تازہ ترین

متاثرہ افراد کے رابطوں میں آئے 2000افراد کی نشاندہی

جموں کشمیر میں 62 مثبت کیس سامنے آئے

2 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک+پرویز احمد

’ چار لاکھ ماسک اور ایک لاکھ60ہزار سنیٹائزرس کا آڈر دیا گیا : روہت کنسل

 
جموں+سرینگر//منصوبہ بندی اور اطلاعات محکموں کے پرنسپل سیکریٹری روہت کنسل نے بدھ کو کہا کہ قومی سطح پر کووڈ۔19 کے معاملات میں اضافہ کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر میں بھی ان کیسوں میں اضافہ ہورہا ہے اور اب تک 62معاملے سامنے آئے ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران روہت کنسل نے کہا کہ 58 معاملے سرگر م ہیں جن میں سے کشمیر میں 48 اور جموں صوبے میں 19 معاملے درج کئے گئے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ کل 17041اَفراد کو اب تک نگرانی میں رکھا گیا ۔اُنہوں نے کہا کہ یہ ایک متحرک عمل ہے اور کورنٹین کی مدت مکمل کرنے کے بعد منفی پائے جانے والے اَفراد کو گھر بھیجا جارہا ہے۔روہت کنسل نے کہا کہ حکومت ایسے اَفراد کی نشاندہی میں سرگرم عمل ہے جو متاثر ہ افراد کے رابطے میں آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب تک کئی مثبت اَفراد کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ متاثرہ اَفراد کے رابطے میں آئے لوگوں کی نشاندہی لازمی ہے اور اس طرح سے وائرس کے مزید پھیلائو کو روکا جاسکتا ہے۔روہت کنسل ،نے کہا کہ متاثرہ افراد کے رابطے میں آئے 2000لوگوں کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔اُنہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں انتظامیہ کو اپنا تعاون دیں۔روہت کنسل نے اِنکشاف کیا کہ جموںوکشمیر میں ٹیسٹ کرنے کا عمل تیزی کے ساتھ جاری ہے اور یہاں مقامی چار مراکز پر ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر میں ٹیسٹوں کی شرح 77.5فی دس لاکھ ہے جو کہ ملک میں کریلا کے بعد سب سے زیادہ ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اِنتظامیہ نے ٹیسٹ کے عمل میں مزید اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔اُنہوں نے کہاکہ اب تک جن 2000اَفرادکی نشاندہی کی گئی ہے ۔پہلے اُن سب کے ٹیسٹ کرائے جائیں گے۔ ترجمان نے کہا کہ متاثرہ افراد کے رابطے میں آئے لوگوں کی نشاندہی کرنے کا عمل جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں اضلاع کی انتظامیہ کو ضروری ہدایات دی گئی ہیں۔روہت کنسل نے کہا کہ جموںوکشمیر میں کووڈ۔19کے لئے 11ہسپتال مخصوص کئے گئے ہیں اور 35,000 بستروں پر مشتمل کورنٹین کی سہولیات قائم کی گئی ہیں جبکہ جموںوکشمیر میں کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے علاج و معالجہ کی خاطر 2400 بسترے مخصوص رکھے گئے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ محکمہ صحت میں اَفرادی اور سازو سامان کی قوت کو مزید متحرک کیا جارہا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اِس سلسلے میں رضاکاروں اور سابق ڈاکٹروں کی خدمات بھی حاصل کی جارہی ہیں۔