لاک ڈائون کا 19واں دن

شہر، وسطی، جنوبی و شمالی کشمیر میں زندگی ٹھپ

تاریخ    10 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر//ملک گیر سطح پر لاک ڈائون کے 19ویں روز بھی وادی کشمیر میں قاضی گنڈ سے لیکر کرناہ تک زندگی کی رفتار تھم گئی اور لاکھوں لوگوں نے گھروں میں رہنے کو ہی ترجیح دی۔’گھروں میں بیٹھیں،محفوظ رہیں‘ کا اصول اپناتے ہوئے سرینگر کے سیول لائنز اور پائین شہر کے علاوہ جنوبی ، شمالی اور وسطی کشمیر میں ہر طرح کی سرگرمیاں معطل رہیں اور سڑکوں و بازاروں کی طرف لوگوں نے رخ نہیں کیا۔شہر کی سڑکوں پر لوگوں کی آمد و رفت مسدود کرنے کیلئے خار دار تاریں بچھائی گئیں تھیں اور معمول کے مطابق لوگوں کو گھروں تک محصور رکھنے کیلئے بندوبست کیا گیا تھا۔پچھلے 18روز سے وادی میں سب کچھ بند ہے اور نہ صرف سرینگر بلکہ وادی کے دیگر علاقوںمیں بھی اسی طرح کی صورتحال ہے۔سری نگراورضلعی وتحاصیل صدرمقامات کیساتھ ساتھ گائوں دیہات میں بھی پولیس نے فورسزکیساتھ ملکر ناکہ بندی کے سخت انتظامات کئے ہیں ،اورکسی بھی شخص کوپیدل یاگاڑی لیکر ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے ۔لاک ڈائون کے احکامات سے مبرارکھی گئی لازمی خدمات سے جڑے سرکاری ملازمین ،افسروں اورڈاکٹروں کوبھی ضروری پوچھ تاچھ کے بعدہی آگے جانے کی اجازت دی جاتی ہے ،تاہم سبزیاں ،میوہ جات اوردیگرکھانے پینے کی چیزیں لیجانے کی اجازت دی جارہی ہے۔انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں لاک ڈائون کو کامیاب بنا کر سماجی دوری کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرر ہی ہیں ۔ادھربانڈی پورہ پولیس نے نسبل سمبل علاقے میں سرکاری بندشوں کی خلاف ورزی کی پاداش میں24افراد کے خلاف کیس درج کیا۔ پولیس نے قصبہ لار میں سرکاری حکمنامہ کی خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں دوکاندار کے خلاف 27/2020 دفعہ 188  کے تحت کیس درج کیا ۔پولیس نے بانڈی پورہ میں امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں 20افراد کو گرفتار کر لیا  ۔اس دوران ترال میں  پولیس نے مختلف مقامات پربھیڑ جمع کرنے والے افراد پر لاٹھی چارج کر کے انہیں تتر بتر کیا۔
 

تازہ ترین