عاشو

کہانی

10 مئی 2020 (30 : 03 AM)   
(      )

رافیعہ مُحی الدین
فجر کی نماز ادا کیے ہوئے ڈیڑھ گھنٹہ کے قریب وقت ہوچکا تھا ۔اماں کھانا پکانے میں مصروف تھی ۔ابا ہمیشہ کی طرح اخبار پڑھ رہے تھے اور عاشو روز کی طرح اسکول جانے کی تیاری میں مشغول ۔سردیوں کی چھٹیوں کو ختم ہوئے ابھی دس پندرہ دن ہی ہوئے  تھے۔ ابھی پوری طرح سے رونق اور چہل پہل کی فضا بھی لوٹ نہیں آئی تھی۔
بیٹھک میں اکھٹے بیٹھے ہم سب نمکین چائے پی رہے تھے کہ باہر سے اعلان شروع ہوا ۔عاشو نے چائے کی پیالی نیچے رکھتے ہوئے ـجلدی جلدی ٹی وی کی آواز کم کردی تاکہ لاوڈ سپیکر سے آنے والی بگڑتی ہوئی آواز ہمارے پردئہ سماعت تک پہنچ پائے۔ اعلان کچھ اس طرح ۔۔۔۔
’’آج سے تمام ادارے بند کئے جاتے ہیں۔ کسی کو بھی باہر آنے کی اجازت نہیں ہوگی ــ‘‘
عاشو جلدی جلدی اوپر اپنے کمرے میں گئی اور اپنے اسکول بیگ سے کچھ نکالا اور اسے  اپنے واڑروب میں رکھ دیا ۔شاید اپنے دوستوں کے لئے کچھ رکھا ہوگا ۔ واپس اپنے چھوٹے چھوٹے قدم بیٹھک میں رکھ دیئیے جیسے اس نے کچھ کیا ہی نہیں۔ عاشو، جو کہ پڑھنے لکھنے کی شوقین ذہین بچی ہے، باہر کے سارے بندھنوں سے اچانک کٹ گئی ۔دوسری جانب اماں اور ابو ایک کونے میں بیٹھے رازدارانہ انداز میں گفتگو کرتے ہوئے آہ بھری نظروں سے ایک دو مرتبہ عاشو کی طرف یوں دیکھتے ہیں گویا ان کے اسکول بند ہونے کی وجہ سے پریشان ہوئے ہوں ۔ آخر رہا نہ گیا تو اماں منہ سنبھال کے ہنستے ہنستے کہا۔۔۔۔۔۔ چلو عاشو ہم کھیلیں گے۔۔۔۔۔
عاشو نے پُر تنائو الفاظ میں جواب دیا، اماں مگر کیسے کھیلیں۔۔۔۔۔ باہر۔۔باہر جانا تو منع ہے ۔
اماں بے بسی کی حالت میں اپنی گُڑیا کو مناتے ہوئےکہنے لگیں، باہر جانا منع ہے تو کیا ہوا ۔۔۔ہم اندرکھیلنا شروع کریں گے ۔
عاشو کو اپنے کھلونے یاد آگئے اور ان کے ساتھ کھیلنے لگی ۔اپنے کمرے میں ہی بیس بال کھیلنا شروع کیا ۔یہاں تک کہ ایک دن عاشو بولی آج ہم سب ایکسکرشن جائیں گے ۔ہم سب یہ سن کر حیران ہوگئے کہ ایسی بندشوں میں ایشیاء ضروریہ لانا بھی محال ہے۔۔۔ ایکسکرشن تو دور کی بات ۔۔۔۔۔۔۔ ۔
مگرلاک ڈاون کی ماری عاشو نے سب تیاریاں پہلے سے ہی کر رکھی تھی ں۔ہم سب کو ایک کمرے میں لے کر بولی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔دیکھو  !  یہ میرا لیونگ روم پکنک ہے ۔۔۔۔۔۔۔  وہاں پہ کیا دیکھتے ہیں کہ عاشو نے اپنے سارے کھلونے ایک ہی جگہ جمع کر رکھے تھے اور ہم سب کیلئے پیپر فین بناکے رکھے تھے ایک ایک کرکے  ہم سب کو دیئے ۔عاشو کا یہ رخ دیکھ کر ہم سب نے بے اختیار ہوکر عاشو کو اپنے گلے لگالیا ۔  اور پھر عاشو کی دھن میں ہی ہم سب باہری تنائو کو کم کرنے کی کوشش میں جُٹ گئے اور گھڑی کی سوئیاں بنا ٹھہرے  ۔۔۔ٹک ۔ٹک ۔ٹک۔۔۔ چلتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔
   ۔۔۔۔فرضی ایکسکرشن کی رعنائیوں میں ہم سب یوں ہی مست تھے کہ باہر بچوں کے شور و غل سے گلی میں سوئے کتوں نے بھی اپنا راستہ ناپنا شروع کردیا۔ دوسری جانب پڑوسن کی چاچی پریشان حال تھی۔ یوں چاچی کو اُداس دیکھ کر اماں نے کمرے سے ہی دلاسے بھری آواز لگادی۔
  سکینہ کیا حال ہے اتنی پریشان کیوں نظر آرہی ہو ۔سب خیریت تو ہے نا۔
سکینہ چاچی کے کانوں تک ابھی اماں کی آواز پوری پہنچی ہی نہیں تھی کہ وہ زور زور سے رونے لگی ۔۔۔۔اپنا دم سنبھالتے ہوئے پریشان لہجے میں بولنے لگی۔۔۔۔ پتا نہیں۔۔۔ میرے بچے کہاں گئے۔ کل شام سے ہی غائب ہیں ۔انکی وہی روز کی باتیں ۔۔۔۔۔
         ایک طرف چاچی کے سترہ اٹھارہ سال کے بچے تو  دوسری جانب چھ سال کی ننھی عاشو ۔جو اتنے دنوں سے اندر بیٹھی ہے ۔کبھی اپنے کمرے کو لیونگ روم پکنک بناتی ہے ،تو کبھی ہم سب کو اکھٹا کرکے لیکچر دینا شروع کرتی ہے ،کبھی واش روم میں جاکے ٹب میں پانی ڈال کے سومنگ پول بناتی ہے ۔تو کبھی ابا کی شانوں سے گھوڑا سواری کا مزہ لیتی ہے۔ لاک ڈاون کے دن ایسے ہی گذرتے رہے۔۔
 ایک دن عاشو نے اپنے کمرے میں واڑروب کھولا تو وہاں کچھ راب جیسی پائی ،دراصل یہ پگھلا ہوا چاکلیٹ تھا جو عاشو نے اُس دن ہماری نظروں سے چھپاکے اپنے وارڈروب میں رکھ دیا تھا ۔شاید اپنے  اسکول کے دوستوں کی خاطر۔۔ ۔ چاکلیٹ کو پگھلا ہوا دیکھ کر دائیں آنکھ سے ایک موتی کی مانند آنسو کا قطرہ نیچے گر گیا ۔۔۔۔شائد اپنے دوستوں کی یاد میں۔۔۔۔۔۔۔۔
 پھر ہم سے نظریں چھپاتے ہوئے عاشو نے کتابوں کی الماری سے ایک پروجیکٹ پیپر نکالا اور نقش جمانے میں مشغول ہوگئی ۔۔جیسے کہ مرزا غالب کا یہ شعر اس کی نظروں سے کبھی گذر چکا تھا کہ۔۔۔۔۔ــ’’دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے‘‘
ـ    اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ سے چارٹ کو سجانے میں کچھ اسطرح سے مصروف ہوئی گویا کہ عالم انسانیت کے لئے کچھ اہم پیغام تیار کیا جارہا ہو۔کچھ وقت گذرنے کے  بعد ہماری نظر جب تیار شدہ چارٹ پر پڑی  تو  ہماری سوچ حیران رہ گئی ۔کیوںکہ عاشو نے کچھ ایسا ہی لکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :
lets break the chain of coronavirus 
please discipline your self
stay home stay safe
your cooperation can save our nation
چلیں کورونا وائرس کی زنجیر کو توڑ دیں
اپنے آپ میں ضبط پیدا کریں
گھر بیٹھیں محفوظ رہیں
آپکا تعاون ہمارے ملک کو بچا سکتا ہے
 
���
برنٹی اننت ناگ
موبائل؛9906705778
ای۔میل؛dsummaiya@gmail.com
 

تازہ ترین