روہت کنسل کہا کہ محکمہ صحت ضروری سازو سامان بشمول ماسک ، پی پی ای اور وینٹلیٹر حاصل کررہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ دلی میں درماندہ جموںوکشمیر کے باشندوں کے لئے وہاں ریذیڈنٹ کمشنر کے دفتر میں ہیلپ لائن قائم کیا گیا ہے جو دن رات کام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نمبر پر اب تک 2800کالز موصول ہوئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جموںوکشمیر میں مہاجر مزدوروں اور بیرون ریاست کے دیگر درماندہ لوگوں کے لئے بھی ہیلپ لائن نمبرات جار ی کئے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اِن ہیلپ لائین نمبرات پر اب تک 300سے زیادہ کالز موصول ہوئی ہیں۔روہت کنسل نے کہا کہ حکومت کی طرف سے منظور شدہ سکیم کے تحت ہر رجسٹرڈ کنسٹرکشن ورکر کو ایک ہزار روپے دینے کو منظوری دی گئی اور اس سلسلے میں اب تک 119110سرگرم رجسٹرڈ ورکروں میں 11.91 کروڑ روپے کی رقم تقسیم کی گئی ۔روہت کنسل نے کہا کہ تمام پبلک ، پرائیویٹ انڈر ٹینکگس ، صنعتی اداروں اور جموںوکشمیر کے دیگر اداروں کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ اپنے ملازمین خصوصاً کیجول یا کنٹریکچول ورکروں کی خدمات برخاست نہ کریں نہ اُن کے مشاہرے میں کوئی کمی کریں۔اُنہوں نے کہا کہ اپریل اور مئی مہینوں کا اضافی راشن تقسیم کرنے کا عمل پہلے ہی شروع ہوا ہے اور اب تک 1.31 لاکھ کوئنٹل راشن تقسیم کیا جاچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈاون شروع ہونے کی تاریخ سے آج صبح 8بجے تک تقریبا ً 3483ٹرک ضروری سازو سامان لے کر لکھن پور کے راستے جموں داخل ہوئے ہیں ۔کووڈ۔19کے خلاف ڈیوٹی پر سرکاری عملے میں فیس ماسک اور سنیٹائرزس کی تقسیم کاری کے حوالے سے روہت کنسل کہا کہ حکومت نے 4لاکھ فیس ماسک اور 1.60 لاکھ سنیٹائزر حاصل کرنے کا آڈر دیا ہے۔روہت کنسل نے کہا کہ اِنتظامیہ نے پہلے ہی ضروری خدمات فراہم کرنے والے محکموں کے ملازمین بشمول بجلی،صحت عامہ اور پولیس وغیرہ کے اہلکاروں میں 90,000 فیس ماسک اور 6000 سنیٹائزر تقسیم کئے ہیں۔ نوول کورونا وائرس پر روزانہ بلیٹن کے مطابق کشمیر صوبے میں بدھ کو 7نئے معاملات درج کئے گئے جس کے بعد جموںوکشمیر میں متاثرہ افراد کی کل تعداد 62 پہنچ گئی ہے۔کشمیر عظمیٰ کو معلوم ہوا ہے کہ جو 7نئے کیس سامنے آئے ہیں، اُن میں ضلع پلوامہ سے 2، بارہمولہ اور سرینگر سے 4 سے ایک کا تعلق ہے۔ ان میں 3رعناواری ہسپتال میں داخل تھے، 2ضلع ہسپتال پلوامہ ، ایک جی ایم سی بارہمولہ اور ایک سکمز میں داخل تھا۔اَب تک بیرون ریاست یا بیرون ممالک سے آئے 17041 اَفراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن میں 10355 اَفراد کو ہوم کورنٹین ( جس میں حکومت کی جانب سے قائم کئے گئے کورنٹین مراکز بھی شامل ہیں) میں رکھا گیا ہے جبکہ 516 اَفراد ہسپتال کورنٹین میں ہے ۔اس کے علاوہ 52مریض ہسپتال آئیسولیشن میں ہیں جبکہ 3961 اَفراد کو اپنے اپنے گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔اِس دوران 2157 اَفراد نے نگرانی کی 28دِن مدت پوری کی ہے۔بلیٹن کے مطابق اَب تک 977نمونے جانچ کے لئے بھیجے گئے ہیں جن میں سے 911 نمونوں کی رِپورٹ منفی اور 62 نمونوں کی رِپورٹ مثبت آئی ہے  جبکہ 4نمونوں کی رِپورٹ یکم اپریل 2020ء تک آنا باقی تھا۔
 
 
 

اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کا قیدیوں کی رہائی کیلئے اصول وضع 

