کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

8 مئی 2020 (30 : 03 AM)   
(      )

مفتی نذیراحمد قاسمی

نماز کی ادائیگی کے دوران غلبۂ نسیان

رکعتوں اور ارکان نمازمیں کمی بیشی کے سہو کا شرعی حل

سوال : میرا اور میری طرح میرے ہم عمر بہت سارے معمر حضرات کا سوال یہ ہےکہ بڑھاپے میں جسمانی اور ذہنی قوتوں میں کمزوری کا سابقہ ایک فطری حقیقت ہے ۔اس لئے بڑھاپے میں ایک اہم مسئلہ یہ درپیش رہتا ہے کہ نسیان اور بھولنے کی وجہ سے پریشانیاں لاحق ہوتی ہیں۔مثلاً نماز میں یاد ہی نہیں رہتا کہ کتنی رکعتیں پڑھی اور کتنی باقی ہیں ۔رکوع، سجدہ کیا ہے یا چھوٹ گیا ہے۔قیام میںکیا پڑھا یا پڑھنا تھا مگر نہیں پڑھا ۔اس بھولنے کے باعث نمازوں میں بڑا خلجان رہتا ہے ۔اس بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔
ایک معمر و معزز شہری۔سرینگر
جواب  : نسیان اور بھولنے کا مرض ایک عمومی مرض ہے اور عمر بڑھنے کے ساتھ یہ بھی بڑھتا رہتا ہے۔چنانچہ بڑھاپے میں بھولنے کے نتیجے میں عجیب عجیب واقعات ہوتے ہیں ،حتیٰ کہ کبھی اپنا نام بھی بھول جاتا ہے اور اپنے بچوں کا نام یاد نہیں رہتا ، دوسروں سے پوچھنے کی ضرورت پڑتی ہے ۔بڑھاپے میں بھولنے کی وجہ سے یا جوانی میں اس مرض کی وجہ سے یا مرض نہ ہونے کے باوجود بھولنے سے بہت سارے دینی مسائل پیدا ہوتے ہیں اور اُن مسائل کے شرعی احکام دینی کتابوں میں تفصیلاً موجود ہوتے ہیں۔اُن میں سے نماز کے یہ مسائل بھی ہیں۔جو عام طور پر پیش آتے ہیں۔
یاد رہے نماز میں رکعت کم یا زیادہ ہونا کثرت سے پیش آتا ہے ،اسی لئے اللہ جل شانہٗ نے اپنی مصلحت و مشیت سے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد مرتبہ اس کا صدور کروایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے جماعت کی نماز میں رکعت کبھی کم پڑھادیں اور کبھی زیادہ(*) تاکہ اُمت کے لئے نمونہ رہے۔چنانچہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و اعمال جو اس کے بارے میں منقول ہوئے ہیں اُن کو سامنے رکھ کر فقہا ء کرام نے چند اصول و ضوابط مقرر کئے ہیں۔
جب کسی شخص کو بھول جائے کہ کتنی رکعت ہوئی ہیں ،مثلاً دو ہوئی یا تین ۔یا شک ہوجائے کہ ایک رکعت ہوئی یا دو۔تو یہ شخص غور و فکر کرے کہ رجحان کس طرف زیادہ ہے ۔مثلاً اس کو شک تھا کہ دو اور تین میں۔ تو اگر اس کو رجحان دو کی طرف زیادہ ہے تو یہ دو رکعت مان کر آگے کی نماز پڑھے اور اگر شک بھی تھا مگر رجحان تین کی طرف زیادہ تھا تو یہ تین رکعت مان لے اور اس طرح نماز مکمل کرے۔مگر اخیر میں سجدۂ سہو بھی کرے ۔یہ پہلا اصول ہوا ۔