تاریخِ اسلام میں خواتین کا نمایاں کردار

ہر دور میں دین کی خدمت کی اور علم کو فروغ دیا

16 اپریل 2020 (00 : 12 AM)   
(      )

تہمینہ سہیل
اسلام نے علم کی حوصلہ افزائی اور جہالت کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ طلب علم کے معاملے میں اسلام مرد وعورت کے بیچ کوئی تفریق نہیں کرتا۔جہاں ایک طرف اسلام مردوں کو طلب علم کی ترغیب دیتا ہے وہیں عورتوں کو بھی طلب علم پر ابھارتا ہے، تاکہ مرد اورعورت دونوں زندگی کی تاریک راہوں میں علم کے قندیل سے راستہ پا سکیں۔ تاریخ کے ہر دور میں مردوں کے شانہ بشانہ دختران اسلام نے بھی دین کی خدمت کی اور علم کے فروغ میں نمایاں رول ادا کیا۔ تاریخ میں ایسی ایسی مفسرات ،ادیبات ،شاعرات، عالمات،وفاضلات پیدا ہوئیں جن کے علم ومرتبہ تک کتنے علماء بھی نہ پہنچ سکے، یہی وجہ ہے کہ اساطین علم و ادب نے ان معلمات کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ ذیل کے سطور میں ہم بطور نمونہ چند فاضلات کا تذکرہ کر رہے ہیں۔
٭امام محمدبن شہاب الزہری ؓ نے عمر بنت عبدالرحمان بن سعد، فاطمہ الخزاعیہ، ہند بنت الحارث الفارسیہ ام عبداللہ الروسی سے کسب فیض کیا۔
 ٭امام مالک بن انس ؓ نے عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص سے استفادہ کیا۔ امام احمد بن حنبل ؒنے ام عمر بنت حسان بن زہد الثقفی سے استفادہ کیا۔
 ٭قاضی ابو یعلیؒ نے ام ا لاسلام بنت ابی بکر احمد بن کامل البغدادیؒ سے استفادہ کیا۔ابو سعد السمعانیؒ نے 69 محد ثات سے فیض حاصل کیا۔
 ٭ابن عساکر ؒنے تقریبا 83 محدثات سے استفادہ کیا اور ان کی سیرت پر باضابطہ ایک رسالہ لکھا۔الحافظ ابو الطاہر ؒ نے تقریبا دس محد ثات سے روایت کیا۔ 
٭امام ابن جوزی ؒ نے تین محدثات سے اخذ کیا، اسی طرح امام ذہبیؒ نے بھی بعض محدثات سے استفادہ کیا۔ 
٭امام ابن قیمؒ نے عائشہ بنت محمد بن الشیخ ابراہیم سے صحیح بخاری اخذ کیا۔
 ٭امام ابن حجرؒ صاحب نے بلوغ المرام نے بیس عورتوں سے سماع کیا اور سب سے زیا دہ اپنی بہن ست الرکب سے استفادہ کیا۔
 ٭امام ابن عساکر ؒ نے الموطا للاما م مالک زینب بنت عبدالرحمن سے پڑھا اور امام سیوطیؒ نے الرسال الامام الشافعی ہاجرہ بنت محمد المحدثہ سے پڑھا۔
٭ام محمد سیدہ بنت موسی بن عثمان الما ارانی المصریؒ ایسی عالمہ اورفاضلہ تھیں کہ ان سے پڑھنے کے لیے امام ذہبیؒ مصر آتے ہیں، لیکن آنے پر پتہ چلا کہ وہ دس دن قبل ہی فوت پاگئیں چنانچہ اس واقعہ پربہت افسوس ظاہر کیا۔
٭کریمہ بنت احمد بن محمد بن حاتم المروزیؒ ایسی جلیل القدر عالمہ تھیں کہ ان کے درس میں خطیب بغدادی، محمدبن نضیرالحمیدی، السمعانی جیسے چوٹی کے علماء  بیٹھتے تھے۔بلکہ ہرا کے محدث ابوذر ؒ اپنے شاگرد وں کووصیت کیا کرتے تھے کہ صحیح بخاری کا درس سیدہ کریمہ کے علاوہ کسی دوسرے سے نہ لیں۔