کچھ جائز خدشات لاحق ہیں جن کا ازالہ لازمی ہے ۔
جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ کورونا کے معاملات مسلسل بڑھ رہے ہیں اورماہرین کے مطابق بھارت میں یہ ابھی بھی اپنی انتہا کو پہنچنا باقی ہے ۔ہمارے چیف سیکریٹری خود کہتے ہیں کہ یہاں ابھی بھی چھ سے سات ماہ تک کورونا کی صورتحال بنی رہے گی۔اگر ایسا ہے تو کیا اس طرح کے ماحول میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو سکول بھیجنا ٹھیک رہے گا؟ ۔ا سمیںکوئی دورائے نہیں کہ تعلیمی نقصان ہورہا ہے اور تدریسی عمل بحال ہونا چاہئے تاہم یہ سب طلباء کی زندگیوںکی قیمت پر نہیں ہوناچاہئے ۔ایک سکول میں بیسیوں علاقوںکے بچے مشترکہ طور پڑھتے ہیں اور کم ازکم ایک جماعت میں 30بچے ہوتے ہیں ۔کون جانتا ہے کہ سبھی بچے وائرس سے پاک ہیں ۔جب بھیڑ بھاڑ ہوگی تو کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔اگر سرکار سکول کھولنے کا ارادہ کرچکی ہے تو ا س  سے قبل انہیں پھر سبھی بچوں کے ٹیسٹ کرنے چاہیں تاکہ سکول جانے سے قبل یہ یقینی بنایا جاسکے کہ وہ انفیکشن میں مبتلا نہیں ہیں۔بچے بیماریوںکے تئیں انتہائی حساس ہوتے ہیں اور معمولی سا انفیکشن بھی ان کے لئے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے ۔کورونا کا جہاںتک تعلق ہے تو یہ انتہائی سنگین متعدی مرض ہے اور بچوںکو اس مرض کیلئے ایکسپوژ کرنا دانشمندی نہیں ہوگی ۔
اس بات سے بھی انکار نہیں کہ آن لائن تعلیم کا تجربہ کامیاب نہیں رہا ۔بھلے ہی حکومت لاکھ دعوے کرے لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ کشمیر میں آن لائن تدریسی عمل بری طرح ناکام ہوچکاہے اور بچوں کیلئے یہ عمل یقینی طور پر لکھے من اور پڑھے خدا والاہی ہے۔اس عمل کے دوران بچوں کے کچھ پلے نہیں پڑا بلکہ وہ کنفیوژن کے ہی شکار ہوجاتے اگر ان کے والدین خود انکی تعلیم پر اس دوران دھیان نہ دیتے ۔اب جب درون خانہ حکومت کو بھی معلوم ہے کہ یہ عمل ناکام رہا تو وہ چاہتی ہے کہ روایتی تدریسی نظام بحال ہو،جو اچھی بات ہے اور ہونا بھی چاہئے ۔سکولوں کا تعلیمی ماحول کہیں نہیں ملے گااور بچے جو سکول میں سیکھتے ہیں ،شاید ہی کہیں سیکھ پائیں گے لیکن بچوں کو سکول لیجانے سے قبل اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کہیں ہمارے سکول پھر کورونا کے نئے ہاٹ سپاٹ نہ بن جائیں۔
جموںوکشمیر میں سرکاری سکولوں کی حالت کیسی ہے ،سب کو معلوم ہے ۔وائٹ واش کرنے سے ان کی حالت نہیں بدلے گی اور نہ ہی جراثیم کش ادویات سے کورونا بھاگ سکتا ہے ۔جراثیم کش ادویات کا چھڑکائومحض یہ جعلی احساس دلاتا ہے کہ آدمی انفیشکن سے محفوظ رہے گا لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ یہ سپرے کورونا وائرس پر بے اثر ہی رہتے ہیں ۔سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اگر سپر ے کیا بھی جائے لیکن بچہ ہی اپنے ساتھ انفیکشن لائے تو سپرے کیا کرے گا۔اس سلسلے میں حکومت کیلئے تجویز ہے کہ وہ کم از کم بچوں کے انٹی باڈی ٹیسٹ کرائیں تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کوئی بچہ کسی انفیکشن میں مبتلا تو نہیں ہے اور اگر کوئی بچہ کورونا جیسی علامات رکھنے والے کسی طرح کے انفیکشن میں مبتلا پایا گیا تو اُس کو سکول سے دور رکھ کر اُسکا علاج کیاجاسکتا ہے اور یوں اس کے باقی ساتھی انفیکشن میں مبتلا ہونے سے بچ سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ یقینی طور پر سب سے پہلے والدین میں یہ احساس پیدا کرنا ہے کہ ان کے بچوں سکولوں میں محفوظ ہیں ۔والدین کو اعتماد میں لیکر ہی یہ کوشش کامیاب ہوسکتی ہے کیونکہ موجودہ حالات میں شاید ہی کوئی باپ اپنے بچے کو سکو ل بھیجنے پر آمادہ ہوگاکیونکہ باہر کا ماحول جیسے زہریلا ہے ۔سکولوں میں بھیڑ بھاڑ ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔سماجی دوریوں پہ سکولوںمیں بھی عمل پیرا رہنا پڑے گا۔اسکولی بسوں میں جس طرح بچوںکو ٹھونس ٹھونس کر بھرا جاتا ہے ،اُس سے گریز کرنا ہوگا اور بسوں میں بھی کم ازکم ایک میٹر کا فاصلہ یقینی بنانا ہوگا تاکہ والدین کو لگے کہ انکے بچے محفوظ ہاتھوںمیں ہیں اور اگر وہ تعلیم کے نور سے منور ہونے جائیں گے ،تو وہ سکولوںسے اپنے ساتھ وائرس نہیں لائیںگے جو نہ صرف ان بچوں بلکہ انکے پورے گھر کیلئے بھی پھر سنگین مسئلہ بن سکتا ہے ۔امید کی جاسکتی ہے کہ حتمی فیصلہ لینے سے قبل حکومت ان مشوروںپر غور کرے گی او ر انہیں روبہ عمل بھی لائے گی تاکہ جب سکول کھولنے کا فیصلہ لیاجائے تو تیاریاںمکمل ہوں اور والدین حکومتی فیصلہ کے پیچھے کھڑے ہوں۔
 
 

تازہ ترین