رحمتِ کُل

تاریخ    3 مئی 2020 (00 : 01 AM)   


 تقاضائے دل ہے پھر نعمت کہئے

پئے نعت قرآن کی آیات کہئے
محمدؐؐ محمدؐ محمدؐ محمدؐ 
یہی دل کے تاروں پہ نغمات کہئے
ہے گیسوئے مشکیں کی توصیف کرنی
تو پھر لیلۃ القدر کی بات کہئے
سحر کا یہ آغاز، نورانی کرنیں
انہیں روئے زیبا کی برسات کہئے
حقیقت ہے سب میرے آقاؐ پہ روشن
بھلا تابہ کے غم کے حالات کہئے
درود اُنؐ پہ پیہم، سلام ان پہ پیہم
یہی قلبِ بیخود کی سوغات کہئے
غرض یہ کہ اُمت ہے بیحد پریشاں
کہاں تک سہیں اب یہ صدمات کہئے
ابھی تک سلامت ہے ایمان آقاؐ
یہ بس آپؐ ہی کی عنایات کہئے
ہے آثمؔ یہی رحمتِ ؐ کُل یقیناً
انہیںکے حضور اپنے حالات کہئے
 
بشیر آشمؔ
باغبان پورہ، لعل بازار سرینگر
موبائل نمبر؛9627860787
 
 

میرے نبی کے لئے

وجودِ عرض و سماں ہے میرے نبیؐ کے لئے
نظامِ کون و مکاں ہے میرے نبیؐ کیلئے
یہ وادیاں یہ فضائیں یہ راستے یہ چمن
مچلتا آبِ رواں ہے میرے نبیؐ کے لئے
اْسی کے صدقے میں ہم کوملے ہیں دونوں جہاں
مہکتا باغِ جِناں ہے میرے نبی?ؐکے لئے
درود بھیجتا ہے خود وہ لم یزل اْس پر
فرشتہ نامہ رَساں ہے میرے نبی?ؐکے لئے
قیامِ مسجدِ نبویؐ نزولِ نورِ قرآں
پیامِ رسمِ اذاں ہے میرے نبیؐ کے لئے
سنامِ کنبدِ خَضراءکے دلنشیں جلوے
درود وردِ زباں ہے میرے نبیؐ کے لئے
عطائے فہم و فراست ، شعور و دانائی
جہد کا جذبۂ جواں ہے میرے نبیؐ?کیلئے
لِکھوں نہ کیسے مَداحِ شہ طیبٰہؐ آفاقؐ
قلم کی تاب و تواں ہے میرے نبیؐ کے لئے
 
آفاقؔ دلنوی
دلنہ بارہمولہ کشمیر
موبائل نمبر؛7006087267
 
 
 

نظم

ہوا کیا ہے تمہیں ہمدم تمہاری آنکھ کیوں ہے نم
خدا پہ گر بھروسہ ہے نہ رکھنا دل میں کوئی غم
غموں کی بارشوں میں بھیگے ہو تو صبر بھی سیکھو
بدلنے کو ہے اے ہمدم غموں کا بھیگا یہ موسم
سحر ہوتی ہے ہر شب کی بھلے لمبی ہو وہ کتنی
شب ِظلمت کی طولانی پہ اتنا بھی نہ ہو برہم
جو کھویا ہے تو پچھتانے سے واپس مل نہیں سکتا
مقدر میں نہیں ہو جو تو اس کا کیا کریں ماتم
خدا کا آسرا جو ڈھونڈتے ہیں ہر مصیبت میں
انہی پہ تو برستی ہے خدا کی رحمتیں پیہم
بدلتے ہیں ہوا کا رْخ یقین جن کے دلوں میں ہو
وہی لڑتے ہیں طوفان سے جو رہتے ہیں تیار ہر دم
جھکے جو رب کے آگے سر اسے کس بات کا ہے ڈر
وہ سر غیروں کے آگے تو کبھی ہرگز نہ ہوگا خم
بدلتا ہے مقدر بھی ندامت کے ہی آنسو سے
ملی خِلعت خلافت کی بہت روئے ہیں جب آدمؑ
یہ دنیا دارِ فانی ہے حقیقت ہے پرے اس سے
چُھپا آنکھوں سے جو کچھ ہے حقیقت ہے وہی عالم
حِجازیؔ منتظر ہے جانے کب سے اْس مسیحا کا
جو آکے اس کے زخموں پہ محبت سے رکھے مرہم
 
وسیم حِجازیؔ
اگلر،پٹن موبائل نمبر؛9797068044
 
 

رمضان

ماہِ صیام پھر سے سایہ فگن ہوا ہے 
پر نور سارا گلشن سارا چمن ہوا ہے 
ہر سمت ہو گیا ہے رب کے کرم کا سایہ 
گنجینئہ خدا کو دامن میں ساتھ لایا 
روزے سے ہو گئے ہیں جتنے بھی ہیں مسلماں
لب پہ ہے ذکرِ یزداں بڑھنے لگا ہے ایماں 
قرآن کی تلاوت ہونے لگی گھروں میں
بڑھنے لگی حرارت ایمان کی رگوں میں
ہر آن ہو رہی ہے اَب رحمتوں کی بارش 
جس جا بھی دیکھو ہر سُو ہے برکتوں کی بارش
جی جس بشر کا چاہے رحمت سمیٹ لے وہ 
اپنے گھروں میں رب کی برکت سمیٹ لے وہ 
کرکے گنہ سے توبہ اَب مغفرت کرا لے 
خلدِ بریں کا خود کو حقدار اب بنا لے 
خود کو بَشر جہنم سے ہر طرح بچا لے 
ہرمعصیت کو رَب سے پھر معاف اب کرا لے 
ہر لمحہ رَب سے اپنے کرتا رہے دعائیں 
سر سے وہ دور کر دے دنیا کی سب بلائیں 
پھر کیا پتہ کہ پائیں ہم لوگ یہ مہینہ 
دامن میں آئو بھر لیں ہاتھ آئے جو خزینہ 
عادلؔ تو بھی غنیمت اس ماہ کو سمجھ لے 
ایسا نہ ہو کہ تم کو افسوس آگے آئے 
 
ڈاکٹر نصیر احمد عادلؔ
کمہرولی،کمتول، دربھنگہ، بہار 
موبائل نمبر؛9906397577
 

تازہ ترین