پانچویں صدی میں جو فاضلات صحیح بخاری کا درس دینے میں مشہورہوئیں ان میں سیدہ کریمہ سر فہرست ہیں، ان کے علاوہ بھی بہت ساری فاضلات ہیں، جو صحیح بخاری کا درس دینے میں مشہور ہوئیں، ان میں فاطمہ بنت محمدجنہیں مؤرخین نے مسند اصفہان کے لقب سے ملقب کیا ہے۔شہد بنت احمد جنہیں مورخین نے فخرالنسا ء  کے لقب سے ملقب کیاہے۔زیب بنت عبدالرحمن۔ ست الوزراء بنت عمر ابن العماد نے شذرات الذھب میں ان کے بارے میں کہا ہے: مسند الوقت۔ امام ذھبی نے ان کے سامنے زانوئے تلمذتہہ کیا اور کہا : میں نے ان سے صحیح بخاری اور مسند شافعی پڑھا۔ اسی طرح زینب بنت المظفرہیں جو خاتمہ محد ثات الحجاز کے نام سے جانی جاتی تھیں۔ ام الخیر فاطمہ بنت علی نے صحیح مسلم بن الحجاج کا درس دیا ، زینب بنت مکی الخزاعی ؒنے مسند امام احمد بن حنبل کا درس دیا ، زینب بنت الکمال نے مسند امام ابی حنیفہ ، الشمائل للترمذی ،شرح معانی الآثارللطحاوی کا درس دیا۔یہ ام العز بنت محمد بن علی بن ابی غالب العبد ری ہیں جو قر ٔت سبعہ (سات مشہور قرأ ت )کی جانکارتھیں اورصحیح بخاری اپنے باپ کے پا س دو مرتبہ ختم کیا۔زینب بنت محمد بن محمد بن احمد الشافعی کے بارے میں بعض مورخین نے لکھاہے: ’’یہ قریش بنت عبدالقادر البطریؒ المکیہ ہیں جنکے پاس ان کے گھرمیں حدیث کی کتابیں پڑھی جاتی تھیں۔‘‘
٭دختر سعید بن مسیب:یہ جلیل القدر تابعی امام سعید بن مسیب کی دختر اختر نیک ہیں جن کے علم کی مدینہ میں شہرت تھی، اسی وجہ سے بادشاہ وقت عبدالملک بن مروان نے اپنے بیٹے ولید سے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن سعید بن مسیب نے شادی کرنے سے انکار کردیا جس کی وجہ سے عبدالملک بن مروان نے ان پر زیادتی بھی کی۔ اور ایک نہایت غریب لڑکے سے اس کی شادی کردی ، جس کا قصہ یہ ہے کہ عبداللہ بن وداعہ نام کا ایک طالب علم امام سعید بن مسیب ؒکے درس میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ چند روز غائب رہا،پھر ایک دن جب سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے درس میں حاضر ہوا تو انہوں نے غائب ہونے کی وجہ دریافت کی ، اس نے کہا کہ میری اہلیہ کا انتقال ہوگیا تھا جس کے باعث میں چند دنوں حاضر نہ ہو سکا، امام سعید بن مسیب نے اس سے تنہائی میں دریافت کیا کہ کیا تم نے دوسری شادی کرلی۔اس نے کہا : مجھ غریب سے کون شادی کرے گا۔امام سعید بن مسیب نے اپنی فاضلہ بیٹی کی اسی طالب علم سے شادی کردی، پھر اسی دن شام میں اپنی بیٹی کو لیے اپنے داماد کے گھر پہنچ گئے ، اور دروازے پر دستک دی ،دروازہ کھولا گیا تو سعید بن مسیب ؒتھے ، انہوں نے کہا کہ میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ رات تم تنہا گذارو، یہ لو تیری بیوی ہے۔ یہ بیٹی ا س قد رعلمی بصیرت رکھتی تھی کہ جب شوہر شب زفاف منانے کے بعد صبح سویرے حسب معمول سعید بن المسیب کے پاس پڑھنے کے لیے جانے کا ارادہ کیا تو بیوی نے بیک زبان کہا: آپ یہیں بیٹھیں، سعید بن مسیب کا پورا علم لے کر آئی ہوں، میں آپ کو سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا علم سکھاؤں گی۔