تازہ ترین

سوپور میں معرکہ آرائی،جنگجو جاں بحق، فوجی زخمی

۔14گھنٹے محاصرے کے بعد گولیوں کا تبادلہ، مکان تباہ

تاریخ    9 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   


غلام محمد
 سوپور // شمالی قصبہ کے سوپور قصبہ میں جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان خونریز جھڑپ میں ایک جنگجو جاں بحق جبکہ ایک فوجی زخمی ہوا۔ اس دوران ایک رہائشی مکان جل کر خاکستر ہوا۔پولیس نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ جاں بحق جنگجو جیش کا کمانڈر تھا۔

مسلح تصادم آرائی

پولیس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ منگل کی شام دیر گئے انہیں آرم پورہ علاقے کی گلاب آباد بستی میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملی جس کے بعد  بستی کو گھیرے میں لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ رات دیر گئے جب تلاشی کارروائی کی کوشش کی گئی تو فورسز پر جنگجوئوں نے کچھ فائر کئے جس کے بعد محاصرہ سخت کر کے روشنیوں کا انتظام کیا گیا اور آپریشن بدھ کی صبح تک ملتوی کردیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں 2سے4جنگجوئوں کی موجودگی کا شبہ تھا لہٰذا آپریشن کیلئے 22آر آر کے علاوہ سی آر پی ایف 179اور177بٹالین کی مدد بھی حاصل کی گئی۔14گھنٹے تک محاصرہ جاری رکھنے کے بعد بدھ کی صبح آپریشن کا آغاز کیا گیا جس کے بعد طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا جو کافی دیر تک جاری رہا جس میں فوج کا ایک اہلکار شدید طور پر زخمی ہوا۔ بعد میں عبدالرحمان صوفی کے مکان کو بارود سے اڑا دیا گیا جس کے نتیجے میں وہ خاکستر ہوا اور ملبے سے جیش محمد سے وابستہ اعلیٰ کمانڈر سجاد احمد ڈار ولد محمد نواب ساکن سعد پورہ سوپور کی لاش بر آمد کی گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ جنگجو کمانڈر اپریل 2018سے علاقے میں سر گرم تھا اور اسکے خلاف کئی کیس درج تھے جو پولیس کو انتہائی مطلوب جنگجوئوں میں شامل تھا۔ادھر جھڑپ کے آغاز پر ہی سوپور اور اسکے گردو نواح علاقوں میں انٹر نیٹ سروس معطل کی گئی ۔

سپرد خاک

سجاد احمد ڈار نامی جنگجو کی لاش جب اسکے گائوں لائی گئی تو یہاں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ گھروں سے باہر آئے اور کوکورونا وائرس پھیلنے کے خدشے کے باوجود ایک ہی جگہ جمع ہوئے اور بعد میں جنگجو کے نماز جنازہ میں شرکت کی اور انہیں سپرد خاک کیا۔
 
 

بانڈی پورہ میں تلاشیاں

بانڈی پورہ /عازم جان/ بانڈی پورہ کے ارہ گام علاقہ میں بد ھ کو فوج نے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا۔ عسکریت پسندوں کے چھپے ہونے کی  اطلاعات ملنے کے بعد فوج نے آرہ گام گائوں کو محاصرے میں لیکر گھر گھر تلاشی کارروائی کی۔ محاصرے کے دوران تمام ر استے بند کردیئے گئے۔ تین گھنٹوں تک تلاشی کاروائیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کے بعد جب فوج اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوئی تو محاصر ہ ختم کیا گیا۔