افسانچے

19 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

ایف آزاد دلنوی

آخری کوشش‘

 
ویران سڑکیں ‘دم توڑتی ہوئی زندگی۔ایک دہائی۔۔۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔ ایک دہائی سے وہ محبت کے بندھن میںبندھے ہوئے تھے ۔لاک ڈاون کے باوجود بھی وہ ملنے اور ایک ہوجانے کی کوشش کررہے تھے ۔ایک آخری کوشش۔۔۔۔۔!
دور دورکھڑے محافظوں کی نظر سے بچتے بچاتے ہوئے وہ پارک میں پہنچ گئے۔
’’جان اب تو سارے رشتہ دارہماری محبت کے دشمن ہوچکے ہیں یہ ہمیں ملنے نہیں دینگے‘‘
پائل نے چندر کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔’’دنیا بہ امید قائم ہے کوئی راستہ نکل آئے گا۔‘‘
’’جان میں تمہارے  بغیر زندہ نہیںرہ سکتا ۔میں اب کوئی بھی رسک لینے کے لئے تیار ہوں ۔‘‘
’’چندر اب کے ہمیں کوئی جدا نہیں کرسکتا ہے۔‘‘
اتنے میںپائل کی نظر اپنے بھائیوں پر پڑی جو ہاتھوں میں بندوق لہراتے ہوئے ان کی طرف آرہے تھے۔
’’بھاگ  جائو ۔۔۔چندر۔‘‘پائل نے آواز دی
دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے ہوئے اسپتال کی طرف دوڑ پڑے۔
’’رک  جائو ۔۔۔ہم گولی چلا دیں گے۔‘‘بھائیوں نے مل کر آواز دی۔
وہ دونوں دوڑتے دوڑتے اسپتال کے بالکل قریب پہنچ کر رک گئے۔پائل نے پیچھے مڑ کر بھائیوں کو بلایا۔تھوڑا آگے بڑھ کر بھائیو ں کے قدم خود بہ خود رک گئے۔کوارٹر پر لگے سائن بورڈ پر بڑے حروف میں لکھا تھا۔
’کورنٹین سنٹر ‘
 
 
 
 

کیا کہوں

 
حشمت علی بستر پر غالباََآخری سانسیں لے رہے تھے حلقے میں بیٹھیں عورتیںسسکیاں بھر بھر کررو رہیں تھیں کچھ ہاتھ مل رہیں تھیں۔انتظار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!موت کا 
اتنے میں بیٹے نے رسائل و جرائداور کتب سے بھرا ہوا ایک بیگ لا کر طاق کے پاس رکھ دیااوراس رکھی کتابوں کوطاق پر قرینے سے رکھنے لگا۔طاق کے فریم کو کپڑے سے صاف کردیا۔کرسیاں لگوا ئیں۔پھر عورتوں سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا۔
’’آپ ذرا سائیڈ میںہو کر تہذیب سے بیٹھ جائیں ۔‘‘
سارے کمرے کا بغور جائزہ لے کرآخر وہ باپ کے قریب جا کر بیٹھ گیا ۔لحاف کو کھینچ کر اوپر سے نیچے تک سیدھا کرکے آواز دی۔
’’ میرا مو بائل  لے آئو ۔با با کا فوٹو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا ہے ‘‘
 یہ سنتے ہی حشمت علی کی جان میں جان آگئی۔وہ اپنی ڈھیلی ڈالی گردن میں حرارت پیدا کر تے ہوئے بولے۔
’’تھوڑا صبر کرو ۔۔بیٹے ۔میں ذرا اپنی داڑھی میں کنگھی تو کر لوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! 
 
دلنہ بارہمولہ
موبائل نمبر:-9906484847
 

 

تازہ ترین