سیاحت،باغبانی اور ٹرانسپورٹ شعبے کیلئے امدادی پیکیج کااعلان کیا جائے:مونگا

تاریخ    12 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


 سرینگر//پردیش کانگریس کے نائب صدراورسابق ممبرقانون سازکونسل غلام نبی مونگا نے کہا ہے کہ وادی کشمیرکاباغبانی،سیاحت اورٹرانسپورٹ سیکٹرگزشتہ برس اگست سے شدیدبحران سے دوچار ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیرکی اقتصادیات کوفوری طور پر ایک امدادی پیکیج کی ضرورت ہے ۔ایک بیان میں مونگا نے کہاکہ سیاحتی شعبہ کوپہلا دھچکہ حکومت ہند نے گزشتہ سال اگست کے مہینے میں دیاجب اُس نے کشمیرمیں سیاحوں اور امرناتھ یاتریوں کو فوری طور وادی چھوڑنے کی ہدایت دی ۔اُس کے بعد نومبر میں سرینگرجموں شاہراہ بندرہی اور میوہ باہرکی منڈیوں تک نومبر کی بے وقت برف باری،جس نے باغبانی شعبے کوتباہ کیا، تک نہیں پہنچایا جاسکا۔مونگا نے کہا کہ حکومت نے امداد کے نام پرمیوہ اُگانے والوں کوجو امداد دی ،وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر تھی۔انہوں نے کہا کہ اُس کے بعد اپریل کے مہینے میں باہرکی منڈیوں تک پہنچانے کیلئے کولڈ اسٹوروں میں رکھا گیا میوہ بھی کووِڈ- 19کی وباء کے پیش نظر خراب ہوگیا۔مونگا نے کہا کہ اسی طرح ٹرانسپورٹر اوردیگر روزانہ کما کرکھانے والے گزشتہ برس اگست سے شدیدمشکلات کا شکار ہیں اور جب یہ لگتا تھا کہ اب صورتحال ٹھیک ہوگی تو کووِڈ- 19کی وبا پھوٹ پڑی اور ملک گیر لاک ڈائون کرناپڑا،جس نے کشمیرکی ابتر اقتصادیات کوایک اور دھچکہ دیا۔کانگریس کے رہنما نے کہا کہ سیاحت،باغبانی،ٹرانسپورٹ اور معیشت کے دیگر اہم شعبے بری طرح متاثر ہیں اور ان سے وابستہ لوگوں کی روزی روٹی دائو پر لگی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ضرورت ہے کہ وادی کے سیاحتی،باغبانی،ٹرانسپورٹ اوردیگر شعبوں سے جڑے افراد کی بہبود کیلئے فوری طور ایک پیکیج کااعلان کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ وقت کوضائع کئے بنا فوری طور کشمیرکی ابتر اقتصادی صورتحال کوبحال کرنے کے اقدام کئے جانے چاہیے ۔کانگریس نائب صدر نے کہا کہ حکومت ہند کے غلط فیصلوں کی وجہ سے گزشتہ برس اگست میںوادی میں حفاظتی پابندیاں عائد کی گئی اور اس سال کووِڈ- 19 کی وباء کی وجہ سے ملک گیر لاک ڈائون کی وجہ سے لوگ بری طرح مشکلات کا شکار ہیں ۔انہوں نے حکومت پرزوردیا کہ وہ سیاحت،باغبانی ،ٹرانسپورٹ  شعبوں سے وابستہ لوگوں کی بحالی کیلئے فوری طور قلیل مدتی اور طویل مدتی امدادی پیکیج کااعلان کرے۔مونگا نے کہا کہ کووِڈ-  19لاک ڈائون کا اعلان کرتے وقت حکومت نے مکمل طورمہاجرمزدوروں کو فراموش کیاجو شام کے کھانے کیلئے دن بھر مزدوری کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کام نہ ہونے اور کوئی جمع پونجی نہ ہونے کی وجہ سے کشمیر کے سینکڑوں مزدورجموں کشمیر سے باہر درماندہ ہیں ۔

تازہ ترین