نیوز ڈیسک
 
جموں//جموںوکشمیر حکومت نے جسٹس راجیش بندل کی سربراہی میں قیدیوں کی رہائی سے متعلق اعلیٰ اختیاری والی کمیٹی نے جرم کی نوعیت اور برسوں کی تعداد اور دیگر معاملا ت کی بنیاد پر کئی قیدیوں اور زیر سماعت اَفراد کو رہا کرنے کا منصوبہ سامنے رکھا۔ ایک قصوروار کو چند شرائط کے تحت آٹھ ہفتوں تک خصوصی پرول پر رہا کرنے کے لئے اُس کے زُمرے کو مد نظر رکھا جائے گا اور اگر حکومت لاک ڈاون کو جاری رکھتی ہے تو پرول کو مزید آٹھ ہفتوں تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح اُن قیدیوں، جن کے معاملات زیر سماعت ہیں، کے تعلق سے تجویز ہے کہ ان کو 60دنوں کی عبوری ضمانت دی جاسکتی ہے اور اگر حالات کا تقاضا ہو تو ذاتی بانڈ پیش کرنے کی صورت میں اس کو بڑھایا جاسکتا ہے۔عبور ی ضمانت دینے کیلئے کمیٹی کی طرف سے وضع کئے گئے لائحہ عمل کو جیلوں کا دورہ کرنے والے جج عملائیں گے یا عبوری ضمانت پر ڈی ایل ایس اے کی وساطت سے ضمانتی درخواستیں جمع کرنے کا لائحہ عمل طے کیاجائے گا۔تمام پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز ججز سے درخواست کی گئی کہ وہ زیر سماعت قیدیوں کے تعلق سے ایچ پی سی ہدایات پر عمل کریں اور ایک ہفتے کے اندر اپنی رِپورٹ پیش کریں تاکہ اس سے 10اپریل  کو یا اس سے پہلے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کے سامنے پیش کیاجاسکے۔
 

۔292افراد کٹھوعہ سے کشمیر روانہ 

ویری ناگ میں 23افراد کو پکڑا گیا

سید امجد شاہ +عارف بلوچ
 
جموں+اننت ناگ //کھٹوعہ کے قرنطینہ مرکز میں موجود کم سے کم 292افراد کو بدھ کو کشمیر روانہ کیاگیا۔ڈپٹی کمشنر کٹھوعہ اوپی بھگت نے بتایا’’ہم نے 292افراد کو روانہ کردیاہے جو یہاں مختلف قرنطینہ مراکز میں تھے ، ان سبھی کے پاس اپنی پرائیویٹ گاڑیاں تھیں ‘‘۔بھگت نے بتایاکہ سٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی 21بسیں دستیاب ہیں اور ان کے ذریعہ دوسرے قافلے کو روانہ کیاجائے گا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ کٹھوعہ کے 60قرنطینہ مراکز میں 5ہزار کے قریب افراد کو ٹھہرایاگیاتھا جن میں سے بیشتر کا تعلق وادی سے ہے جو لاک ڈائون کے بعد کسی نہ کسی طرح سے سفر طے کرکے بیرون جموں وکشمیر سے لکھن پور تک پہنچے تھے ۔دریں اثناء ڈپٹی کمشنر نے بتایاکہ 7افراد کو نالہ عبور کرتے ہوئے پکڑ لیاگیا جو سڑک بند ہونے کے بعد نالہ سے داخل ہوئے ۔ ادھرڈورو پولیس نے ویری ناگ کے نزدیک بانہال،چملواس اور ریاسی سے تعلق رکھنے والے 2خواتین سمیت 23افراد کو اُس وقت حراست میں لیا جب یہ لوگ خفیہ راستہ سے بانہال جانے کی کوشش کرہے تھے۔پولیس نے سبھی افراد کو پی ایچ سی ویری ناگ میں داخل کیا جہاں انہیں طبی جانچ کے بعد لورمنڈامیں قائم ایک عارضی ہٹ میں منتقل کیا گیا۔پولیس نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ غیر قانونی طور پُر خطر راستوں پر چلنے سے اجتناب کریں۔
 

تازہ ترین