تازہ ترین

کووڈ 19اور4جی انٹرنیٹ

اچھے دن کب آئیں گے؟

4 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

ایم شفیع میر
جموں و کشمیر کے لوگ گذشتہ سال اگست کے مہینے سے انٹر نیٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی لوگ قدیم زمانے کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔تاجر طبقہ اور خاص کر طلاب کے لئے انٹرنیٹ کی عدم دستیابی شدید مشکلات کا سبب بنی ہوئی ہے۔حق تو یہی ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگ گذشتہ سال کے ماہ اگست سے ہی لوگ گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں اور اب  کرونا وائرس کی قہر کے باعث لاک ڈائون کی پریشایاںسہنے پر مجبور ہیں۔ اب جب کہ سالِ رواں کے دوران سرکار نےجموں و کشمیر کے عوام کے تئیں چند معاملات میںکسی حد تک اپنے رویہ میںتبدیلی لائی ہے، جسکے نتیجہ میں لاک ڈائون سے قبل ہی انٹر نیٹ کی محدودبحالی بھی ہوئی ہے۔ جس سے موبائل صارفین کو وہ سہولیات میسر نہیں ہوپارہی ہیں جن کی اس وقت انتہائی اہمیت اور ضرورت ہے۔ سرکار نےاپنی غیر منصفانہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے صرف2جی انٹرنیٹ خدمات بحال کی ہیں جو کہ یہاں کے صارفین کے ساتھ ایک مذاق ہی ثابت ہورہا ہے۔ موبائل کمپنیاں تو صارفین سے 4جی ڈاٹا پیک کا پیسہ وصول کرتی ہیں لیکن اسے ستم ظریفی کہا جائے یا بدقسمتی کہ صارفین کو4جی پیک کے عوض صرف 2جی انٹرنیٹ کی خدمات میسرہیں، کیا یہ سرکار اور ٹیلی کام کمپنیوں کی طرف سےصارفین ظلم کرنے کی پالیسی تو نہیں ہے یا پھرسرکار اور موبائل کمپنیوں کے درمیان آپسی ملی بھگت کا کھلا نتیجہ ہے ۔صارفین کا خیال ہے کہ یہ ٹیلی کام کمپنیوں کا اپنے صارفین کے ساتھ دھوکہ دہی تو نہیںہے؟یا سرکار کی طرف سے یہاں کے عوام کے ساتھ سوتیلے پن کا کا افسو ناک حربہ تونہیں ہے؟ 
بظاہر تو یہ سرکار کی ہٹ دھرمی ہی دکھائی دے رہی ہے۔جس سے ڈیجیٹل انڈیا  پر بھی ایک بدنما دھبہ لگ جاتا ہے۔کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہےکہ یہ سرکار کی طرف سے عوام کے نام ایک کڑا پیغام ہے کہ جو چاہیں کرسکتے ہیں۔ تاریخ کے اوراق پلٹنے سے صاف عیاں ہوتا ہے کہ دلی سرکار نے جموں وکشمیرکو سوائے سیاسی چراگاہ کے اور کچھ نہیں سمجھا ہی نہیں ہے۔ لال قلعے کی فصیل سے جموںو کشمیر کو بھارت کا تاج کہنے والے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں تو انہیںمعلوم ہوگا جس جموں و کشمیر کو وہ بھارت کا تاج کہتے ہیں وہاں جدید ٹیکنالوجی کے اِس دور میں لوگوں کو انٹرنیٹ جیسی اہم خدمات سے بدستورمحروم رکھا گیا ہے۔ لاکھ منت سماجت اور مطالبات کے باجود بھی جموں و کشمیر میں ۴ جی انٹرنیٹ خدمات کی بحالی ایک خواب بن کر رہ گیا۔
کووڈ 19کے پھیلائو کے پیش نظرایک طرف پبلک مقامات کے ساتھ ساتھ بینکوں میں جانے سے روک لگ چکا ہےجبکہ ای بینکنگ پرز ور دیا جارہا ہے تو دوسری طرف وادی میں موبائل انٹرنیٹ پر 4جی رفتار بدستور بند ہے، جس کے نتیجے میں لوگوں کو مجبوراً بینکوں اور دیگر جگہوںجانا پڑتا ہے۔اس کے علاوہ اگرچہ کئی ریاستوںمیں اِی کلاسز شروع کی جاچکی ہیں اور سکول و کالج بند رہنے کی صورت میں طلبہ و طالبات کو انٹرنیٹ کے ذریعے آ?ن لائن پڑھایا جاتا ہے لیکن جموں و کشمیر میں فور جی انٹرنیٹ پر سرکاری قدغن بدستور جاری ہے۔کوروناوائرس نے ایک عالمی وبائی صورت اختیار کی ہے اور اب تک اس وائرس میں مبتلاء ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہو گئی ہے جبکہ دنیا بھر میںاس مہلک وبا کی وجہ ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں، جس کے پیش نظر دنیا بھر میں لوگوں کو اپنے گھروں سے باہر نکلنے کیلئے احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے اگرچہ جموں کشمیر میں بھی سرکاری سطح پر کئی اقدامات اْٹھائے جارہے ہیںتاکہ اس وائرس کے پھیلائو پر قابو پایا جاسکے۔ اس ضمن میں لوگوں کو پبلک مقامات، یہاں تک کہ عبادت گاہوں میں جانےپر بھی پابندی ہے۔سرکار کی جانب سے گھروں میں ہی بیٹھے رہنے پر ا?ٓئے روز نئے نئے احکامات صادر کئے جا رہے ہیںلیکن عوام کی جانب سےکی فور جی انٹر نیٹ خدمات بحالی کی مانگ سرکار کے ٹھنڈے بستے میں ہے۔ سرکار عوام کی اِس مانگ کو لیکر مکمل طور ہٹ دھرمی اپنائے ہوئی ہے۔ سرکار کو چاہیے کہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور اپنے رویہ میں نرمی لاکر فور جی انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کو ممکن بنائے وگرنہ یہ صاف عیاں ہو رہا ہے کہ ٹیلی کام کمپنیوں اور سرکاری کی آ?پس ملی بھگت سے لوگوں کو دو دو ہاتھ لوٹا جا رہا ہے جو کہ انتہائی افسوسناک ہے اورجمہوریتی دعوے پر طمانچہ ہے۔آ?خر میںسرکار کے نام بس یہی پیغام ہےکہ اچھے دن کب آ?ئیں گے،جس کا آپ ببانگ دہل دعوے کرتے جارہے ہیں؟
گول، جموں و کشمیر
9797110175   ،7780918848
 

تازہ ترین