تازہ ترین

رنگ و بو میں اندھا نہ بنو

اپنے آپ کا محاسبہ کرو

31 مارچ 2020 (00 : 12 AM)   
(      )

نور محمد ،باغ مہتاب ،سرینگر
ہم سب لوگ سُن رہے ہیںاور دیکھ بھی رہے ہیںکہ کرونا کی وجہ سےآج پوری دنیا میں ہاہاکارمچی ہوئی ہے،ہر فردکو جان کے لالے پڑےہیں،ہر طرف سناٹا چھایا ہوا ہے ،ہر سو ہُو کا عالم ہےاوراحتیاطی تدابیر کے نام پرہر ملک لاک ڈاؤن کے نام پر ٹھپ پڑا ہے۔ہر ملک اپنے قوم وملت کی تحفظ کیلئے حتی المقدور کوششیںکررہا ہےاور ہر قوم اپنے اپنے معبودوں کی ناراضگی دور کرنے اور اُنہیں منانے میں جُٹ گئی ہے لیکن ایسامعلوم ہوتاہے کہ کسی کو بھی کروناؔ پر قابو پانے،اسے دور بھگانے یا اسے نجات حاصل کرنے میں کوئی مثبت کامیابی نہیں مل رہی ہے۔ سب بےبس دکھائی دے رہے ہیںاور سب کچھ بے کار ثابت ہورہا ہے۔آسمانوں پر کمندیں ڈھالنے والے ، سمندروں کی تہہ تک جانے والے،اپنے مہلک ہتھیاروں سے دنیا کو منٹوں میں تباہ کرنے والےاور خود کو سب سے اعلیٰ اور سب سے بر ترو بالا سمجھنے والے ممالک ،حکمران اور لوگ ،عام لوگوں کی ہی طرح بے کس اورلاچار ہوگئے ہیں۔شاید پہلی بار انہیں یہ محسوس ہونے لگا ہےکہ وہ بھی اس کائنات پر موجوداُسی انسانی وجود کا ہی جُز ہیںجنہیں وہ اپنے سے کمتر ،کمزور اور لاغر سمجھ کر اُنہیں ہر طریقے سے مار رہے ہیں ، ہر طرح سے استحصال کررہے ہیںاور اپنی برتری، خود سری اور سر کشی سے انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے ہیں۔شاید انہیں اس بات کا بھی احسا س ہونے لگا ہو کہ اُن کی آن بان اور شان عارضی اور فانی ہیںاور اگراس کائنات پر کسی کی مستقل اور لافانی آن بان اور شان ہے تو صرف ذاتِ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہے۔خود کو سُپر پاور کہنے والے لوگوں اور حکمرانوں کو بھی معلوم ہوا ہوگاکہ اُن کے علاوہ بھی کوئی اور ہےجو حقیقی سُپر پاور ہے اور وہی سُپر پاور پوری دنیااورکائنات کے نظام کو چلارہاہے۔جس کے سامنے انسان کے سارے منصو بےفیل ہوتے ہیں،ساری حکمت ِعملیاںناکارہ ہوجاتی ہیں،ساری کار سازیاں ہیچ ہوتی ہیں اوراورساری ٹیکنا لوجی بیکار پڑجاتی ہے۔کروناوائرس جس کی لپیٹ میں آج پوری دنیا ہے، ایک بلا اور مصیبت ہی نہیں بلکہ بھیانک عذاب ہے اور جن جگہوں پر عذاب نازل ہوتاہے اس سے ہمیں عبرت حاصل کرنا چاہئے،
چنانچہ جب چین کے ایک شہر ووہان ؔ پر یہ عذاب ِ قہر نازل ہوا تو چین کے حکمران بھی یہ طے نہیں کرپائے کہ یہ کیا ہوا ہے اور یہ کیا ہورہا ہے؟ انہوں نے بھرپور احتیاطی تدابیر شروع کردیں اور ہنگامی بنیادوں پر اس عذاب سے باہر نکلنےکے لئے عملی اقدامات کئے اور پوری قوم بامقصد طریقےپر کرونا وائرس کے سامنے ایک سیسہ پلائی دیوار بن گئی ،شاید کائنات کے مالکِ کُل کو اُن کی یہ ادا پسندآگئی اور یہ عذاب چین کے ایک محدود علاقے تک ہی نازل رکھا، گوکہ چین میںاس عذب ِ الٰہی کی زد میں جتنے لوگوں کو آنا تھا ،دہ اس وائرس کا لقمہ بن ہی گئے ۔اس دوران جن لوگوں نے چین پر انگلیاں اٹھائیں اور اُسے ہی اِس وائرس کو پیدا کرنے اور پھیلانے کا ذمہ دار گرداناتو  حکمِ الٰہی کے تحت اس وائرس نے چین سے نکل کر دوسرے ممالک میں ڈیرہ ڈال کر جو تباہی مچادی ہے وہ ہم سب کے سامنے آچکی ہے۔ حالانکہموجودہ زمانے میں انسان کو راحت پہونچانے اوراسکی ہر تکلیف کو دور کرنے کے لئے جتنے آلات اور سامان ایجاد کیے گئے ہیں اور کئے جارہے ہیں،آج سے ساٹھ ستر سال قبل کا یہاں کا انسان اس کا گمان بھی نہیں کر سکتاتھا۔ امراض کےعلاج کے لیے نئی نئی زود اثر دوائیں اور طرح طرح کے انجکشن،بڑے بڑے ماہر ڈاکٹر اور جابجا شفا خانوں کی بہتات اور بہترمعاشی صورت حال کے باوجود مجموعی حالات کا جائزہ لیا جائے تو آج کا انسان پہلے سے بھی زیادہ بیمار ، کمزوراور لاغر دکھائی دیتا ہے۔