’شب برات‘ | مساجد اورخانقاہوں میں اجتماعی شب خوانی نہیں ہوگی

تاریخ    9 اپریل 2020 (22 : 12 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// وادی میں کرونا وائرس کے پھیلائو کے پیش نظر دیگر برسوں کی طرز پر امسال شب برات کی تقاریب مساجد،خانقاہوں اور آستانوں میں اجتماعی طور پر نہیں ہوںگی،جبکہ علمائے کرام نے بھی گھروں میں ہی شب برات میں توبہ استغفار اور درود و ازکار کا ورد کرنے کی صلاح دی ہے۔ مفتی اعظم نے شب برات کے دوران فاتحہ خوانی کیلئے قبرستانوں پر نہ جانے کی تاکید کی ہے۔ وادی میں کرونا وائرس کے پھیلائو میں اضافہ،لاک ڈائون اور بندشوں کے بیچ امسال دیگر برسوں کی طرز پر مساجد میں اجتماعی طور پر شب برات کی شب خوانی نہیں ہوگی۔ زیارت گاہوں کو پہلے ہی کرونا وائرس کے پھیلائو کے پیش نظربند کیا گیا ہے،جبکہ ضلع انتطامیہ نے بھی ایک روز قبل ہی فرمان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مساجد میں اجتماعی طور پر شب خوانی کی مجالس منعقد نہ کی جائے۔ شب برات کی مناسبت سے وادی میں روایتی طور پر14شعبان کو مساجد اور زیارت گاہوں میں بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوتے تھے ،اور، دورد و اذکار،قران خوانی،ختمات المعظمات اور توبہ استغفار کا ورد کیا جاتا جبکہ اللہ کے حضور فرزندان توحید دست بہ دعا ہوتے ۔ علمائے کرام نے بھی پہلے ہی مساجد کے بجائے گھروں میں ہی شب خوانی کرنے کی تاکید کی ہے۔ مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے اس دوران لوگوں کو شب  برات کے موقعہ پر قبرستان پر بھی نہ جانے کی صلاح دیتے ہوئے کہا کہ وہ گھروں میں ہی فاتحہ خوانی کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر جب کرئونا وائرس کا پھیلائو شباب پر ہے،لوگوں کو قبرستان پر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا’’ اگرچہ14شعبان کی شب کو قبرستان پر جانا حدیث سے ثابت ہے،تاہم موجودہ صورتحال کے پیش نظر لوگ گھروں میں ہی قران خوانی کریں اور اپنے مرحوم اقارب کے حق میں دعائے مغفرت کریں‘‘۔
 

تازہ ترین