حالاں کہ سعید بن مسیب کی حالت یہ تھی کہ اس وقت مدینہ میں ان سے بڑا عالم کوئی نہیں تھا، اور بعض صحابہ کی موجودگی میں وہ درس دیا کرتے تھے ، اور ان کی بیٹی نے ان کے سارے علم کو حاصل کرلیا تھا ، اللہ اکبر یہی وہ فاضلہ خاتون ہیں، جن کا یہ جملہ سونے کے پانی سے لکھے جانے کہ قابل ہے، کہتی ہیں: جس قدر میں اپنے شوہر کی عزت کرتی اور ان سے ڈرتی ہوں اس قدر تم میں سے کوئی بادشاہ کی بھی عزت نہیں کرتا اور ڈرتا ہوگا۔
لڑکیوں کواس واقعے کے مختلف زاویے سے عبرت حاصل کرنی چا ہئے کہ وہ شوہر جو بیاہا ،علم میں بھی کم ،غریب ومفلس اور بیوی چوٹی کے عالم کی بیٹی ،علم میں سب پرفائق، صورت وسیرت میں بے مثال لیکن دونوں کے ایسے تعلقات اور بیوی کا یہ سنہرہ کردار یقیناًآدمی کا منہ کھلا چھوڑ دیتا ہے۔
٭دختر امام مالک:     یہ امام مالکؒ ہیں، جو موطا کا درس اپنے گھر پردیتے ہیں، اور ان کی بیٹی دروازے کے پیچھے بیٹھ کرسنتی ہیں قاری جب جب عبارت خوانی میں غلطی کرتا ہے یا عبارت میں کمی وزیادتی کرتا ہے تب تب ان کی بیٹی دروازے کے اندر سے دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں، امام مالک قاری سے کہتے ہیں: پھر سے پڑھو غلطی کر رہے ہو، جب قاری پھر سے پڑھتا توواقعی غلطی پاتا۔
٭دختر امام علاء الدین کا سانی:          یہ امام علاء الدین کاسانی ؒ ‘‘ تحف الفقہا ء ’’کی بیٹی ہیں نہایت حسین وجمیل اورتحفہ الفقہا ء کی حافظہ تھیں، روم کے بڑے بڑے بادشاہوں نے ان سے شادی کرنے کے لیے ان کے والد کے پاس پیغام بھیجا تاہم شادی کرنے سے انکار کردیا ، لیکن جب امام علاء الدین سمرقندی نے ’’تحف الفقہاء‘‘کی شرح ’’بدائع الصنائع‘‘کے نام سے لکھی توصاحب تحفہ الفقہا ء  نے اس سے خوش ہوکر ان سے اپنی لاڈلی بیٹی کی شادی کردی ، جس کے باعث علماء  میں اس وقت یہ بات مشہور ہوگئی تھی کہ: شرح تحفتہ وتزوج ابنتہ۔علامہ عبدالحی لکھنوی رحمہ اللہ اس واقعے کو الفوائدالبھی فی تراجم الحنفیہ میں ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں ان کے شوہر سمرقندی جب کہیں غلطی کرتے تو وہ اس کی تصحیح کردیا کرتی تھیں، اور شادی سے پہلے جب علاء الدین کاسانی کے ہاں سے فتوی صادر ہوتا توان کااور ان کی بیٹی کادستخط ہوا کرتا اورشادی کے بعد ان کا ان کی بیٹی کا اور ان کے داماد سمرقندی کابھی دستخط ہوتا تھا۔
٭حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کا گھرانا: ان کی بہن ست الرکب بنت علی بن محمد بن محمد بن حجربہت بڑی عالمہ ، فاضلہ، قاری، کاتبہ اور ذہانت میں عدیم النظیرتھیں، اورسیدہ ست الرکب کی ایک بیٹی تھی جن کا نام ،موز تھا، انہوں نے اپنے مامو ں ابن حجر سے علم حاصل کیا جو چوٹی کی عالمہ بنیں،ان سے امام سخاویؒ نے کسب فیض کیا،لیکن یہ زیادہ دنوں تک باحیات نہ رہ سکیں اور اپنے مامو ں کی زندگی میں سن850ہجری میں وفات پاگئیں رحمہااللہ۔
