لاک ڈائون کا 30واں دن | آمد و رفت میں بتدریج اضافہ

تاریخ    21 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//حکومت کی جانب سے صوبائی سطح پر قائم کیا گیا کووڈ 19 کنٹرول روم اپنے فرایض احسن طریقے پر انجام دے رہا ہے اور اس کنٹرول روم کے ذریعے مشتبہ مریضوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے ۔ کووڈ 19 کے خلاف جنگ کے او ایس ڈی ڈاکٹر اویس احمد نے کہا کہ کووڈ 19 کنٹرول روم دن رات کام کر رہا ہے اور اس کنٹرول روم میں مختلف محکموں کے ماہرین اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ ڈاکٹر اویس نے مزید کہا کہ دن رات کام کرنے والے اس کنٹرول روم کے ذریعے لوگوں کے مختلف سوالات کے جوابات دئیے جاتے ہیں اور اُن کی کونسلنگ بھی کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کنٹرول روم کو تعاون دینے کیلئے لوگوں کا شکریہ ادا کیا ۔ دن رات کام کرنے والے کال سنٹر کو انچارج ڈاکٹر جہاںزیب نے کہا کہ اس مرکز میں چار ٹیلی فون نمبرات 01942457313,01942452052, 01942440283 اور 01942457312 کے علاوہ واٹس اپ نمبر 6006454084 کام کر رہے ہیں اور عملے میں 12 ڈاکٹروں پر مشتمل ایک ٹیم بھی تعینات کی گئی ہے ۔ ڈاکٹر ریحانہ کوثر کی سربراہی میں یہ ٹیم اُن افراد کی نشاندہی کرتی ہے جو کورونا وائیرس سے متاثرہ مریضوں کے رابطے میں آئے ہوں ۔ ڈاکٹر طلعت زبین کی سربراہی میں ایک اور ٹیم مشتبہ مریضوں کی ٹیسٹنگ کے عمل کا جائیزہ لیتی ہے ۔ ڈاکٹر طلت جبین نے کہا ہے کہ سیمپل جمع کرنے اور ٹیسٹ کرنے کے عمل کو بڑھایا گیا ہے اور بلاک سطح کی 58 ٹیموں کو ضروری تربیت دی گئی ہے ۔ ڈاکٹر اویس احمد نے کہا ہے کہ ریڈ زونز میں نگرانی کو ترجیح دی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دیہی سطح پر بھی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو گھر گھر جا کر لوگوں کی صحت کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کے علاوہ لوگوں کو کووڈ 19 کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں ۔ 
 

ازخودکوئی نرمی یارعایت نہیں 

وزارت داخلہ کاریاستوں اور یونین ٹریٹریز کومکتوب روانہ

نیوز ڈیسک
 
نئی دہلی //مرکزی حکومت نے تمام ریاستوں اور یوین ٹریٹریز کو مکتوب روانہ کئے ہیں جن میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کیلئے ملک گیر سطح پر لاک ڈائون اقدامات پر سختی کیساتھ عملدر آمد کر کے ان میںکسی بھی صورت میں نرمی نہ لائیں۔مرکزی وزارت داخلہ سیکریٹری اجے بھلہ نے سبھی ریاستوں اور یونین ٹریٹریز کے چیف سیکریٹریوں اور انتظامیہ کو روانہ کئے گئے خط میں کہا ہے کہ کچھ  ریاستیں اور مرکزی زیر انتظام والے علاقے سرگرمیوں کو بحال کرنے کے احکامات جاری کررہے ہیں،جن کو آفات سماویٰ قانون مجریہ2005 کے تحت مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری رہنما خطوط کے تحت اجازت نہیں دی جاسکتی۔مکتوب میں کہا گیا ہے’’ میں ایک بار بھر آپ پر زور دیتا ہوں کہ نظر ثانی شدہ رہنما خطوط کی تعمیل کریں اور تمام متعلقہ حکام کو ہدایت دی جائے کہ بغیر کسی نرمی کے ان کو من و عن سختی کے ساتھ عملائے،تاکہ مکمل لاک ڈائون کے اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے‘‘۔ مرکزی وزراء،محکموں،ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام والے علاقوں کیلئے مشروط نظر ثانی شدہ رہنما خطوط کو وزیر اعظم ہند نریندر مودی کی طرف سے15اپریل کو دوسرے لاک ڈائون کے اعلان کے بعد جاری کیا گیا تھا۔مرکزی حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ کو ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام خطے مرکزی ہدایات کو کمزور نہیں کر سکتے نہ اپنے حساب سے سرگرمیوں کی اجازت دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ کچھ ریاستوں نے خود سے معاشی سرگرمیوں کی اپنی فہرست بنائی اور کووڈ19  لاک ڈاون پابندیوں میں چھوٹ کا اعلان کیا ہے۔مرکزی داخلہ سکریٹری نے اس سلسلہ میں سپریم کورٹ کی طرف سے پچھلے مہینے جاری کردہ احکامات کا بھی ذکر کیا۔ وزارت داخلہ نے کہا’’ یہ نوٹس میں آیا ہے کہ کچھ ریاستیں، مرکز کے زیر انتظام خطے احکامات جاری کر کے ان سرگرمیوں کی بھی اجازت دے رہے ہیں جو ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ  2005 کے تحت جاری کردہ رہنما خطوط میں شامل نہیں ہیں۔ ایسا کر کے وہ سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی بھی کر رہے ہیں‘۔
 

امتناعی احکامات کی خلاف ورزی

۔93گرفتار،15گاڑیاں ضبط

سرینگر/بلال فرقانی/ امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں93افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ15گاڑیاں بھی ضبط کی گئیں۔ نامہ نگار اشرف چراغ کے مطابق پولیس اسٹیشن ہنڈوارہ کے حدود میں آنے والے علاقوں میں پولیس نے47افراد کی گرفتاری عمل میں لائی اور ایک گاڑی ضبط کی۔ پولیس سٹیشن قلم آباد کے حدود میں آنے والے علاقوں میں9افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ پولیس تھانہ ویلگام کے حدود میں آنے والے علاقوں میں21افراد کی گرفتاری عمل میں لاکر5گاڑیوں کو ضبط کیا گیا۔پولیس اسٹیشن کرالہ گنڈ کے حدود میں آنے والے علاقوں میں 16افراد کو حراست میں لیا گیا،جبکہ4گاڑیوں کو ضبط کیا گیا۔ نامہ نگار عارف بلوچ کے مطابق  جنوبی ضلع اننت ناگ کے ڈورو علاقے میںپولیس نے حکم امتناعی کی خلاف ورزی کی پاداش میں پیر کو5گاڑیاں ضبط کی۔
 

تازہ ترین