بھول کسی کی سزا کسی کو

کہانی

10 مئی 2020 (30 : 03 AM)   
(      )

ڈاکٹرعبدالمجید بھدرواہی
میں نماز جمعہ کے لئے غسل کرنے کے لئے باتھ روم میں داخل ہوا ہی تھا کہ اتنے میں عرفان نے دروازہ پر دستک دی اور بولا’’دادو! وہاں میرا موبائل ہے وہ دیدینا۔
غسل کرنے کے بعد میں اُسے وہیں بھول گیا
ہاں!ادھر ہی ہے ۔ میں فارغ ہوکر دوں گا۔
میں نے کہا
تھوڑی دیر بعد فون کی گھنٹی بجی۔ یہ کال نجمہ نامی کسی لڑکی کی تھی۔
میں نے فون آف کردیا اور عرفان کی طرف سے واپس مسیج لکھا۔’’میں بات نہیں کرسکتا ۔ سب گھر والے ادھر ہی ہیں ۔گھنے بادل ہیں موسم خراب ہے۔‘‘
’’آپ بھی مسیج ہی کرنا۔ کال نہ کرنا‘‘
 ہم پڑھکر ڈیلیٹ کریں گے۔ ورنہ اگر کسی نے  مسیج پڑھا تو سب راز کھل جائے گا۔
اُدھر سے نجمہ کا مسیج آیا ’’میری دوسہیلیاں کسی کام سے امرتسر سے جموں آئی ہیں ۔ وہ آپ سے بھی ملناچاہتی ہیں کہ میری پسند کیسی ہے؟
آپ پورے سات بجے ہوٹل ڈلیکس میں آنا، بھولنانہیں کیونکہ آپ کو بھولنے کی عادت ہے۔ وقت یاد رکھنا۔
انہوں نے آٹھ بجے کی ٹرین سے واپس امرتسر جانا ہے۔
ٹھیک ہے جنابہ، نوٹ کرلیا ۔ پہنچ جاؤں گا۔اُو کے۔۔
میں عرفان کی طرف سے جواب لکھتا گیا ۔
نہانے کے بعد میں نے موبائل عرفان کو دے دیا۔ مگراس کو نجمہ کی کال اور میسیجز کے بارے کہنا بھول گیا۔
کیونکہ اسی وقت میرے بہت ہی پرانے خیر خواہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ مجھ سے ملنے آئے۔
باتوںباتوں میں میں یہ سب کچھ عرفان کوکہنا ہی بھول گیا کیونکہ ان کے سامنے فون پر بات کرنا بد اخلاقی مانی جاتی ۔
جب ہم ڈنر کر چکے تو مجھے یہ بات یادآئی۔ اب میںنے عرفان کو بڑے رازدارانہ انداز میں ساری بات بتائی اور معذرت بھی مانگی۔ یہ بھی بتایا کہ میں نے Messagesڈیلیٹ کئے ہیں۔ کیونکہ شام کے آٹھ بج چکے تھے۔اُسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ نجمہ کی سہیلیاں کس مقصد کے لئے آئی تھیں۔
بس پھر کیاتھا۔بات بہت بگڑ گئی۔ نجمہ غصے سے آگ بگولہ ہوگئی۔ جس کے لئے وہ حق بجانب تھی۔
عرفان اپنی طرف سے صفائی بھی نہ دے سکا۔
جب اُس نے فون کیا تو اسکے اورنجمہ کے درمیان فون پر ہی پانی پت کا گھمسان جھڑ گیا۔
نجمہ کی واقعی بے عزتی ہوئی تھی۔
اس وجہ سے دونوں کی بات چیت بند ہوگئی۔
عرفان اور نجمہ کاآپس میں بہت دیر کا دوستانہ تھا جس کے بارے میں مجھے پتہ تھا۔
اس بات سے میں اندر ہی اندر خوش تھا۔ 
میں نے ایک دن عرفان کو کہا بھی تھاکہ اب آپ نے جوانی کی دہلیز پارکرلی ہے۔بہت اچھا! مگر شریعت کے دائرے میں رہ کر اپنا معاملہ بات چیت تک ہی محدود رکھنا۔
ایماندری کا دامن نہ چھوڑنا۔ کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کرنا جس سے والدین کا سر شرم سے جھک جائے ۔ محبت کرنا گناہ نہیں ، محبت میں بہک جانا گناہ عظیم ہے ۔
پھر ایک دن عرفان نے نجمہ اور تنویر کو آپس میں بات کرتے دیکھ لیا ۔ اب عرفان اورزیادہ پریشان ہواایک تو اس لئے کہ نجمہ کے ساتھ اسکے تعلقات ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے اور دوسرے اس لئے کہ وہ جس کے ساتھ بات کررہی ہے وہ لڑکا اچھا نہیں۔