٭ان کی بیوی:    امام ابن حجررحمہ اللہ کی بیوی کا نام انس بنت قاضی کریم الدین عبدالکریم تھا ، یہ بھی بہت بڑی عالمہ فاضلہ تھیں، امام ابن حجر ؒ ان کا بہت احترام کرتے تھے ،کبھی کبھی ان سے ان لفظوں میں دل لگی کرتے : قدصرت شیخہ۔ کہ آپ توبہت بڑی شیخہ بن گئیں۔
٭ان کی بیٹیاں:       ابن حجر رحمہ اللہ کی ساری بیٹیاں عالمہ اور فاضلہ تھیں، ان میں زین خاتون سب سے بڑی تھیں، انہوں نے امام عراقی اور امام ہیثمی سے سماع حدیث کیا تھا، انہیں ایک ہی لڑکا پیدا ہواجس کا نام یوسف بن شاہین تھا اورجو سبط ابن حجر (ابن حجرکے نواسہ)سے مشہور ہوئے، زین خاتون کی وفات تیس ہی سال کی عمرمیں ہوگئی جس کے باعث انہیں زیادہ شہرت نہ مل سکی۔
اسی طرح امام ابن حجر ؒ کی دوسری بیٹیاں فرحہ ، فاطمہ، عالیہ، رابعہ سب کی سب عالمہ اورفاضلہ تھیں اورسبھوں کوبڑی بڑی شخصیتوں سے اجازہ اورسماع حاصل تھا، لیکن افسوس کہ ان میں سے اکثر کا انتقال شادی سے پہلے نوعمری ہی میں طاعون کی بیماری میں ہوگیا۔
٭العلامہ المحدث ابو الحجاج المزی رحمہ اللہ کی بیوی ام محمد عائشہ بنت ابراہیم بن صدیق السلمی بہت بڑی عالمہ تھیں ، حافظہ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ محدثہ بھی تھیں، امام ابن کثیرؒ (جوان کے داماد ہوئے) ان کے بارے میں لکھتے ہیں کثرت عبادت میں وہ عدیم النظیرتھیں۔
٭امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی بھتیجی ست القضابنت عبدالوھاب بن عمر بن کثیربہت بڑی عالمہ فاضلہ تھیں، ابوالحجاج المزیؒ نے انہیں اجاز (حدیث بیان کرنے کی سند اجازت ) دیا تھا، جبکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ست القضاؒ سے اجازہ لیا تھا۔
٭علامہ عبدالرحیم بن حسین العراقی رحمہ اللہ کی صاحبزادی خدیجہ بہت بڑی فاضلہ تھیں، ان کے شوہر محدث نورالدین علی بن ابی بکر الہیثمی رحمہ اللہ تھے ، چنانچہ علامہ ہیثمی جب کتابوں کا مراجعہ کرتے تو کتب حدیث کے مراجعہ میں سیدہ خدیجہ اپنے شوہر کی دست راست ہوتیں اور ان کی مدد کر تی تھیں، امام ہیثمیؒ بھی ان کی بہت تعظیم کرتے تھے۔
٭امام محمدبن عبدالھادی کی صاحبزادی عائشہ رحمہااللہ انہیں فن حدیث میں ید طولیٰ حاصل تھا ،بعض مؤرخین نے ان کی بابت کہا ہے: ’’الشیخ الخیر رحل الدنیا‘‘۔ حافظ ابن حجر نے ان کے پاس کئی ایک کتابیں پڑھیں اور ان سے روایت کیا ہے۔
٭علامہ تقی الدین علی بن عبدالکافی السبکی کی صاحبزادی سارہ جو امام تاج الدین السبکی کی خاص بہن ہیں، بہت بڑی عالمہ تھیں ، فن حدیث کی امام تصور کی جاتی تھیں، امام ذھبی اورمزی رحمہااللہ نے انہیں اجاز دے رکھا تھا، حافظ ابن حجرؒنے اپنی صاحبزادی خاتون کے ساتھ ان کے پاس بعض کتابیں پڑھی تھی اورخاتون کوانہوں نے اجاز بھی دیا تھا۔
یہ چندمثالیں تھیں جن سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عہدنبوی سے لیکر تیرھویں چودہویں صدی ہجری تک بے شمار مفسرات ،محدثات اور عالمات و فاضلات پیدا ہوئیں جنہوں نے مردوں کے شانہ بشانہ تحصیل علم میں حصہ لیا اور امت مسلمہ کو فیضاب کیا۔
زالڈگرسرینگر
 

تازہ ترین