غزلیات

5 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

پھول پتے بہار کیا معنی
بن تْمھارے سنگھار کیا معنی
 
تْو نہ آئے گا میری سمت کبھی
اب ترا انتظار کیا معنی
 
سارے چہرے اْداس لگتے ہیں
ساقیا اب خْمار کیا معنی
 
اب حدیں توڑنے کی ٹھانی ہے
درِ زنداں حصار کیا معنی
 
میری آنکھوں میں دْھند سی رہتی ہے
اْس کے رْخ پر نکھار کیا معنی
 
دل کی دْنیا اْجڑ گئی جاویدؔ
عشق کا کاروبار کیا معنی
 
سردارجاویدؔخان 
مہنڈر، پونچھ،موبائل نمبر 9697440404
 
 
 
کل تلک خوشیاں ہی خوشیاں تھیں جہاں ہر بات میں
’موت آنسو بانٹتی ہے اب وہاں خیرات میں‘
زلزلوں نے اسقدر وحشت مچائی ذہن میں
خوف شامل ہوگیا حرکات میں سکنات میں
کھنڈروں میں ڈھونڈتے ہو عشق کی پرچھائیاں
آرزوئیں چیختی ہیں اب یہاں صدمات میں
عشق کے انداز میںپنہاں ہے زارِ بندگی
اک سکونِ دائمی پنہاں ہے حادثات میں
کس کی عظمت بخشتی ہے میرے سجدوں کو حیات
عقل کیونکر پھنس گئی ہے شک میں اور شبہات میں
یہ ضروری تو نہیں لیکن کبھی رسماً سہی!
یاد کرلینا مجھے بھی عید کے لمحات میں
اللہ اللہ حُسن مولاؑ کا تصور اے بشیرؔ
اک اُجالاہوگیا حاصل مجھے ظلمات میں
 
بشیر آثمؔ
باغبان پورہ، لعل بازار،سرینگر
موبائل نمبر؛9627860787
 
 
تڑپے ہے کوئی کس طرح ظالم اِدھر تو دیکھ
تیرِ نظر سے چھلنی ہوتا جگر تو دیکھ
 
بیمار دل کی خاطر بن جائے جو مسیحا
بخشے حیات پھر سے وہ اک نظر تو دیکھ
 
سب کچھ لٹا کے کیسے سودائی بن گئے ہیں
تیرِ نظر جو کرلے اس کا اثر تو دیکھ
 
رستہ بدلنے والا ہر اک نہیں ہے جاناں
بن کر کبھی کسی کا تُو ہم سفر تو دیکھ
 
میٹھی کٹار بن کر معصومیت سے کیسے
دل پارہ کر گئی ہے تیری نظر تو دیکھ
 
خورشیدؔ اپنے دل کو اس پر ہی دے تسلی
میٹھا ہے صبر کا پھل اِس کا اثر تو دیکھ
 
سید خورشید حسین خورشیدؔ
چھم کوٹ کرناہ، کشمیر
موبائل نمبر؛88999399647
 
 
کوئی جاکے کہہ دو میرے روٹھے یار کو
آنکھیں ترس رہی ہیں اُسکے دیدار کو
 
دِل لگی اُس کی کہوں کہ کہوں اپنی سزا
کہو تم ہی میں کہوں کیا اِس انتظار کو
 
پوچھیں یہ کس سے کیسا ہے اُس جہاں میں
لوٹا نہیں ہے کوئی چھوڑ کر اس سنسار کو
 
دشمن محبت کا سارا جہاں کہ ڈرتا ہوں
چُرالے نہ کوئی مجھ سے میرے پیار کو
 
دِل بے قرار بہلتا نہیں ہے بہلانے سے صورتؔ
کوئی بتلائے میں بہلائوں کیسے دِل بے قرار کو
 
صورت سنگھ
رام بن، جموں
موبائل نمبر؛9419364540
 
گزر گئے زیست کے کچھ مرحلے اس طرح
کبھی میں نے خواہش نہ کی تھی جس طرح
 
دل مضطر سے پوچھ لو میری ہر روداد
میں اس حال سے گزرا ہوں کس طرح
 
تمہارے آنے سے میرے دل کو ہے ثبات
نہ جانے یہ سلسلہ کب سے ہوا کس طرح
 
تمہاری یادیں آئیں تو وہ بھی صبا کی طرح
اک جھونک نے سارا راز کھولا اس طرح
 
اپنی کوتاہیوں کو پھر سے دیکھو سیدؔ
زمانے سے یوں گلہ نہ کر اس طرح
 
سیدؔمنصور بخاری
شعبہ اردو، سینٹرل یونیورسٹی کشمیر
 
 قطعات
 
پھولوں کی آرزو تھی، کورونا کا قہر آیا
شامِ بہار پر کوئی کرنے وہ سحر آیا
بدلا ہے وقت تُو بھی بدل خود کو اے سیدؔ
امرت کی دھار میں ہے ملانے وہ زہر آیا
۔۔۔۔۔
 
حادثے سہنے کو یہ دل بے قرار رہتا ہے
کیسے کیسے آتے غموں کا انتظا رہتا ہے
مسکراتے ہیں کاغذی پھول بیچنے والے
اُداس بہت گلابوں کا بازار رہتا ہے
 
 
ہر خوشی پر چھاگیا ہے سوگ کیوں 
ناگ کالے بن گئے ہیں لوگ کیوں
ساتھ ہیں جب سنت، صوفی اور صلیب
پھر یہاں پر آدمی پر روگ کیوں
 
سعید احمد سید
احمد نگر، سرینگر
موبائل نمبر؛9906355293