حقوق اللہ اور حقوق العباد

لاک ڈاؤن دونوں پر عمل کا بہترین موقعہ

1 مئی 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

صہیب قاسم ندوی
 عالمِ انسانیت آج بے قراری کے دور سے گزررہی ہے۔ لوگ سخت ترین حالات سے دوچار ہیں،بے بس اور لاچار ہوچکے ہیں۔ وبائی قہر نے دل مغموم اور رنجیدہ کردئیے ہیں۔زندگی کی گاڑی کا پہیہ جام ہوچکا ہے۔ سارا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے۔ کورونا وائرس نامی اس مہلک مرض نے بھائی کو بھائی سے اور ماں کو بیٹے سے دور کردیا ہے۔پوری دنیا جس تیز رفتاری سے زندگی کی بھاگ دوڑمیں آگے بڑھ رہی تھی اور پیچھے سارے حقوق جو خالق و مخلوق سے منسلک ہیں ،پامال ہو رہے تھے شائد اسی حق تلفی کا خمیازہ آج ہم بھگت رہے ہیں۔ موقع کو غنیمت جان کراب یہ عہد کرلیں کہ زندگی کے جو اصول و ضوابط حیاتِ مستعارکی طرف راہ نمائی کرتے ہے، اسی راہ پر گامزن ہوکر کامیابی و کامرانی حاصل کرنا ہے۔یقینا یہ فلاح و کامرانی صرف اور صرف دینِ اسلام میں ہی کامل و مکمل طور پر پائی جاسکتی ہے۔اسلامی تعلیمات کو ملحوظ رکھ کر ہمارے ایک دوسرے کے اوپر کیا کیا حقوق ہیں ان کی پاسداری کی جائے۔ 
حقوق اللہ:
 اللہ تعالیٰ کے احکامات جو اس نے اپنے بندوں پرفرض کئے ہیں درحقیقت یہ ایک رابطہ اور تعلق ہے جو مخلوق کو بار باراپنے خالق کے زیر سایہ آنے پر مجبورکردیتا ہے۔ جس نے طرح طرح کی نعمتوں سے اپنی مخلوق کو نوازا ہے، گمراہی سے نکال کر ہدایت کی طرف لے آیا،راہ ہدایت پر رہنے کے صلہ میں طرح طرح کی نعمتوں کی امید دلائی، اللہ تعالیٰ کے حقوق بندوں کے ذمہ یہ ہیں، ذات و صفات کے متعلق موافق قرآن و حدیث کے اپنا اعتقاد رکھے، عقائد، اعمال، معاملات اور اخلاق میں جو ان کی مرضی کے موافق ہو اختیار کرے اور جو ان کے نزدیک ناپسندیدہ ہو اس کو ترک کرے، اللہ تعالیٰ کی رضا و محبت کو سب کی رضا و محبت پر مقدم رکھے، جس سے محبت یا بغض رکھے یا کسی کے ساتھ احسان یا دریغ کرے سب اللہ تعالیٰ کے واسطے کرے۔وہ نماز، روزہ، حج،زکوۃ  اور حلال و حرام میں فرق کرے وغیرہ۔ حقیقت میں حقوق اللہ جو ہیں، وہ دراصل ہم لوگوں کے ہی حقوق النفس ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت اور شفقت ہے کہ اگر کوئی اپنے حق کوادا کرے، جیسے کوئی شخص نمازپڑھے اور روزہ رکھے،کیا تو اس نے اپنا کام لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنا بنالیاکیوں کہ روزہ نماز کو اللہ تعالیٰ نے اپنا حق قرار دیا ہے حالاں کہ حقیقت میں یہ سب ہمارے ہی حقوق ہیں کیوں کہ حق تو وہ ہے کہ اگر اس کو ادا نہ کیا جائے تو صاحب حق کا نقصان ہوجیسے کسی کے دس روپیہ ہمارے ذمہ ہیں اگر ہم نہ دیں تو اس کا نقصان ہے سو اگر ہم نماز روزہ نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کا کیا نقصان ہے، وہاں تو یہ کیفیت ہے ’’من کفر فعلیہ کفرہ‘‘اور یہ شان ہے کہ ’’ان تکفروا فان اللہ غنی عنکم ولا یرضی لعبادہ الکفر‘‘یعنی اگر تم کفر بھی کرو تو اللہ تعالیٰ تو پسند نہیں کرتا، لیکن اس کا نقصان بھی نہیں، تو اس واسطے جو حقوق اللہ ہیں وہ بھی ہمارے ہی حقوق ہیں اگر ہم نماز روزہ نہ کرے تو تو وہ ہمارا ہی نقصان ہے اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نہیں بگڑتا۔ ظاہر ہے جب یہ بات ہے تو اللہ تعالیٰ کی اس پر زیادہ نظرہے کہ کون ایسا ہے جواپنے حقوق کی زیادہ نگہداشت کرتا ہے اور کون ایسا ہے جو دوسروں کے حقوق کی رعایت کرتا ہے؟ بعض اعمال کو جو حقوق اللہ کہا گیا ہے اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ذاتی نفع کے کام ہیں، جن کو وہ اپنی کسی ضرورت سے تم سے لینا چاہتے ہیں بلکہ اس کی حقیقت وہی ہے جو طبیب اور مریض کی مثال میں ہے کہ بعض اوقات طبیب کی مریض سے خاص تعلق کی وجہ سے کہتا ہے کہ میرا کام سمجھ کر دوا پی لو، اسی طرح بعض اعمال کو حقوق اللہ کہہ دیا گیا ہے تاکہ ہم اللہ تعالیٰ ہی کا کام سمجھ کر ان کو کرلیں اوراس کی جزاکے مستحق ہوجائیں، اب لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کا کام کررہے ہیں۔رات کے تیسرے پہر میں اٹھ جاتے ہیں، تہجد اور نوافل کا اہتمام کرتے ہیں، فرائض کی سختی سے پابندی کرتے ہیں، ذکر و اذکار میں مشغول رہتے ہیں، حلال و حرام میں تمیز کرتے ہیں اور پھراپنے اوپر نازکرتے ہیں اوردل میں اپنے متعلق اپنی بڑائی کا خیال لاتے رہتے ہیں،کہ ہم عابد و زاہد ہیں اور اپنی بزرگی و بڑائی کے خود ہی معتمد ہوجاتے ہیں گویا اللہ تعالیٰ پر احسان رکھتے ہیں۔ان کم عقلوں اور نادانوں کو یہ معلوم نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کام کرتے ہیں یا اپنااور اس میں بزرگی و بڑائی دکھانے کی کیا بات ہے؟ اول تو یہ اللہ تعالیٰ کا کام نہیں تمہارا کام ہے، اگر ہو بھی تو تم نے کیا کیااللہ تعالیٰ ہی نے تو توفیق دی اور اسباب مہیا کئے، تب تم کام کر سکے۔لیکن خیالات الٹے ہوگئے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور اس پر ناز کرتے ہیں اس کے معنی یہ ہوئے کہ دوسرے کا کام ہے،جب ایسا مذاق خراب ہوگیا ہے تو عجب نہیں کہ دین کو بیکار اور اپنے ذمہ بار سمجھنے لگیں،پھر نتیجہ یہ ہوکہ ان تمام ثمرات سے جو اس پر موعود ہیں محروم رہیں، اسی محرومی سے بچانے کے لئے بعض اعمال کو حق اللہ کہہ دیا گیاہے کہ اپنا کام سمجھ کر نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ ہی کا کام سمجھ کر کرلو، یہ خلاف حقیقت ہے ۔الغرض ہمیں یہ معلوم چلا کہ حقوق اللہ فی نفسہ حقوق النفس ہی ہیں۔اس میں اپنے اندر بڑائی پیدا کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے احکامات کو مستحسن طریقے سے انجام دینے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ کل یوم آخرت پر ہمیں رسوا نہ ہونا پڑے۔
حقوق الناس:
 اس ضمن میں بہت سارے عنوانات قائم ہوسکتے ہیں ہم یہاں پر چند ایک اقسام کے حوالے سے بات کرینگے۔ پہلے یہ بات ذہن میں مستحضر کریں کہ حق الناس کے لفظ پر کوئی صاحب مغالطے کا شکار نہ ہوجائے کہ حق العبد اور چیزہے جو بندوں کی طرف منسوب ہے، اور حق اللہ اور چیز ہے جو حق تعالیٰ شانہ کی طرف منسوب ہے۔ حق اللہ توبہ کرنے سے معاف ہوجاتا ہے مگر حق العبد توبہ سے معاف نہیں ہوتا۔اگر ایسا ہوتا تو پھر کیا تھا بڑی سہولت ہوتی ۔کسی کا مال چھین لیا اور ہضم کرلیا، والدین کے ساتھ ناانصافی کی، رشتہ داروں کے ساتھ ناروا سلوک کیا،ہمسایوں کے ساتھ بدسلوکی کی،ہر ایک کے حقوق کو پامال کرکے اللہ کے حضور توبہ کرکے معاملہ سلجھا لیامگر ایسا نہیں ہے۔ حق العبد میں معاملہ ذرا پیچیدہ ہے۔ اس میں صاحب حق کے معاف کرنے کی ضرورت ہے اور پھر اللہ تعالی سے بھی توبہ و استغفار کرنا لازمی ہے یعنی صاحب حق جس کے اوپر ظلم کیا گیا ہے، جب تک وہ معاف نہ کرے تب تک مسئلہ معلق رہ جاتا ہے اور ظلم کرنے والا برابر گناہوں میں مبتلارہتا ہے۔یاد رکھئے تعلق مع اللہ ادائیگی حقوق العباد کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا، اگر ساری عمر ریاضت و مجاہدہ کرے گا ہرگز مقصود حقیقی تک رسانی نہ ہوگی۔مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے لکھا ہے خواص کے قلوب میں بھی ادائیگی حقوق العباد کی زیادہ فکر نہیں ہے۔ ایک کوتاہی جس میں عوام تو کیا خواص بھی مبتلا ہیں کہ اعمال واجبہ کی وہ عظمت اور وقعت قلوب میں نہیں جو غیر واجبہ کی ہے مثلا حقوق العباد وغیرہ کی فکر نہیں اور نوافل و وظائف کی کثرت کو زیادہ موجب قربِ حق اور اللہ تعالیٰ کی نزدیکی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور جو اصل مقصود تھا اسی کو حقیر سمجھا جاتا ہے، کتنا بڑا ظلم عظیم ہے۔(الافاضات الیومیہ،ج:۱،ص:۵۵)۔ بعض لوگوں کے اندر ایک غلط خیال یہ پایا جاتا ہے کہ وہ حق العبد کو صرف مال پر منحصر کرتے ہیں کہ چوری کرنا، غصب کرنا، قرض لے کر انکار کردینا، کسی کی امانت رکھ کر مکر جانا، بس یہ سب جرم ہے ان کے علاوہ حق العباد میں اور کوئی جرم نہیں، حالاں کہ ایک حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ حق العبد مال ہی میں منحصر نہیں بلکہ اور بھی حقوق ہیں اور وہ بھی حقوق مالیہ کے برابر بلکہ ان سے بھی معظم ہیں چنانچہ حج الوداع میں رسول اللہ ﷺ نے صحابہ ؓ سے دریافت فرمایا کہ یہ کون سا دن ہے؟ صحابہ ؓ نے ادب کی وجہ سے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں، فرمایا، کیا یہ عرفہ کا دن نہیں؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا بے شک یہ عرفہ کا دن ہے۔ پھر پوچھا یہ کون سا مہینہ ہے؟صحابہ ؓ نے ادب سے وہی جواب دیا، اللہ اور اس کے رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں، آپﷺ نے فرمایا، کیا یہ حج کا مہینہ نہیں ہے؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا بیشک یہ حج کا مہینہ ہے، پھر پوچھا یہ کون سا شہر ہے؟ اس پر بھی صحابہ ؓ نے ادب سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی کہا۔ آپ نے فرمایاکیا یہ بلد حرام نہیں ہے؟ صحابہؓ نے عرض کیا بے شک یہ بلد حرام ہے اس تمہید کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: سن لو! تمہارے اموال اور جانیں اور آبروئیں آج سے قیامت تک ویسی ہی حرام ہیں جیسے اس یوم معظم، شہر معظم اور بلد معظم میں حرام ہیں ہمیشہ کیلئے ان کی حرمت ویسی ہی ہے جیسی آج ہے۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا جناب رسول اللہ ﷺ نے کہ کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ حضرات صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ مفلس ہم میں سے وہ شخص ہے جس کے پاس نہ درہم ہے نہ مال و اسباب، پس ارشاد فرمایاجناب رسول اللہ ﷺ نے میری امت میں حقیقت میں مفلس وہ شخص ہے کہ قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ مقبول نمازیں، روزے، زکوۃ اور دیگر عبادتیں اس کے پاس ہوں گی اور وہ اس حال میں آئے گا کہ کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھا گیا ہوگااور کسی کو ناحق قتل کیا، اور کسی کو ناحق مارا، پس مظلوم صاحب حق کو اس کی نیکیوں کا ثواب دیا جائے گا اور اس کی تمام نیکیاں ختم ہوگئیں اور ابھی اہل حقوق کے حقوق اس کے ذمہ رہے تو ان اہل حقوق کے گناہ اس پر ڈال دئے جائیں گے پھر اس شخص کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ اللھم احفظنا منہ