دوسرا اصول یہ ہے : اگر کسی کو شک ہوجائے کہ ایک رکعت ہوئی یا دویا یہ شک ہوجائے کہ دو ہوئی یا تین اور رجحان کسی بھی طرف نہیں بلکہ جن دو عددوں کے درمیان شک ہے ،دونوں کی طرف نصف نصف رجحان ہے تو ایسی صورت میں یہ کم والی مقدار مان کر نماز کی تکمیل کرے۔مثلاً اس کو شک تھا کہ ایک رکعت ہوئی یا دو ۔اور اس کو رجحان دونوں کی طرف مساوی درجہ کا ہے تو اس کے لئے حکم ہے کہ کم والی تعداد یعنی ایک رکعت مان کر نماز پوری کرے۔البتہ اس کو ہر رکعت کے ساتھ قعدہ کرنا ضروری ہے ۔پھر قعدہ پڑھ کر یعنی التحیات پڑھ کر پھر کھڑا ہو، جب آخری قعدہ ہو تو اُس میں سجدہ ٔ سہو بھی کرے،اس طرح نماز مکمل ہوگی ۔ایک دوسری مثال یہ ہے ۔کوئی شخص مثلاً چار رکعت نماز فرض یا سنت پڑھ رہا تھا ،اُس کو بھول گیا کہ کہ وہ دوسری رکعت میں ہے یا تیسری میںاور رجحان دونوں طرف برابر ہے، کسی ایک طرف ظن غالب نہیں تو یہ شخص دوسری رکعت تسلیم کرے ۔اب اس دوسری رکعت کے بعد قعدہ کرے پھر تیسری رکعت کے بعد بھی دوسرا قعدہ کرے پھر چوتھی رکعت کے قعدے میں سجدۂ سہو بھی کرے ۔اس طرح سجدۂ سہو کے بعد نماز مکمل ہوجائے گی ۔یعنی ہر ہر رکعت میں قعدہ اور اخیر میں سجدہ سہو کرے۔اگر نماز میں کسی رکن کے متعلق شک ہوجائے کہ ادا کیا ہے یا نہیں مثلاً یہ شک ہوجائے کہ رکوع کیا ہے یا نہیں یا سجدہ کیا ہے یا نہیں، تو اس نماز کا سلام پھیرنے سے پہلے پہلے اُس رکن کو ادا کرے ،مثلاً پہلی رکعت کے رکوع کے متعلق شک ہوجائے کہ رکوع کیا ہے یا نہیں تو دوسری رکعت میں دو رکوع کرے۔اسی طرح رکعت کے سجدے کے متعلق شک پڑجائے کہ سجدہ کیا ہے یا چھوٹ گیا تو دوسری رکعت میں ایک زاید سجدہ کرے ۔پھر آخیر میں سجدہ سہَو بھی کرے ،نماز مکمل ہوجائے ۔تیسرا اصول یہ ہے کہ اگر نماز میں کوئی واجب چھوٹ جائے ۔مثلاً نماز میں ضم سورہ بھول جائے یا وِتر کی نماز میں دعائے قنوت بھول جائے تواخیر میں وہ سجدہ سہَو کرے ،اس سے نماز مکمل ہوجائے گی۔اگر نماز میں کوئی سُنت بھول جائے تو صرف سنت کے بھول جانے سے ،چھوٹ جانے سے نماز میں کوئی ایسا نقص نہ ہوگا کہ سجدہ سہَو کرنا پڑےاور اگر سورہ فاتحہ یا ضم سورہ کی کسی آیت کے پڑھنے نہ پڑھنے میںشک ہوجائےتو اس سورہ کو دوبارہ پڑھے ۔اگر دوبارہ نہ پڑھے اور نمازپوری کرلی تو بھی سجدہ سہَو لازم نہ ہوگا ،یہ چوتھا اصول ہوا۔
(*)۔حدیث کی کتابوں میں یہ واقعات موجود ہیں۔
سوال : موجودہ لاک ڈاون کی صورت حال میں جیسے نمازوں کے متعلق مسائل پیدا ہوئے،اور اب اکثر لوگ گھروں میں ہی نمازیں ادا کررہے ہیں ،اسی طرح رمضان شریف کے آخری عشرے میں جو اعتکاف ہوتا ہے ،اُس کے متعلق بھی سوال ہے کہ وہ کیسے ہوگا ؟کیا گھروں میں مرد حضرات کا اعتکاف درست ہوسکتا ہے ۔اس اہم مسئلہ کے متعلق تفصیل سے جواب کے ساتھ ساتھ مرد اور خواتین کے اعتکاف کے متعلق ضروری مسائل سے بھی روشناس فرمائیں۔
سُہیل احمد ۔راول پورہ سرینگر

