تازہ ترین

طالبان سے مذاکرات :افغان حکومتی وفد میں 5خواتین بھی شامل

29 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

کابل //حکومت افغانستان نے طالبان سے بین فغان مذاکرات کے لئے 5 خواتین سمیت 21 رکنی وفد کو حتمی شکل دی ہے ۔مذاکراتی ٹیم کی قیادت سابق انٹلیجنس چیف معصوم استانک زئی کریں گے جو ایک پشتون کی حیثیت سے طالبان کے ساتھ قبائلی شناخت رکھتے ہیں۔اگرچہ فوری طور پر ابھی تک یہ بات سامنے نہیں آئی کہ سابق چیف ایگزیکٹیوعبداللہ نے اس وفد کی تائید کی ہے یا نہیں تاہم اس وفد میں باتور دوستم بھی شامل ہیں جن کے والد سابق جنگجو عبدالرشید دوستم، عبداللہ عبداللہ کے حلیف تھے ۔دوسری جانب افغانستان کی وزارت امن نے کہا کہ‘ ‘افغانستان صدر اشرف غنی نے وفد کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان پر زور دیا کہ بات چیت کے تمام مراحل میں ملک کے بہترین مفاد، افغان عوام کی مشترکہ اقدار اور متحدہ افغانستان کے اصولی موقف کو مطمح نظر رکھیں۔وفد میں شامل 5 خواتین میں حکومت کی اعلیٰ امن کونسل کی نائب رہنما حبیبہ سرابی بھی شامل ہیں جو ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہیں۔علاوہ ازیں وفد میں ایک خاتون مندوب فوزیہ کوفی بھی ہیں جو عورتوں کے حقوق کی سرگرم کارکن ہیں اور طالبان کے خلاف سخت موقف رکھتی ہیں۔تاہم جہاں ایک طرف اس وفد کا اعلان کیا گیا ہے وہیں ابھی یہ نہیں معلوم کہ یہ بین الافغان مذاکرات کب اور کہاں شروع ہوں گے ۔ادھر عالمی وبا کورونا وائرس کے پیش نظر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ مذاکرات کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے ۔واضح رہے کہ افغان حکومت نے کہا تھا کہ ان کے عہدیدار براہ راست طالبان سے ملاقات کریں گے اور بڑے پیمانے پر قیدیوں کے تبادلہ پر بات چیت کریں گے جس میں 5 ہزار طالبان اور ایک ہزار حکومتی قیدی شامل ہیں۔