اس کے علاوہ اولاد اور والدین کے حقوق بھی وضع ہیںجبکہ رشتہ داروں کے حقوق بھی ہیں۔ اسی طرح باقی قرابتداروں کے بھی حقوق ہیں، ان کا بھی خیال کرنا ضروری ہے، اگر ان میں کوئی محتاج اور ضرورت مند ہے اور کھانے کمانے کی کوئی قدرت نہ رکھتا ہو تو بقدر کفالت ان کے نان نفقہ کی خبر گیری مثل اولاد کے واجب ہے،کبھی کسی مسئلہ کی وجہ سے کوئی ان بن ہواور کسی قدر ان سے ایذا بھی پہنچے تو صبر کرے کیوں کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے تو قطع تعلق نہ کرے اس کی سخت وعید آئی ہے، گاہے بگاہے ان سے ملتا رہے اور ان کی خبر معلوم کرتا رہے۔ میاں بیوں کے حقوق بھی ہیں۔ عالم انسانیت سراپا حقوق پر مشتمل ہیں،کوئی جز حقوق سے خالی نہیں، اس میں میاں بیوی کے حقوق بڑی اہمیت کے حامل ہیں، خاص کر آج کے ان آزمائش کے ایام میں جہاں پوری انسانیت قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا ہیں حقوق انسانی کا بڑا لحاظ کر کے اور بڑے صبر و تحمل کے ساتھ ان کی عمل آوری بجالانا بڑی فضیلت کا کام ہے۔
 محتاجوں کے حقوق: 
آج کل جو حالات ہمارے اوپر مسلط ہوگئے ہیں جس کی وجہ کورونا نامی یہ وبائی مرض ہے جس نے سب کو رلادیا ہے، لوگوں کو گھروں کے اندر محصور کر دیا ہے جو انسانی جانوں کو بچانے کے لئے ماہرین کی طرف سے جاری کیا گیا ایک لائحہ عمل ہے، کیوں کہ یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہو جاتا ہے اور اس کی موت کا باعث بن سکتا ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے لاک ڈاون کیا گیا جس کی وجہ وائرس کا پھیلاو ہے خوش آئند قدم ہے لیکن اچانک کے اس لاک ڈاون سے غریب طبقہ پریشانیوں سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں ہمیں اس طبقہ پر شفقت اور فراخ دلی سے مدد کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے متعدد بار ان کے متعلق قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے قرآن کریم کی سورۃالروم،آیت نمبر ۳۸ میں فرماتے ہیں پس اے مسلمان انفاق فی الخیر میں بخل مت کیا کرو، بلکہ قرابت دار کو اس کا حق دیا کرو اور اسی طرح مسکین اور مسافر کو بھی ان کے حقوق دیا کرو  یہ ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو اللہ کی رضا کے طالب ہیں اور ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
دوسری جگہ سورۃ بقرۃ،آیت نمبر ۱۷۷  پر فرماتے ہیں نیکی بس یہی تو نہیں ہے کہ اپنے چہرے مشرق یا مغرب کی طرف کرلو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ اللہ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر اور اللہ کی کتابوں اور اس کے نبیوں پر ایمان لائیں، اور اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سائلوں کو دیں، اور غلاموں کو آزاد کرانے میں خرچ کریں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، اور جب کوئی عہد کرلیں تو اپنے عہد کو پورا کرنے کے عادی ہوں، اور تنگی اور تکلیف میں نیز جنگ کے وقت صبر و استقلال کے خوگر ہوں۔ ایسے لوگ ہیں جو سچے (کہلانے کے مستحق) ہیں، اور یہی لوگ ہیں جو متقی ہیں۔
 الغرض اس وقت جتنی بھی رفاہی تنظیمیں میدان عمل میں کام کر رہی ہیں ہمیں چاہئے کہ ان کی بھر پور مدد کی جائے تاکہ ضرورت مندوں کی ضروریات پوری ہوسکے اور ہمیں ان سب کا شکریہ ادا کرنا چاہئے جو سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر اس خوف کے ماحول میں بھی اپنی زندگی کو  دائو پر لگا کر کارہائے نمایا انجام دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان ہی برکت سے اور ان کے اسی عمل کو مد نظر رکھتے ہوئے عالم انسانیت کو اس آزمائش اور امتحان کے دور سے نجات کا باعث بنائے اور پھر ہمیں راہ حق پر اور صراط مستقیم پر چلنے اوراس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عنایت فرمائیں۔آمین
رابطہ : الٰہی باغ سرینگر، شعبہ عربی، یونیورسٹی آف کشمیر
 suhaibqasim2009@gmail.com
9469033846
 

تازہ ترین