گھروں میں صرف خواتین کو اعتکاف کی اجازت

جواب : اعتکاف ایک اہم اور منفرد قسم کی عبادت ہے ۔اس اعتکاف کی فضیلت کے متعلق حدیث ہے ،حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اعتکاف کرنے والا گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اُسے اُن تمام نیک کاموں کا اجر ملتا ہے جو وہ اعتکاف کی بنا پر نہیں کرپائے گا (مشکوٰۃ)
ایک دوسری حدیث میں ہے :جو شخص اللہ کی رضا کے لئے ایک دن کا اعتکاف کرتا ہے ،اللہ تعالیٰ اُس کے اور جہنم کے درمیان تین ایسی خندقیں حائل کردیتا ہے جو دنیا سے زیادہ وسیع ہوں گی۔(الترغیب للمنذری)رمضان کے آخری عشرے کے اعتکا ف کے متعلق حدیث ہے ۔جس شخص نے رمضان المبارک کے دس دنوں کا اعتکاف کیا اُس کو دو حج اور دو عمروں کا ثواب ملے گا (الترغیب)
مردوں کے لئے یہ اعتکاف مسجد میں ہی ہوگا اور مسجد میں ہونا شرط ہے۔اس لئے مسجد کے بغیر مرد حضرات کسی گھر یا دکان یا غار یا صحرا میں اعتکاف نہیں کرسکتے ۔اگر مسجد کے بغیر کسی جگہ اعتکاف کیا تو وہ عبادت تو ہوگی اعتکاف نہ ہوگا ۔
موجودہ لاک ڈاون کی بندشوں کی وجہ سے نمازوں کے لئے جو حد بندی کردی گئی اور صرف چند ہی افراد مساجد میں نماز یں ادا کررہے ہیں ،اسی طرح اعتکاف کے لئے بھی حکم ہے کہ ہر مسجد میں کوئی ایک ایسا شخص اعتکاف کرے جو اس وائرس سے محفوظ ہو ۔مسجد میں اعتکاف کے دوران وہ تمام تدابیر اختیار کرے جو اس وباء سے بچنے کے لئے ضروری ہیں۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ جیسے نمازیں گھروں میں درست ہوجاتی ہیں اسی طرح اعتکاف بھی گھروں میں درست ہوجانا چاہئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ گھروں میںاعذار کی وجہ سے نمازیں پڑھنے کا ثبوت احادیث میں موجود ہے اور فقہائے کرام نے تفصیل سے وہ اعذار بیان فرمائے ہیں۔لیکن اعتکاف گھروں میں کیا جائے اس کاثبوت نہیں۔اگرثبوت ہے تو وہ خواتین کے لئے ہے ۔اگر کسی کے ذہن میں آئے کہ مسجد میں اعتکاف کی وجہ سے وائرس کا خطرہ ہوسکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسے چند حضرات مساجد میں نماز ادا کررہے ہیں اور جیسے گھروں میں لوگ اہل و عیال کے ساتھ رہتے ہیں اور جیسے دفاتر میں ،اسپتالوں میں ،پولیس کے مراکز میں اور بڑی بڑی دکانوں اور بنکوں میں لوگ احتیاط کے ساتھ جمع بھی ہوتے ہیں اور کام بھی کرتے ہیں،اسی طرح مساجد میں ایک دو آدمی اعتکاف کریں تو اس میں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے ،نہ اس میں وائرس کا خطرہ ہے ۔البتہ تمام احتیاطی تدابیر لازم ہیں۔معتکف فرد کے لئے کھانے کا انتظام کسی ایک گھر سے ہو اور تمام احتیاطوں کے ساتھ اُس کو سحری و افطاری پہونچائی جائے۔مساجد کو بار بار جراثیم کش ادویات سے سپرے کیا جائے اور وہی چند افراد جو نماز کے لئے آتے تھے وہی آئیں ۔اس طرح مساجد اذان ،جماعت اور اعتکاف سے آباد رہیں گی اور وباء سے محفوظ بھی۔اس لئے زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ مسجدوں کے امام یا مؤذن حضرات اعتکاف کریں ۔اس سے دو فائدے ہوں گے ۔ایک مسجد کی اذان یا امامت کا کام بھی ہوتا رہے گا اور اعتکاف کی سُنت بھی پورے محلے کی طرف سے ادا ہوگی۔اعتکاف کے مسائل سیکھ کر ،سُن کر اور یاد کرکے اعتکاف کیا جائے تاکہ یہ عمل درست ہو اور خوب دعائوں کا اہتمام کریں۔خواتین اپنے گھر کے کسی ایک کمرے میں اعتکا ف کرسکتی ہیں۔وہ کمرہ اُس کے لئے مسجد کے حکم میں ہوگا ۔اس طرح سے باہر کسی دوسرے کمرے یا کچن میں بلا ضرورت جانے سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا ۔خاتون جب اعتکاف کے لئے کسی ایک کمرے میں بیٹھ جائے تو وہاں ہی نماز پڑھے ،وہاں ہی آرام کرے اور اُسی کمرے میں اگر وہ کوئی گھر کا کام یا پڑھائی لکھائی کرے تو اُس کے لئے یہ جائز ہوگا ۔اگر دوران اعتکاف نسوانی عذر پیش آگیا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا ۔اعتکاف مرد کر ے یا عورت، دونوں دن رات کا ایک ضابطہ ٔ عمل بنالیں ،اُس میں نمازیں ،تلاوت ،نوافل ،تسبیحات اور آرام کا وقت مقرر کریں۔
 

تازہ ترین