عرفان نے کئی بار نجمہ کو فون کئے مگر اس نے کوئی توجہ نہ دی۔
جب باربار فون کرنے پر بھی اس نے فون نہیں اُٹھایا تو عرفان نے امید ہی چھوڑ دی۔ مگر پھر ایک دن…… ہاں ! بولو؟ کیوں بار بار کال کرتے ہو۔ نجمہ نے صرف مختصر سی بات کی۔
برائے مہربانی میری بات سنو۔ پھر جو کرنا ہو ۔ کرو۔ تم جس لڑکے کے ساتھ باتیں کرتی ہو۔ وہ اچھا لڑکانہیں ہے ۔ وہ فلاں لڑکی کے ساتھ بھی گھومتا رہتاہے ۔ ذرا عقل سے کام لو ۔میری پوری بات سنو پھر جو مرضی آئے وہ کرو ۔ عرفان نے کہا۔
 تمہیں کیا؟ا ب۔ نجمہ بولی۔
میں جو کروں! جس سے کروں! تم کون ہوتے ہو،سمجھانے والے۔
تم اپنا راستہ لو اور مجھے دوبارہ فون  نہ کرو۔
تم نے جو میری بے عزتی کرنی تھی وہ کرلی ۔
اب میری خلاصی کرو۔دوبارہ فون کرکے مجھے اور پریشان نہ کرنا۔ نجمہ نے جواب دیا۔
اب عرفان اور زیادہ پریشان رہنے لگا۔سارے کلاس فیلوز کو پتہ چلاکہ کچھ گڑ بڑ ہوگئی ہے، جس وجہ سے یہ دونوں اب نہ تو ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور نہ ہی بات چیت کرتے ہیں۔
عرفان نہ کسی سے بات کرتا ہے۔ نہ ہنستا ۔نہ کھیلتا۔ بس گُم سُم رہتا۔
کوئی وجہ پوچھتا تو صرف اتنا کہتا کہ بس یوں ہی طبیعت خراب ہے۔
اِسی دوران تنویر نے بھی اسے مایوس دیکھ کر کہا بھئی! بات کیا ہے ؟ کیوں اس طرح رہ رہے ہو۔ کچھ تو کہو۔شاید میں تمہاری کوئی مدد کرسکوں۔
نہیں! کچھ نہیں! عرفان بولا۔۔۔
آج کل نجمہ سے ملتے جلتے نہیں دیکھا۔ 
خیر توہے۔ تنویر نے پوچھا۔۔۔
نہیں! بس یوں ہی ۔ عرفان بولا۔۔۔
پھر بھی؟کیاکوئی آپس میں جھگڑا ہوا؟ تنویر نے پھرپوچھا۔
یار! کیابتاؤں۔ وہ فون نہیں اٹھارہی ہے۔
میں نے کئی بار ملایا ۔ وہ بات ہی نہیں کرتی ہے۔
لو! میں بات کرواتا ہوں ۔ تنویر نے کہا۔ 
ہیلو نجمہ ۔ میں تنویر ہوں۔ تم عرفان سے بات کیوں نہیں کرتیں۔ میں تم کو پریشان دیکھتاہوں اورعرفان کو بھی۔
یہ لو! آپس میں بات کرو۔ ایک دوسرے کی سنو ۔غلط فہمیاں دورکرو۔
وہ دور کرے ۔۔ میں نے کیاغلط کیا ۔ نجمہ نے کہا دیکھو تنویر۔ میں نے اس کو فون ۔ مسیج کیا… سات بجے… میری سہیلیاں…… امرتسر … تاکید کی… اس نے Okکہا۔
… میں انتظار کرتی رہی مگر وہ نہ آیا ۔ میری بڑی بے عزتی ہوئی اور ان سہیلیوں کی بھی۔
وہ مایوس ہوکر چلی گئیں۔ نجمہ نے بولا۔
ٹھیک ہے ۔ تنویر نے کہا
مگر اب عرفان کی بھی سنو۔
عرفان بوالا ۔میں اپنا موبائل باتھ روم میں بھول گیا۔ وہاں دادو غسل کررہے تھے۔ جب آپ کا فون آیا۔ دادونے کاٹ دیا اورمیری طرف سے لکھا۔Ok۔
مگروہ مجھے کہنابھول گئے۔ کیونکہ ان کے پاس ان کے خیر خواہ کوئی بہت بڑے بزرگ اپنی اہلیہ کے ساتھ اُن سے ملنے آئے تھے۔ باتوں باتوں میں وہ مجھے آپ کے فون کے بارے کہنابھول گئے اور تو میسجز کے بارے بھی کچھ نہ کہا۔
جب تک کہ عشاء کا وقت آیا۔
بس پھر کیا تھا۔ تم ناراض ہوگئیں۔
تمہاری ناراضگی حق بجانب تھی۔
تم نے میری بات ہی نہ سنی۔
اب میری کیا غلطی ۔ غلطی دادو نے کی اور سزا مجھ کو مل رہی ہے۔
دادو بے چارہ خود پشیمان ہے ۔ 
اُن کو تو ہمارے میل ملاپ کی پوری خبر ہے ۔