اگرچہ مختلف وبائی وباؤں کے لئے طرح طرح کے ٹیکے لگوائے جاتے ہیں،حیات بخش ادویات موجود ہیں۔بہتر سے بہتر علاج و معالجے کے لئے بے شمار ہسپتالوں کی لمبی لسٹ ہے،حوادث سے انسان کو بچانے کیلئے متعلقہ محکہ جات قائم ہیں اور مصیبت کے وقت فوری اطلاع اور فوری امداد کے ذرائع و سامان کی فراوانی ہے لیکن کیا بات ہے کہ آج کا انسان حوادث اورآفات کا پہلے سے زیادہ شکار ہوتا جارہا ہے؟وجہ بالکل صاف اور واضح ہے لیکن چونکہ انسان فطرتاً لالچی اور خود غرض ہے ،اس لئے وہ اپنی خامیوں ،خرابیوں ،بُرائیوں ، بد معاشیوںاور فحاشیوں کو قبول نہیں کرتا ۔اُس کی اپنے مالک وخالقِ کائنات سے غفلت اور کھلی نافرمانی اتنی بڑھ گئی ہے کہ نہ تووہ موجودہ سامان ِراحت کو خدا تعالی کا عطیہ سمجھ کر شکر گذار رہتا ہے اور نہ ہی ان سامان کا جائز استعمال کررہا ہے بلکہ ہر سطح پر اور ہر معاملے میںحرب و ضرب کے سامان سمیت اشیائے راحت کا بھی غلط استعمال کرتا چلا جارہا ہےگویاآج کا انسان پوری طرح بغاوت پر آچکا ہے، اس لئے یہ سبھی جدید آلات اور سامانِ راحت کی بہتات اس کے مصیبت میں  کسی کام نہیں آرہی ہےاور وہ پرانے انسان سے بھی زیادہ بے بس اور لاچار ہوگیا ہےجبکہافسوس اس بات کاہے کہ ان ساری چیزوں کو دیکھنے اور سننے کے باوجود ابھی تک بعض لوگ اسے تماشا اور مذاق سمجھ رہے ہیں حالانکہ یہ کوئی تماشاہے اورنہ ہی کوئی کھیل۔یہ صرف بیماری اور وبا نہیں بلکہ اللہ کاعذاب ہے۔دنیوی مصائب اور حوادث عموما انسانوں کےاعمال بد کانتیجہ اور آخرت کی سزاکا ہلکا سانمونہ ہوتے ہیں اوراس لحاظ سے یہ مصائب مسلمانوں کے لئے ایک طرح کی رحمت ہوتے ہیں کہ انکے ذریعے غافل انسانوں کو چونکایا جاتاہےتاکہ وہ اب بھی اپنے اعمال بد کاجائزہ لیکر ان سے باز آنے کی فکر میں لگ جائیںاور اپنی غفلت اور برائیوں سے باز آجائیں۔اپنے تمام مصائب اور تکلیفوں کے دور کرنے کیلئے مادی سامان اور تدبیروں سے زیادہ اللہ تعالی کی طرف رجوع کرے ورنہ انجام وہی ہوگا جو روز مشاہدہ میں آرہاہے کہ ہر تدبیر مجموعی حیثیت سے الٹی پڑتی ہے۔علمائے کرام کے بقول کہ جن آفات ومصائب کو گناہوں کےسبب سے قراردیا ہے اس سے مراد وہ آفات و مصائب ہیں جو پوری دنیا پر یاپورے شہر یاپوری بستی پر عام ہوجائیں، عام انسان اورجانور بھی انکے اثر سے نہ بچ سکیں۔ ایسے مصائب وآفات کاسبب عموما لوگوں میں گناہوں کی کثرت خصوصا ً اعلانیہ گناہ کرنا ہی ہوتاہے۔شخصی اور انفرادی تکلیف و مصیبت میں یہ ضابطہ نہیں بلکہ وہ کبھی کسی انسان کی آزمائش کرنے کے لئے بھی بھیجی جاتی ہےاور جب وہ اس آزمائش میں پورااترتاہے تو اسکے درجات آخرت بڑھ جاتے ہیں۔یہ مصیبت درحقیقت اسکے لیے رحمت اور نعمت ہوتی ہے،اسلئے انفرادی طور پر کسی شخص کو مبتلائے مصیبت دیکھ کر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ بہت گناہ گار ہے، اسی طرح کسی کو خوش عیش وعافیت دیکھ کر یہ حکم نہیں لگایا جاسکتا کہ وہ بڑا نیک، صالح اور بزرگ ہے، البتہ عام مصائب و آفات جیسے قحط،طوفان، وبائی امراض ،گرانی اشیائے ضرورت،چیزوں کی برکت ختم ہوجانا اس کااکثر اور بڑاسبب لوگوں کی ا علانیہ گناہ اور سرکشی ہوتی ہے۔اس لئےجہاں عملی اقدامات اپنی اہمیت رکھتے ہیں وہیں اللہ تعالی کے حضور کثرت سے استغفار کی بھی اشد ضرورت ہے۔ اس وائرس سے نجات کیلئے خصوصی دعائیں کی جائیں، صدقات دیئے جائیں،ایک دوسرے کی مدد کی جائے کیونکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ صدقہ بلائوں کو ٹالتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرلینے میں عافیت ہے کیونکہ سب کچھ بس ایک کُن کا محتاج ہے۔ 
9419443024: