جہلم۔ توی فلڈ ریکوری پروجیکٹ کی تکمیل کیلئے جون2020مقرر

سی ای او ایرا نے عالمی بینک کے معاونت والے جے ٹی ایف آر پی کا جائزہ لیا

تاریخ    18 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   


جموں//اکنامک ری کنسٹرکشن ایجنسی ( ای آر اے ) جہلم اور توی دریائوں کے جامع پیشگوئی نظام کے پروجیکٹ پر کام کر رہی ہے تاکہ ان دو دریائوں کی رور مارفولوجی کا ڈیٹا بیس تیار کیا جاسکے۔یہ پروجیکٹ 250ملین ڈالر عالمی بینک امداد والے جہلم۔ توی فلڈ ریکوری پروجیکٹ کا ایک حصہ ہے جس کو 2014ء کے تباہ کن سیلاب کے بعد جموںوکشمیر میں شروع کیا گیا ۔ اِس سلسلے میں’ ارا‘ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر سید عابد رشید شاہ نے دُنیا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والی کنسلٹنسیز کے تین لیڈروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ۔ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقدہ اس میٹنگ میں عالمی امداد والے اس پروجیکٹ کی جموںوکشمیر میں عمل آوری کا جائزہ لیا گیا۔تبادلہ خیال کے دوران آر ایم ایس آئی کے ٹیم لیڈر نے سی ای او کو بتایا کہ اس پروجیکٹ کا بنیادی مقصد ہمہ جہتی آفات کے نقصانات کو کم کرنا ہے ۔پروجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ڈاکٹر عابد رشید نے آر ایم ایس آئی کو یہ پروجیکٹ جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی جس کے لئے اُنہوں نے جون 2020ء کی ڈیڈ لائین مقرر کی ۔ انہوں نے کہاکہ اب جب کہ موسم سرما گزر چکا ہے ،پروجیکٹ کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جانا چاہیے ۔ایپٹیسا سروسز پرائیویٹ لمٹیڈ کے ٹیم لیڈر ڈیوڈ سارجنٹ نے جہلم رور مارفولوجی کے بارے میں جانکاری دی ۔اُنہوں نے آسٹریلیا سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے تبادلہ خیال کی اس نشست میں حصہ لیا۔ڈاکٹر عابد نے اُنہیں عبوری پروجیکٹ رپورٹ مئی 2020ء تک پیش کرنے کے لئے کہا تاکہ اس کا مزید جائزہ لیاجاسکے۔ڈاکٹر عابد رشید نے دیگر کمپنیوں اور کنسلٹنسیز کے نمائندوں کے ساتھ پروجیکٹ کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2014ء کے سیلاب کے بعد جموںوکشمیر حکومت نے خزانہ کی مرکزی وزارت کے اقتصادیات معاملات کے شعبے کی وساطت سے بنیادی ڈھانچے اورسڑکوں کی تعمیر و تجدید کے لئے 250ملین ڈالر کا قرضہ حاصل کیا ہے۔جموںوکشمیر کی ڈیزاسٹر منیجمنٹ شعبے کو مزید مستحکم کرنا اس پروجیکٹ کا ایک اہم حصہ ہے ۔اس سے قبل ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ کاڈی نیشن افتخار احمد حکیم نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو ایچ ایم اے پی کے ہائیڈو میٹرولوجیکل ایکشن پلان کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی جس کو پہلے ہی عالمی بینک پیش کیا گیا ہے۔کشمیر صوبے کے اعلیٰ افسروں اور انجینئروں نے بھی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اِس میٹنگ میں شرکت کی۔

تازہ ترین