افسانچے

26 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

نثار احمد

پرندے آزاد ہیں 

 "اپنے اپنے گھروں میں بیٹھیں باہر نکلنا منع ہے۔" پولیس کی یہ اطلاع علی الصبح جب راشد نے سنی تو اپنے بابا سے کہنے لگا۔" بابا آج کیا ہوا ہے، باہر نکلنا کیوں منع ہے؟"
بابا نے ایک سرد آہ بھر کر بولا- "بیٹا سردیوں میں باہر کی ہوا۔۔۔۔۔۔۔ کچھ ٹھیک نہیں ہوتی۔" بابا کی بات سن کرراشدکچھ حیران سا ہو گیا۔اور اپنے بابا سے کہنے لگا "دادا اور دادی کہہ رہے ہیں کہ پوری دنیا پر خدا کا عذاب نازل ہوا اور اس عذاب میں تمام انسان قید ہیں اور پرندے آزاد۔۔۔۔۔۔۔"
 

نم آنکھیں

"اسکول بند ہے لیکن امجد میاں کل سے آپ کے گوگل کلاسز ہوں گے"۔ 
"گوگل کلاسز سر ؟ " امجد متعجب ہو کر اپنے استاد کی طرف دیکھنے لگا۔
"ہاں"گوگل کلاسز بیٹا،،
امجد نے جب اپنے استاد سے یہ الفاظ سنے تُو وہ افسردہ ہو گیا کیونکہ اس کے پاس موبائیل فون،جس سے وہ گھر پر ہی کلاسز لے سکتا تھا، نہیں تھا۔ امجد اپنے گھر چلا گیا اور اپنے بابا سے کہنے لگا ،
"بابا کل سے ہمارے گوگل کلاسز شروع ہونے والے ہیں لیکن میرے پاس موبائیل فون نہیں ہے۔ میں فون کے بغیر کیسے کلاسز لے سکتا ہوں۔ 
یہ سن کر امجد کے والد بھی بہت اداس ہوگیے۔اس کی نم آنکھیں کچھ دیر کے لئے جھک گئیں۔ چند لمحے کے بعد جھکی ہوئیں آنکھیں اٹھاتے ہوئے وہ اپنے بیٹے سے کہنے لگا۔
"بیٹا میں کچھ دنوں سے کام پر بھی نہیں گیا۔ اب میرے پاس بہت کم پیسے ہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ اب میں آپ کے لئے موبائیل لاوں یا آپ کی امی کے لئے ضروری دوائی۔۔۔۔۔"
اپنی امی اور ابا کی بے قراری کو دیکھ کر امجد کی معصوم آنکھیں بھی نم ہو کر جھک گئیں۔
 
 
 نوگام سمبل سوناواری بانڈی پورہ 
موبائل نمبر؛7889617356
 

 

تازہ ترین