بات یوں ہے کہ میرے دادو کی شادی اپنے والدین کی مرضی سے ہوئی تھی، انہوںنے اُن کے حکم کے آگے اپنا سر تسلیم خم کردیا، جس کاانجام بہت ہی خوش کن اورخوشگوار رہا۔ وہ اپنی ازدواجی زندگی  سے پوری طرح اس وقت تک مطمئن ہیں۔
ان کو کسی طرح کی کمی آج تک محسوس نہ ہوئی۔ 
ہاں اتنی بات ضرور وہ کہتے ہیں کہ شادی سے پہلے اپنی ہونے والی سے بات چیت کرنے ،ہنسی مذاق کرنے ، اکٹھے بیٹھ کرچائے پینے میں جو مزہ تھا ، اُس کی اُنہیں کمی محسوس ہوتی ہے،جس کاان کو افسوس ہے ۔ 
میرے دادو بڑے آزاد خیال ہیں اور سب سے زیادہ ان کو میرے ساتھ اُنس ہے۔ پیار ہے۔
وہ تو تم سے خودملنا چاہتے تھے ۔ ان کو بڑی تمناتھی۔
اس مقصد کے لئے میں موزوں موقع کی تاک میں تھا۔
میرے خیال میں اب تمہاری غلط فہمی دور ہوگئی ہوگی۔ میں پھر بھی معانی مانگنے کیلئے تیار ہوں۔
ایسا کرتے ہیں ہم کل ہی ویڈیو کال پر تمہاری سہیلیوں سے بات کریں گے ۔ میں ان سے بھی معافی مانگوں گا
اور اپنی پوزیشن صاف کروں گا۔
یہ سن کر نجمہ دزا سا مسکرائی جسے دیکھ کر میری جان میں جان آئی اور قدرے سکون حاصل ہوا۔
میں نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر اداکیا۔
دوسرے دن ویڈیو کانفرنس پر نجمہ کی سہیلیوں کے ساتھ مفصل  بات کی ۔ میں نے اپنی پوزیشن واضح کی۔ اپنے دادا کی بھول پر افسو س ظاہر کیا ۔ معافیاں مانگیں وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح نجمہ کا بوجھ ہلکا ہوا۔
ادھرعرفان نے نجمہ کوبتائے بغیر ہی داداکو ایک ہوٹل میں ایک خاص وقت پر آنے کے لئے تیاررکھاتھا۔
نجمہ اورعرفان ویڈیو کانفرنس کے بعد اب پُرسکون وڈ میں بیٹھے تھےکہ میں اچانک داخل ہوگیا، جیسے کہ مجھے کچھ خبر ہی نہیں۔ اپنی اس بے خبری کی بہت اچھی اداکاری کی۔ عرفان بھی شرمانے کی فلمی ایکٹنگ کرنے لگا اور اتنے میں عرفان نے میرانجمہ سے تعارف کرایا۔
نجمہ کا چہرہ سرخ گلاب کی طرح دمک اٹھا۔ اس کی زبان اور ہونٹ خشک ہوگئے۔ وہ اپنی زبان سے اپنے ہونٹ بار بار تر کرنے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔ بڑی مشکل سے وہ اسلام علیکم کہہ سکی۔
 پورے وقت اپنا سر جھکائے ہوئے خاموش بیٹھی رہی۔
بیٹی! اگر آپ کو میری وجہ سے  کچھ پریشانی محسوس ہورہی ہو تومیں چلاجاتا ہوں۔ ویسے کیاعرفان نے میرے یہاںآنے بارے آپ کو نہیں بتایا تھا، دادو نے کہا ۔ 
اس پر نجمہ نے عرفان کی طرف ترچھی نظر سے دیکھا۔
میںنے کچھ نہ کہتے ہوئے بھی بہت کچھ کہا۔
اگر عرفان میرے جگر کا ٹکڑا ہے تو آپ بھی کچھ کم نہیں ۔ اس میں مجھے کوئی شک نہیں۔ دادا نے دونوں سے مخاطب ہوکر کہا۔
مجھے عرفان کی پسند پسند ہے۔
اللہ آپ دونوں کو خوش رکھے ۔ 
میں دوبارہ کہوں گا کبھی بھی کوئی ایسی ویسی حرکت نہیں کرنا،جس سے آپ کے یا ہمارے خاندان والوں کا سر شرم سے جھک جائے ۔
میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔
یہ سن کر نجمہ اور زیادہ شرمائی ۔ دونوں بچوں کے ساتھ گلے ملا اوراس طرح یہ ناخوشگوار معاملہ خوشگوار موڑپر آکرختم ہوا۔
 
���
جموں
موبائل نمبر؛8825051001. 9906111091

تازہ ترین